نیا سال نئے ارادے، پاکستان میں کامیابی کیسے؟


Making New Year Resolutions Successful in Pakistan

نیا سال ایک بار پھر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اور 2026 کے تروتازہ چہرے پہ ایک سوال بھی لکھا ہوا ہے

وہ یہ کہ کیا یہ سال بھی صرف تاریخ کی تبدیلی بن کر رہ جائے گا، یا اس سال ہم واقعی اپنی زندگی میں کوئی بامعنی تبدیلی لا پائیں گے؟

مصروف قارئین کے لیے خلاصہ (اہم نکات)

ہر سال کے آغاز پر اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ارادے باندھے جاتے ہیں، لیکن تحقیق کے مطابق تقریباً اسی فیصد لوگ جنوری کے آخر تک ہی ان ریزولوشنز کو ترک کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ریزولوشنز اکثر مبہم خواہشات کی شکل میں ہوتے ہیں۔ انہیں تحریری طور پر واضح اہداف مقرر کر کے تشکیل نہیں دیا جاتا۔ ان کو کامیاب بنانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی جاتی، اور پھر ان کا باقاعدہ، مثلاً ہفتہ وار یا ماہانہ، جائزہ لینے کا بھی کوئی پروگرام نہیں بنایا جاتا۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ اپنے ریزولوشنز کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو انہیں واضح طور پر طے کریں اور تحریر کریں۔ یہ اہداف ایسے ہوں کہ انہیں ناپا جا سکے اور ان کا حساب رکھا جا سکے۔ یہ مقاصد ایسے ہوں کہ کچھ محنت کر کے انہیں حاصل کیا جا سکے، نہ کہ ناقابلِ عمل خیالات ہوں۔

یہ مقاصد وہ ہوں جن کی آپ کو حقیقی طور پر ضرورت ہو، نہ کہ وہ جن کا تعلق صرف رواج یا فیشن سے ہو۔ پھر یہ کہ انہیں مکمل کرنے کے لیے ایک واضح ٹائم فریم مقرر کیا جائے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے ریزولوشنز کو پاکستان میں دستیاب سہولتوں، موجود مشکلات اور یہاں کے خاص حالات کے مطابق ترتیب دیں۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ انسانی زندگی کو کسی جادو کی چھڑی سے یکدم نہیں بدلا جا سکتا۔ انسانی رویہ، مزاج اور طرزِ عمل دراصل چھوٹی چھوٹی اور اکثر آٹومیٹک بن چکی عادات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ انہیں بدلنے کے لیے ایک ایک کر کے نئی مفید عادات کو زندگی میں شامل کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے وقت اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی نئے سال کے آغاز پر بہتر زندگی کے خواب دیکھنا، نئے ارادے باندھنا اور خود سے پختہ عزم کرنا ایک عام روایت ہے۔ ہم صحت، کیریئر، تعلقات، وقت کی تنظیم اور ذاتی بہتری کے کئی وعدے خود سے کرتے ہیں، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ان میں سے اکثر ارادے چند ہفتوں یا مہینوں میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ارادے کیوں کرتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں نبھا کیوں نہیں پاتے؟

یہ مضمون اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہاں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان میں مؤثر اور قابلِ عمل نیو ایئر ریزولوشنز کیسے ترتیب دی جائیں اور پھر انہیں محض کاغذی خواہش بننے کے بجائے عملی کامیابی تک کیسے پہنچایا جائے۔ ساتھ ہی ہم اس حقیقت پر بھی غور کریں گے کہ نئے سال کے آغاز پر کیے گئے زیادہ تر ارادے آخر کیوں ٹوٹ جاتے ہیں، اور انہیں قائم رکھنے کا عملی راستہ کیا ہو سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ اپنی ساخت، مزاج اور اقدار کے اعتبار سے منفرد ہے۔ یہاں زندگی کے فیصلے صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ والدین، رشتہ دار، بچے اور سماجی دائرہ بھی ان میں براہِ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی سوچ، مذہبی حوالہ جات اور معاشرتی دباؤ ہمارے فیصلوں کو ایک خاص سمت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ریزولوشنز جو مغربی معاشروں میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہی نسخہ پاکستان میں بھی یکساں طور پر مؤثر ہو۔

اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے سماجی حقائق، مسائل اور دستیاب سہولتوں کو سامنے رکھ کر نئے سال کے اہداف طے کریں۔ اس مضمون میں ہم مرحلہ وار یہ جائزہ لیں گے کہ پاکستانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر، حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل نیو ایئر ریزولوشنز کیسے بنائی جا سکتی ہیں—اور سب سے اہم بات، انہیں مستقل مزاجی کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار کیسے کیا جا سکتا ہے۔

  آئیے دیکھیں کہ بہتر انداز میں نئے سال کی ریزولوشنز بنانے کے لیے عمدہ حکمتِ عملی کیا ہو سکتی ہے اور ان ریزولوشنز کو کامیابی سے کیسے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ساتھ  اس بات کا بھی جائزہ لیتے جاتے ہیں کہ پاکستان کے خاص حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بہتر نیوئیئر ریزولوشن کیسے بنائی جا سکتیں ہیں جو کامیاب بھی ہوں۔

نئے سال کے عزائم کا مظلب کیا ہے

نئے سال کے عزائم یعنی نیوئیئر ریزولوشن کا مطلب ہے کہ فرد اپنی زندگی میں کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یا اپنی عادات کو بدلنے کے لیے اور اپنے رویہ میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ایک واضح عہد کرے۔ یہ خود کو بہتر بنانے کی ایک شعوری کوشش ہوتی ہے۔

کیا نیو ائیر ریزولوش بنانا واقعی فائدہ مند ہے؟

لیکن یہ کیا واقعی فائدہ مند ہے اور کیا نیوئیئر ریزولوشن ترتیب دینے سے انسان کی زندگی میں واقعتاً کوئی بہتری پیدا ہوتی ہے؟ ماہرین کی ریسرچ کے مطابق جو لوگ اپنی زندگی کے کچھ واضح مقاصدطے کر لیتے ہیں اور کچھ واضح اہداف حاصل کرنے کا تعین کر لیتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں عمومی طور پر زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو بغیر کسی منصوبے کے زندگی گزارتے ہیں۔

جہاں  تک نیو ائیر کے ارادوں پر قائم رہنے کی بات ہے تو ان کے کامیاب ہونے کے بارے میں تحقیق کے نتائج کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں، یونیورسٹی آف سکیریٹن کی ایک رپورٹ کے مطابق نیوائیر  ریزولوشن یعنی نئے سال کے لیے عزائم کرنے والے افراد میں تقریباً آٹھ فیصد لوگ اپنے  مقاسد کو کامیابی سے حاصل کر لیتے ہیں تاہم ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ اسی فیصد افراد فروری کے مہینے کے اختتام تک ہی اپنے عزائم کو ترک کر دیتے ہیں۔ اس ناکامی کی بڑی وجوہات کیا ہیں یہی ہمارے اس آرٹیکل کا یہی موضوع ہے

نیو ائیر ریزولوشن ناکام کیوں ہوتے ہیں؟

ناکامی کی بڑی وجوہات یہ ہیں

غیر حقیقت پسندانہ ارادے کر لینا: عام طور پر جن مقاصد کا تعین کیا جاتا ہے وہ قابل حصول نہیں ہوتے یا اپنی استطاعت سے زیادہ بڑے مقاصد طے کر لیے جاتے ہیں۔مثلاً یہ کہ دو ماہ میں دس کلو وزن کم کر لوں گا۔ اب کولڈ ڈرنک کو کبھی ہاتھ نہیں لگاؤں گا، بس آج سے چینی ختم، اب روزانہ چھ گھنٹے پڑھنا ہے اور آدھی تنخواہ کی بچت ہر ماہ کرنی ہے۔ یہ بڑے بڑے دعوے یہ سوچ کر لیے جاتے ہیں کہ جیسے ارادہ کرنے کی ہی دیر تھی اور اب جب ٹھان لی ہے تو سب ہو جائے گا۔ ایسے ناقابلِ عمل عزائم انسانی عادات واطواد اور طرزِ عمل Behavior  کی نفسیات سے لاعلمی کا نتیجہ ہوتے ہیں اور جلد ناکام ہو جاتے ہیں۔

