منصوعی ذہانت نے کمپوٹر کا سارا نظام خود سنبھال لیا؟ ۔افواہیں اور حقیقت

مصنوعی ذہانت کی نئی صلاحیتیں: حقائق کیا ہیں؟

مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز خبر

ایک موقر قومی جریدے کی حالیہ اشاعت کے دوران ایک خبر سامنے آئی جس کے مطابق مصنوعی ذہانت نے اب وہ صلاحیت حاصل کر لی ہے کہ وہ کمپیوٹر کو خود بخود چلا سکے گی اور اس پر تمام وہ کام انجام دے سکے گی جس کے لیے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس صلاحیت کو اے آئی ایجنٹ کا نام دیا گیا۔

یہ خبر بہت اہم ہے۔ اگر اسے درست مان لیا جائے تو کمپیوٹر سسٹم پہ کام کرنے والے ہزاروں لاکھوں لوگوں کے بیکار ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پہلے ہی بے روزگاری اپنے انتہاؤں کو چھو رہی ہے، اس طرح کی خبر سے یقینی طور پر نوجوانوں میں اضطراب اور پریشانی بڑے گی۔

افواہ یا حقیقت؟

جب ہم نے تحقیق کی اور اس خبر کے حقائق کا مفصل جائزہ لیا تو یہ بات دیکھنے میں آئی کہ مصنوعی زہانت کی سب سے مشہور اور معروف کمپنی چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) نے حالیہ دنوں میں کچھ نئی صلاحیتوں کو تجرباتی طور پر کچھ مخصوص ملکوں میں متعارف کروایا ہے۔ البتہ یہ بات دُرست نہیں کہ چیٹ جی پی ٹی کی یہ نئی صلاحیتیں کمپیوٹر سسٹم کو خود بخود چلا لیں گی یا ماؤس اور کی بورڈ کو استعمال کرنے جیسی صلاحیت حاصل کر لیں گی۔ اور کمپیوٹر کے اندر موجود پروگرامز اور فائلز کو خودکار طریقے سے استعمال کر پائیں گی۔ بات کو ایسے انداز میں پیش کرنا افواہ سازی اور مبالغہ آرائی ہے۔ قارئین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے چٹ پٹی سرخیاں لگانے کا جو سلسلہ چل پڑا ہے، یہ خبر بھی اسی سلسلے کا ایک حصہ ہے۔

چیٹ جی پی ٹی کی نئی حیرت انگیز صلاحیتیں


انسانی معاون کی طرح کام کرنا

چیٹ جی پی ٹی کی اس نئی صلاحیت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ خودکار طریقے سے فلائٹ ریزرویشنز، ہوٹل بکنگ اور مارکیٹنگ ریزرویشنز کروا سکتی ہے۔ یعنی آپ کے کہنے پہ کسی خاص ملک میں جانے والی مختلف فلائٹس کا تجزیہ پیش کرسکتی ہے اور آپ کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان میں سے مناسب فلائٹ کا انتخاب کرکے متعلقہ کمپنی کے ساتھ اچھے نرخوں پہ بکنگ کروا سکتی ہے۔

اسی طرح، اگر آپ سفر کے دوران ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں تو مختلف ہوٹلوں کی سروسز مہیا کرنے والی ایپس کے ساتھ خودکار طریقے سے رابطہ کرکے آپ کی ضرورت کے مطابق آپ کے لیے ہوٹل بک کروانے کے بعد آپ کو کنفرمیشن رپورٹ دے سکتی ہے۔

اسی طرح ریسٹورنٹ بکنگ کے لیے بہت ساری ایپس موجود ہیں اور آن لائن شاپنگ کی بھی بہت ساری ایپس موجود ہیں۔ یہ نئی صلاحیت آپ کی ضرورت کے مطابق ان ایپ سے خودکار طریقے سے رابطہ کرکے آپ کے لیے کسی ریسٹورنٹ میں بکنگ کروا سکتی ہے اور آپ کی ضرورت کے مطابق خریداری کرسکتی ہے۔

دفتری کام کاج میں مزید صلاحیت

ابھی بھی مصنوعی ذہانت سے دفتری کام کاج میں کافی زیادہ ضروری کام لیا جا رہا ہے۔ جس میں ای میلز لکھنا اور دستاویزات کی ڈرافٹنگ شامل ہے۔ لیکن نئی صلاحیت کے مطابق آپ کی آنے والی ای میلز کا خودکار تجزیہ کیا جائے گا، ان میں سے اہم ترین ای میلز کو انتخاب کیا جائے گا اور آپ کی ضرورت کے مطابق ان کا ڈرفٹ تیار کر کے جوابی ای میل ارسال کر دی جائے گی۔

ریسرچ میں سہولت

جو طالب علم کسی موضوع پہ ریسرچ کر رہے ہوتے ہیں انہیں اس موضوع پہ بہت سا ڈیٹا درکار ہوتا ہے اور اس موضوع پہ اس سے پہلے کی گئی ریسرچ کے متعلق مواد چاہیے ہوتا ہے۔ یہ نئی صلاحیت اس میں بہت آسانی پیدا کرے گی۔ انٹرنیٹ سرچ کر کے اور متعلقہ ایپس کو سرچ کر کے آپ کو مطلوبہ ڈیٹا مہیا کیا جائے گا بلکہ اس کا تجزیہ، خلاصہ اور اس کے متعلقہ گرافس بھی تیار کیے جا سکیں گے۔

