
لیکن وہ نہیں جو بچے اب سکولوں میں پڑھتے ہیں
صبح کا آغاز توپوں میں ڈال کر گولے داغنے سے ہوتا ہے، پھر بوٹوں کی دھمک سے دھرتی لرز اٹھتی ہے۔ طرح طرح کے جدید ہتھیاروں کی نمائش کی جاتی ہے، اور پھر ایک دو بوجھل تقریروں اور جہازوں کی اُلٹی سیدھی قلابازیوں کے ساتھ یہ تقریب ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن یہ سب دھوم دھڑکا ہوتا کس لیے ہے؟ بتایا جاتا ہے کہ اس دن ہند کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ منٹو پارک میں ہزاروں لاکھوں افراد اکٹھے ہوئے تھے اور “لے کے رہیں گے پاکستان” کی صدائیں بلند کی تھیں۔ یہ قراردادِ لاہور تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہم اب اس قرارداد کی منظوری کی یاد میں ہر سال یہ دن مناتے ہیں۔
یہ بھی ٹھیک ہے، لیکن 23 مارچ کو جب پہلی دفعہ سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا گیا تو اس کی وجہ قراردادِ لاہور نہیں تھی بلکہ یہ وجہ کچھ اور تھی۔ دراصل قیامِ پاکستان کے بعد سے ہم ملک کا انتظام انگریز بہادر کے بنائے ہوئے 1935 کے قانون سے چلاتے آ رہے تھے۔ ہاں، ہم نے اپنا آئین بنانے کی کوشش ضرور کی تھی اور قراردادِ مقاصد کے ذریعے اس کے خدوخال کا اعلان بھی کر دیا تھا، لیکن یہ بات آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔
نیا مُلک نئے جھگڑے
مسئلہ ایک نہیں تھا، کئی تھے۔ مولوی حضرات، جن کی اکثریت تو اس ملک کے بننے کے ہی خلاف تھی، اب مطالبہ کر رہے تھے کہ “پاکستان کا مطلب کیا” والی بات پوری کر کے دکھائیں۔ قائداعظم نے چونکہ پاکستان کو اسلامی طرزِ زندگی کی تجربہ گاہ بنانے کا بھی کہا تھا، اس لیے مولوی صاحبان نے یہ تجربہ بھی فوراً شروع کر دیا۔ اور ایک گروہ کو غیرمسلم قرار دینے کے لیے جلسے جلوس اس شدت سے شروع ہوئے کہ کئی شہروں میں کرفیو لگانے تک کی نوبت آگئی۔ دوسری طرف مسلم لیگ کے کچھ ماڈرن مسلمان آئین اور پاکستان کو ماڈرن دیکھنا چاہتے تھے۔ پھر صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا مسئلہ الگ تھا، اردو-بنگالی کا تنازعہ بھی اپنی شدت اختیار کر چکا تھا۔ ایسے میں آئین ساز اسمبلی کے وہ اراکین، جو اپنے انتخابی حلقے سابقہ متحدہ ہندوستان کے علاقوں میں چھوڑ آئے تھے، اب پریشان تھے کہ ان کا نیا انتخابی حلقہ، اثر یا ووٹ بینک کہاں ہوگا۔ لہٰذا وہ آرام سے وقت گزارے جا رہے تھے۔
معاملات بے شمار تھے، لیکن ہمیں اپنے موضوع کے ساتھ جڑے رہنا ہے اور ہمارا موضوع وہ غیرمتوقع واقعہ ہے جو ان سارے مسائل کے درمیان رونما ہوا، اور وہ یہ کہ 1956 میں پہلا جمہوری آئین منظور کر لیا گیا۔
یادگار دن
اس آئین کا اطلاق 23 مارچ 1956 کو ہوا اور ہم نے اس دن کو ری پبلک ڈے یعنی یومِ جمہوریہ کے طور پر منانا شروع کر دیا۔ پاکستان عالمِ اسلام کا پہلا ملک تھا جس نے اپنے آپ کو اپنے آئین میں باقاعدہ طور پر اسلامی جمہوری ملک قرار دیا۔ آئین بھی خاصا اچھا تھا—عام حقِ رائے دہی، بنیادی انسانی حقوق اور آزاد عدلیہ کی ضمانت دیتا تھا۔
لیکن ہمیں زیادہ دن نہ آئین راس آیا، نہ جمہوریت۔ پہلے صدرِ جمہوریہ سکندر مرزا نے 1958 میں آئین منسوخ کر دیا، اور پھر جرنیلِ جمہوریہ ایوب خان نے سکندر مرزا کو بھی جمہوریت اور آئین سمیت منسوخ کر ڈالا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ یومِ جمہوریہ کا کیا کیا جائے؟ یار لوگوں نے چھان پھٹک کی تو پتہ چلا کہ مسلم لیگ کا ایک اجلاس لاہور میں ہوا تھا جس میں پاکستان بنانے کی قرارداد 23 مارچ والے دن پیش کی گئی تھی (اگرچہ یہ منظور بعد میں ہوئی)۔

سو مسئلہ حل ہو گیا۔ ایوب خان نے 23 مارچ کو یومِ پاکستان منانے کا اعلان کیا اور قراردادِ لاہور کی منظوری کی جگہ پر ایک بڑا مینار تعمیر کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ یومِ جمہوریہ کا قصہ ڈان اخبار نے اپنے ایک مضمون میں چھاپا ہے، جبکہ نیشن اخبار نے اپنے ایک آرٹیکل میں قراردادِ لاہور کی اہمیت اور مینارِ پاکستان کی پوری کہانی شائع کی ہے۔
پتہ نہیں کیوں ہم سب 23 مارچ کی اصلی کہانی کو تو اب بھول چکے ہیں، البتہ قراردادِ لاہور کی میناروں سے بھی اونچی عظمت کا رعب ہمارے دلوں میں اب ہمیشہ کے لیے موجود ہے۔
5 Comments
Bahot vaddhea research.
Website di vi bahot mubaarak
Allah paak kaamyaab kare
بہت شکریہ پال صاحب، نالے ایس ویب سائٹ تے پہلا کمنٹ تواڈا ای آیا اے یقنن برکت آلا ہوئے گا۔
بہت خوب لکھا ہے۔ نئی نسل تک درست تاریخ پہنچانی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو پسند نہ آئے لیکن یہ کام جاری رہنا چاہیے۔
بہت شکریہ ہم سن مل کر اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے، انشااللہ
بہت اچھا بھائی جان