غیر متعین ارادے:  جیسے یہ کہ اس سال میں نے اپنی صحت بہتر بنانی ہے، اس سال انشاللہ خراب عادتیں چھوڑ دوں گا، اب پڑھائی پہ زیادہ توجہ دوں گا وغیرہ۔  یہ طے نہیں ہوتا کہ آپ کیا مخصوص کام کب کس مقدار میں  اورکتنی دیر کے لیے کیا کریں گے، کیا طے شدہ نتیجہ حاصل کرنا ہے۔ ایسے ارادے ناکامی کا سامنا ہی کرتے ہیں۔ جبکہ واضح طور پر طے کردہ ارادہ مثال کے طور پر یہ ہوتا ہے کہ میں ہفتے میں کم از کم از چار دن تیس منٹ تک واک کروں گا۔

منصوبہ بندی کا فقدان: یعنی یہ کہ ان مقاصد کے حصول کی کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں کی جاتی اور عملی اقدام پر مبنی کوئی خاص حکمت عملی ترتیب نہیں دی جاتی ۔ اپنے ارادے پہ عمل کے لیے کب کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں ان سے کیسے نپٹنا ہے۔ اپنی کارکردگی کا جائزہ کب اور کیسے لینا ہے یہ سب منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ دل میں پنپنے والی خواہشیں جب ٹھوس منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کی سٹیج پر نہیں پہنچتں تو یہ سدا خواہشیں ہی رہتی ہیں۔

سب کچھ پورا پورا یا کچھ بھی نہیں  کی سوچ: یعنی ہم اپنے خوابوں میں بسی دنیا کا سب کچھ اور وہ بھی فوراً حاصل کرنا چاہتے ہیں ایک بھاری بھرکم جسم کی جگہ سیڈول سمارٹ باڈی طاقتور خوشنما پٹھے اور وۂ بھی بس ایک دو ماہ میں، ایسا معجزہ کم از کم اس دُنیا میں تو نہیں ہوتا۔ کسی بھی طرح کے مقاصد کا حصول ایک مسلسل عمل ہے اور من چاہا نتیجہ آہستہ آہستہ اور قسطوں میں ملتا ہے اور وہ بھی نتائج کے حصول کی بے صبری کے بغیر عمل کا تسلسل قائم رکھنے سے۔ ہاں جب یہ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں گذرتے وقت ساتھ اکٹھی ہو جاہیں تو پھر ایک بہت بڑی تبدیلی کا منظر آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔

اندرونی شدید لگن کی کمی: آپ میں تبدیلی اور بہتری وہی آئے گی جو آپ کی کسی شدید ضرورت سے جڑی ہوئی گی اور اُس کا آپ کی ذات سے براہ راست تعلق ہو گا۔ رواجی اور فینسی خواہشات جن کا تعلق آپ کی ضرورتوں سے نہ ہو وہ آپ میں لگن جذبہ اور مو ٹیوشن پیدا نہیں کر سکتیں۔ ایک مثال یہ ہے کہ وہ لوگ جو زندگی بھر واک اور ورزش کے نزدیک نہیں جاتے اُنھیں جب ڈاکٹر تجویز کر دیتے ہیں کہ بھئی اگر اب زندہ رہنا ہے تو ہلنا جلنا پڑے گا تو وہی لوگ آپ کو پارکوں میں ہانپتے دوڑتے نظر آتے ہیں۔