فارمز اور دستاویزات کی تیاری

مختلف فارم پر کرنا اچھا خاصا وقت طلب کام ہوتا ہے۔ اب یہ نئی صلاحیت آپ کے عداد و شمار کے مطابق کسی بھی فارم کو خود بخود پرُ کر لے گی اور پھر اسے آپ کے معائنے کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اسی طرح مختلف دستاویزات جس میں معاہدے، رپورٹس، منصوبوں کی تجاویز، پریزنٹیشنز اور دوسرے اس طرح کے ڈاکومنٹس شامل ہیں۔ ان کو ڈرافٹ کر کے آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس طرح آپ کا بہت قیمتی وقت بچ سکے گا۔

زبانی ہدایات پہ کام

ایک اور بہت خاص ایریا جس میں کام کیا گیا ہے وہ ہے کہ یہ تمام کام آپ کی زبانی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا، بالکل ایسے جیسے آپ کسی انسانی معاون کو زبانی ہدایات دے رہے ہوں اور آپ کی زبانی ہدایات کے مطابق متعلقہ ایپس پر کام کر کے آپ کو مطلوبہ نتائج فراہم کیے جائیں گے۔

کیا انسانی معاون کی ضرورت ختم ہو جائے گی؟

اُوپر کی ساری گفتگو سے ایک بات تو ظاہر ہے کہ کام کاج کی رفتار میں اب بہت اضافہ اور بے حد آسانی پیدا ہو جائے گی، لیکن کیا یہ سب کچھ کسی انسانی نگرانی کے بغیر ممکن ہو گا؟ شاید ایسا ہر گز نہیں۔

ان تمام کاموں کے لیے انسانی جائزے کی بہرحال ضرورت رہے گی تاکہ چیزوں کو درست طریقے سے کیے جانے کی تسلی کی جا سکے۔ پھر انسانی فیصلہ سازی ہاں یہ ہے کہ پہلے جو کام کرنے کے لیے بہت سارے انسانوں کی ضرورت ہوتی تھی اب وہ کام بہت تھوڑے لوگوں سے لیا جا سکے۔

کیا روزگار کے مواقع کم ہوں گے؟

یہ تو  دُرست ہے کہ پہلے ہی مصنوعی ذہانت اور خاص طور پر جیڈ جی پی ٹی جیسی ایپس کے آ جانے سے لکھنے والے افراد جو تحریر و تصنیف کے شعبے سے وابستہ ہیں ان پہ خاصہ اثر پڑا ہے۔ جہاں اُن کے لیے تحریر و تصنیف میں آسانی  پیدا ہوئی ہے وہاں اب اخبار و جرائط کو زیادہ لکھنے والوں کی ضرورت نہیں رہی۔ ایک مثال انگریزی زبان  میں لکھنے والوں کی ہے۔ پاکستان کی سرکاری علمی اور ساہنسی زبان چونکہ انگریزی ہے اور  ہمارے ملک میں اچھی انگریزی لکھنے والے افراد کی تعداد بھی کم ہے اس لیے پہلے جہاں انگریزی لکھنے والوں کی خاصی ضرورت اور طلب رہتی تھی اور ان کی ایک خاص اہمیت بھی تھی وہاں مصنوعی ذہانت  نے اچھی انگریزی لکھنے والوں کی بالا دستی ایک طرح سے جیسے ختم کر دی ہے۔ اب دفاتر میں انگریزی کی کم مہارت رکھنے والے افراد بھی چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے بہترین دفتری خط و کتابت کر لیتے ہیں اور اچھی دستاویزات تیار کر لیتے ہیں۔ بہت سارے اخبار و جرائط نئے آرٹیکلز کی تحریر اور ایڈنگ کا کافی کام جی جی پی ٹی سے کروا لیتے ہیں ۔ اس صورت حال کا زبان و بیان پر دسترس رکھنے والے ہنر مند نوجوانوں کی طلب اور روزگار کے مواقع پر پہلے ہی کسی حد تک تو اثر پڑا ہے لیکن دفاتر اور اور تحریر و تصنف کا کام علمی  مہارت رکھنے والے لوگوں کی ضرورت سے بلکل بے نیاز نہیں ہوا۔

 مصنوعی ذہانت کی نئی صلاحتیں جو تجرباتی سطح پہ آزمائی جا رہی ہیں کیا ان کے آنے سے ہیومن اسسسٹنٹس کے روزگار کے موقع کم ہو جائیں گے؟ ایک قافیہ تو یہ کہتا ہے ہاں جہاں پہلے اس طرح کے کام کاج کے لیے زیادہ لوگوں کی ضرورت ہوتی تھی وہاں اب لوگوں سے بھی کام چلایا جا سکے گا۔ البتہ قابل اور مہارت رکھنے والے انسانوں کے روزگار پہ کوئی بہت زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ کوئی مشین انسانی فہم، زبان و بیان اور جذبات کی باریکیوں کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جیسے ہم نے پہلے کہا ہے کہ انسانی فیصلہ سازی اور اس سے وابستہ انسانی پہلوں کو صرف اور صرف انسان ہی دیکھ سکتے ہیں۔

ایک اُمید یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے  پیداوار میں تیزی آ جائے گئی اور مہارتوں کے نئے شعبے وجود میں آہیں گے ایسے میں ترقی پذیر ممالک میں کاروبار پھیلنے اور وسیع ہونے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

حاصلِ گفتگو

مصنوعی ذہانت کی نئی صلاحیتیں کام کی رفتار اور پیداواریت میں بے پناہ اضافہ کریں گی، لیکن یہ انسانی فہم، جذبات اور فیصلہ سازی کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات بھی روشن ہیں۔

اس خبر کی مزید تفصل انگلش آرٹیکل میں پڑھیئے

    Read Previous

    نیم حکیم عامل اور جعلی ڈاکٹر، لوگ پھنس کیسے جاتے ہیں

    Read Next

    پاکستان میں صحت کے تین اہم مسائل: کیا آپ ان سے محفوظ ہیں؟

    Leave a Reply

    آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

    Most Popular