چُپکے سے کامیابی کی خواہش: کچھ لوگ خاموشی سے کچھ کرنا اور کر دیکھانا چاہتے ہیں۔ جبکہ ذات میں بہتری کے ارادے کا باقاعدہ اعلان کیا جاے تو اس کے نتائج اچھے نکلتے ہیں۔ پاکستان جیسے مُلک میں گھر والوں اور دوستوں عزیزوں کی مدد کی بہت ضرورت ہوتی ہے آپ سب کو بتاہیں کہ آپ نے کیا ارادہ کیا ہے تو آپ پہ اس کی تکمیل کا اخلاقی دباؤ بھی آئے گا اور آپ کو یاد دہانی کرنے والے لوگوں کی کمی بھی نہیں ہو گی۔

یاددہانی کے نظام کا نہ ہونا: اگر آپ نے ارادہ بس اپنے دل میں کیا ہے اسے نہ تو کہیں لکھ کر رکھا ہے نہ اسے دیکھتے اور یاد کرتے رہنے کا کوئی نظام مقرر کیا ہے تو یقنا بہت جلد بھول جائے گا۔ پھر یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ارادے کی شدت میں کمی آتی جاتی ہے اور یہ بھی کہ جب اپنے طے شدہ مقاصد کو بار بار اپنے ذہن میں دوہرایا نہیں جاتا تو وہ بھول جاتے ہیں۔

یہ جنوری یا پھر اگلی جنوری: خود گری اور اصلاح ذات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ کوئی نئی صلاحیت سیکھنے یا کسی اچھی عادت کو اپنانے کے لیے کسی نئے سال، جنوری فروری بڑے بھائی کی شادی اور اگلی گرمیوں کی چھٹیوں کا انتظار نہیں کیا جاتا، نہ ہی اپنی بہتری کو مخصوص تاریخوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔ کسی  نئی اچھی گھڑی کا انتظار کرنے بیٹھ جانا بھی ہمارے ارادوں کو تکمیل سے دور کر دیتا ہے۔

نئے سال کے عزائم ترتیب دینے اور کامیاب بنانے کے سُنہری اُصول

چند اہم نفسیانی پہلوں سےآگاہی

آپ جیسے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں وہ بڑی حد تک دراصل خود کار عادات کا مجموعہ ہوتا ہے حتحکہ آپ کی اکثر سوچیں بھی دراصل خاص طرح سے سوچنے کی عادتیں ہیں۔ جس کسی عمل سے ہماری کوئی جسمانی یا ذہنی طلب پوری ہوتی ہے۔ اور وہ عمل مسلسل دہرایا جاتا ہے تو ہمارا دماغ اسے ایک خود کار عادت بنا دیتا ہے کیونکہ اس طرح یہ عمل بغیر زیادہ ذہنی توانائی صرف کیے آسان طریقے ہوتا رہتا ہے۔

یہاں اس پورے طریقہ کار کو بیان کرنے کا موقع نہیں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ خراب عادتیں مسلسل تکرار سے پختہ ہو چکی ہوتی ہیں اس لیے ان کو بدلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹے مگر مسلسل اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی نئی اچھی عادت اپنانے کے لیے بھی اسے چھوٹے چھوٹے اقدامات steps کی شکل میں مسلسل دہرانا پڑتا ہے۔ اس ایک مسلسل عمل کوسمجھنا اور مسلسل عمل کی صورت میں ہی انجام دینا پڑتا ہے۔

اگر صرف ادارہ کر لینے سے اچھی عادت اپنائی جا سکتیں تو آج آپ کو کسی میں کوئی خرابی نظر  نہ آتی۔ اس لیے دھیان اس بات پر دیں کہ آپ نے ایک اچھا مسلسل عمل کرتے جانا ہے اور نتائج کے لیے فکر مند نہیں ہونا۔ آپ نے سُنا ہوگا کہ سفر ہی دراصل منزل ہے۔

توجہ نتائج کے بجائے مسلسل عمل پراسس پہ ہو گی تو ناکام نہیں ہوں گے!

اگر آپ کا دھیان جلد از جلد کوئی نتیجہ حاصل کرنے پہ ہے تو یہ نتیجہ حاصل نہ ہونے کو آپ ناکامی کہیں گے لیکن اگر آپ کی توجہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے بہترعمل کیے جانے پہ ہے تو اگر کبھی اس عمل میں تعطل آجائے تو آپ آسانی سے اس عمل کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں جب تک آپ اس عمل کو کرتے چلے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور کسی وقفے یا تعطل کے بعد دوبارہ شروع کر لیتے ہیں تو اسے ناکام ہونے کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یعنی ناکامی کے احساس سے پچنے کے لیے آپ کی توجہ جلد نتیجہ صاصل کر لینے پر نہیں بلکہ مقصد کے حصول کے لیے ضروری عمل کیے جانے پہ ہونی چاہے۔

بات کو آسان کرنے کے لیے یوں کہیں کہ دس کلو وزن کم کرنے کا نتیجہ فوری پر حاصل کرنے  پہ توجہ دینے کے بجائے آپ واک اور ورزش کو ایک مسلسل عمل سمجھ کے کرتے رہیں کبھی وقفہ آجائے تسلسل ٹوٹ جائے تو دوبارہ شروع کر لیں۔ دس کلو کمی کی منزل پا لینے کے لیے بے چین نہ ہوں، آپ لگے رہے تو آج نہیں تو کل مطلوبہ نتیجہ تو بہرحال حاصل ہو جائے گا۔

 نیوئیئر ریزولوشنز ترتیب دینے کے بہترین طریقے

  اب آتے ہیں نیوائیر ریزولوشن ترتیب دینے کے لیے عملی مشوروں کی جانب۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اپنے عزائم  کو ترتیب دیتے وقت انیہ یہاں جن انگریزی لفظوں کا پہلا حرف لے کر لفظ سمارٹ بنایا گیا ہے وہ یہ ہیں SMART  کا نام دیا گیا ہے ان کو الگ لگ دیکھیں تو اس میں پہلا نقطہ ہے  

 طے شدہ اور مخصوص Specific

  یعنی عزائم واضح ہوں مثال کے طور پر اگر آپ وزن کم کرنے کا عزم کرنا چاہتے ہیں تو صرف یہ ارادہ کرنا کہ وزن کم کرنا ہے کافی نہیں بلکہ یہ مکمل تفصیلی ارادہ کرنا چاہیے کہ مجھے اگلے تین مہینوں میں کل پانچ کلو وزن کم کرنا ہے جو ہر مہینے ایک خاص تعداد میں کم کیا جائے گا۔

قابل پیمائش Measurable 

 یعنی آپ جو بھی ارادہ کریں ناپا تولا جا سکے، اسے عداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جا سکے جسےاگر آپ وزن کم کرنے کی بات کرتے ہیں تو آپ اگر ہر مہینے ایک خاص وزن کم کرنے یا ہر ہفتے ایک خاص حد تک وزن کم کرنے کا ارادہ کر لیتے ہیں تو پھر اس کو ہفتے کے آخر میں یا مہینے کے آخر میں باقاعدہ ناپا جا سکتا ہے۔

قابلِ حصول Achievable

نیوز ائیر ریزولیشنز میں ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ آپ جو بھی عزائم ترتیب دیں وہ حقیقت پسندانہ ہوں۔  یعنی وہ مقاصد بنائیں جو آپ کی صلاحیتوں اور موجودہ صورتحال میں  آپ کی قوت ارادی سے مطابقت رکھتے ہوں غیر حقیقت پسندانہ اور بہت بڑے بڑے ارادے بنا لینا اور بڑے بڑے مقاصد حاصل کرنے کی ٹھان لینا ان کی ناکامی کا سبب بن جاتا ہے۔

متعلقہ Relevant:

 اُس چیز کے لیے عہد کریں جو آپ کے لیے بے حد اہم ہو، جو آپ کی زندگی اور آپ کی ضرورت سے مکمل طور پر جڑی ہوئی ہو جس کی تکمیل کے لیے آپ کے اندر ایک فطری خواہش ہو۔ اگر آپ اس طرح کی ریزولیشن ترتیب دیں گے تو اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

مدت اور معیاد کے تابع Time Bond

مدت اور میعاد کے تابع : آخری نقطہ ہے وقت کا تقرر یعنی کسی عزم کے مکمل کرنے یا اس کے خاص حصے کو پورا کرنے کے لیے کے لیے  خاص وقت یا دورانیے  کا تعین کیا گیا ہو اور واضع طور پر طے کیا گیا ہو یہ مقصد کتنی مقررہ مدت کے اندر حاصل کر کیا جائے گا۔ ظاہر ہے اگر کسی وجہ مطلوبہ مقصد طے شدہ مدت میں حاصل نہیں ہوتاتو تکمیل کی معیاد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اس طرح ان الفاظ یعنی specific, measurable, achievable, relevant اور time bound پہلے حروف کو ملا کے لفظ سمارٹ بنتا ہے یوں ان نقاط کو آسانی سے یاد بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ہمیشہ ذہن میں رہنا چاہیے آپ کے طے شدہ مقاصد سمارٹ طریقے کے مطابق ہوں۔

اہم ترین بات، مقاصد کو چھوٹی چھوٹی عادات میں بدل کر ان کو باری باری اپناتے جانا۔

انسانی صلاحتوں کی بہتری کی دنیا کی تہلکہ خیز کتاب ATOMIC HABITS کا مصنف کہتا ہے آپ اپنی طرز زندگی، طرزِ عمل، عادت اور اسلوب کو صرف ارادے کی قوت سے نہیں بدل سکتے۔ آپ کی زندگی آپ کی گزرتے وقت کے ساتھ اپنا لی گئی خود کار عادات کے تحت چلتی اور اکثر اوقات آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ آپ جو کر رہے ہیں کیوں کر رہے ہیں۔

کسی عادت کا بننا اور اس کا ترک کرنا ایک پچیدہ عمل ہے۔ ( ہم کسی اور مضون میں اس پر بھر پور بات کریں گے)  البتہ آسان بات یہ ہے کہ آپ اپنے میں جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں اس کو چھوٹی چھوٹی اور آسانی سے اپنائی جا سکنے والی عادات میں بانٹ لیں پھر طے شدہ عمل کو تسلسل سے دُہراتے رہیں یہاں تک کہ وہ آپ کے خود کار نظام کا حصہ بن جائے۔اس کا بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنی کسی اچھی یا نیوٹرل عادت کے ساتھ اُس نئی عادت یا عمل کو جوڑ لیں جیسے آپ اپنانا چاہتے ہیں۔

اس  کی ایک مثال دانت برش کی نئی عادت اپنانا ہے آپ پہلے سے جو کام روزانہ کرتے ہیں مثلاً ہاتھ منہ دھونا آپ اُس کے ساتھ اس نئے عمل یعنی دانت بُرش کرنے کو جوڑ لیں اور دہراتے جاہیں عام طور پر تیس سے ساٹھ بار دہرائے جانے سے کوئی بھی عمل عادت کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس طرح اچھی عادت کو اکٹھا کرتے جانے سے زندگی کے بڑے طرزِعمل اور رویے تبدیل ہو سکتے ہیں اور اس طرح آپ اپنے طے شدہ مقاصد حاصل کر لیتے ہیں۔

جائزہ لینا

آپ کا کاروبار پڑھائی یا جاب بھی اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک آپ وقفے وقفے اس کی ترقی ناکامی یا روکاوٹوں کا جائزہ لینے کا کوئی نظام نہیں بناتے، پھر آپ کی ذاتی زندگی میں لائی جانے والی تبدیلیاں ان کی پروگریس کا مسلسل جائزہ لیے بغیر کیسے کامیاب ہو سکتی ہیں!

نیو ائیر ریزولوشن اور پاکستان کا ماحول

اگر پاکستانیوں کی اکثریت کی بات کریں تو مقصد طے کر کے منظم زندگی گزارنا ان کے معمول کا حصہ  نہیں۔ جبکہ ترقی بافتہ دنیا میں اپنا وقت اور اندازِ زندگی کافی حد تک منظم کیے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔ لیکن اب پاکستان میں منظر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ معاشی مشکلات نے اپنے آپ کو اور اپنے کام کاج کومنظم کر کے محنت کرنا ایک مجبوری بنا دیا ہے۔ اس معاشرے میں جو لوگ جدید طرزّ زندگی اپنا رہے ہیں اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور نئے ہنر سیکھ رہے ہیں اہی جلد ترقی کر کے کامیاب انسان بن رہے ہیں۔ 

پاکستان میں تعمیرِ ذات کرنے کے لیے مشکلات: سب سے بڑی مشکل تو معاشی حالات اور سہولیات کا فقدان ہے مثلاً آپ ورزش کے لیے جم جانا چاہیں تو یا تو قریب میں ایسی سہولت موجود نہیں ہو گی یا پھر جم کی فیس دیکھ کر آپ کا ارادہ ٹھنڈا پڑھ جائے گا۔ وزن کم کرنے کے لیے کم کیلوریز والی خوراک کھانا چاہیں تو ہمارے گھی آئل سے بھرے روایتی کھانے اور پکانے کا طریقہ راستے میں حائل جاتا ہے۔ پھر کھانا تو آپ نے وہی ہے جو دوسرے سب گھر والوں کے لیے پکے گا۔ شادی بیاہ دعوتیں بھی آپ کا ڈئٹ پلان خراب کرنے کے لیے آ پہنچتی ہیں۔

پاکستان کی مخصوص سہولتیں: 

پاکستان میں فیملی سسٹم ایک بہت بڑی سہولت ہے جس سے آپ فاہدہ اُٹھا سکتے ہیں آپ اپنا دکھ سکھ اہل خاندان کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں اور اگر اُن کو اعتماد میں لیں تو وہ زندگی کے اچھے طور طریقے اپنانے میں آپ کی مسلسل حوصلہ افزائی کر سکتے۔

اپنی عزائم کو پاکستانی ماحول میں کامیاب کرنے کے لیے نقاط: 

دوستوں عزیزوں کی حوصلہ افزائی: پاکستانی معاشرے کے مضبوط پہلوں کو اپنے حق میں استمعال کریں آپ نے اپنی زندگی کے لیے جو نیا عزم کیا ہے اس کے بارے میں اپنے عزیزوں دوستوں گھر والوں کو دھیمے انداز میں ضرور آگاہ کریں۔ اُنھیں یہ بھی بتائیں کہ آپ بہت جلد کسی بڑی تبدیلی یا نتیجے کی توقع نہ رکھیں بس نئے اپنانے گے طرزِعمل میں حوصلہ افزائی کریں۔ جو لوگ منفی باتیں کرتے ہیں اُن پہ دھیان دینے کی کیا ضرورت ہے مثلاٌ یہ کہ ” دیکھو نیو ائر ریزولوشن کا کچھ فائدہ نہیں اپنے سے کیا وعدہ ٹوٹے گا تو ایک اور خراب عادت یعنی وعدہ توڑنے کی نئی عادت پیدا ہو جائے گی وغیرہ” چونکہ ان باتوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں انھیں مت سُنیں۔ لوگ یہ بھی کہں گے وزن کم کرنے کا کیا فائدہ یہ تو دوبارہ بڑھ جائے گا، ایسے منفی تبصروں پر دھیان مت دیں کیونکہ آپ تو صرف ایک عمل شروع کرنا چاہ رہے ہیں رُک گیا تو دوبارہ شروع کر لیں گے اس لیے پریشانی کیسی۔

مذہبی اور روحانی سوچ سے فاہدہ حاصل کریں: پاکستان جیسے معاشروں میں مذہبی طرز فکر اور ایمان کی طاقت ایک اہم مثبت پہلو ہے اگر آپ سوچ لیں کہ آپ اپنی بہتری کے لیے جو کچھ بھی کریں گے قدرت اس میں آپ کی مدد کرے گی تو یہ سوچ آپ کے بہت کام آئے گی۔ یہ روحانی تصور کہ صبر اور حوصلہ پسندیدہ اعمال ہیں بھی آپ کو لگن کے ساتھ اپنے ارادے سے جُڑا رہنے میں مدد دے گا۔

اس دہائی کے ابتدائی پانچ سال پاکستان کے نوجوانوں کے لیے کچھ زیادہ جوش اور ولولے کے حامل نہیں رہے۔ عالمی حالات میں ناپسندیدہ تناؤ اور ملکی سطح پر ایک جمود اور پُرمژدگی کا عالم رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی بےروزگاری، تعلیمی خرچوں میں بے پناہ اضافہ اور تقریباً نہ ہونے کے برابر تفریح کے مواقع نے پُراُمیدی اور ولولہ انگیزی کی ُاس فضا کو ختم کر دیا ہے جو اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم ان حالات کو اپنی ذاتی زندگیوں پر حاوی ہونے دیں گے تو ملکی اور عالمی حالات میں کوئی بہتری تو نہیں آ جائے گی۔ البتہ ذاتی سطح پر ہمیں اپنی اس کیفیت کا نقصان ضرور ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، اپنے حالات کو بہتر بنائیں اور 2026 کو ایک نئے عزم اور ولولے کا سال بنائیں۔ جب افراد باصلاحیت ہوں گے تو ملک بھی بہتری کی طرف جائے گا اور دنیا کے حالات پر بھی مناسب طریقے سے اثر انداز ہونے میں اپنا حصہ ڈالا جا سکے گا

خلاصہ 

نیو ایر ریزولوشن کا مطلب نئے سال کے آغاز پر اپنی زندگی کی بہتر بنانے اور اچھی عادتیں اپنانے کے لیے خود سے عہد کرنا ہے۔ یہ ایک پرانا رواج ہے جس کا آغاز بائبل اور رومن روایت سے ہوا۔ باقی معاشروں میں بھی اس ملتے جلتے خیالات موجود ہیں۔ سال نو کے آغاز پہ اپنے آپ سے کچھ عہد کرنے کا فائدہ تو یہ ہے کہ مقاصد کا واضع تعین ہو جاتا ہے اور ساہنسی تحقیق کے مطابق مقاصد goals طے کر زندگی گزارنے والے لوگ بغیر  مقاصد طے کیے زندگی گزارے والوں سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی سچ ہے کہ اکثر نیوائر ریزولوشنز فروری کے وسط تک ترک کر دی جاتی ہیں۔ ناقابلِ حصول غیر واضع، اور غیر متعلقہ اردادے بندھنا پھر ان کا جائز نہ لینا یا جلد مطلوبہ نتیجہ نظر نہ آنے پر بد دل ہو جانا اس ناکامی کی اہم وجوہات ہیں۔ البتہ اگر عزائم اس طرح بنائے جاہیں کہ نتائج کے حصول کی بے صبری کے بجائے بہتری کے مسلسل عمل کو اہمیت دی جائے۔ عزائم SMART اصول کے مطابق واضح طور پر طے شدہ، قابلِ پیمائش، قابلِ حصول، اپنی ضرورت اور طلب کے مطابق اور ایک خاص مدت میں مکمل کیے جانے والے ہوں تو اُن میں  بہتر طور پر کامیاب ہوا جاسکتا ہے۔

پاکستان کا اپنا مخصوص معاشرتی ماحول ہے اس کے مساہل کا سامنا کرنے کی پیشگی تیاری کر لیں اور یہاں کی سہولتوں مثلاً خاندان اور مہذہبی عقائد کی مدد کو اچھے طریقے سے استمعال میں لاہیں تو یقینی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

تاریخی پس منظر

آخر میں اس موضوع میں گہری دلچسبی رکھنے والے قارئین کے لیے نیو ایر رزولیوشن کا تاریخی پس منظر بھی بنان کیا جا رہا ہے تاکہ وہ مکمل آگاہی حاصل کر سکیں اس روایت کا آغاز تقریباً چار ہزار سال قبل قدیم بائبل میں ہوا۔ وہاں کے لوگ نئے سال کی تقریبات کے دوران دیوتاؤں سے وعدہ کرتے تھے کہ وہ اچھے انسان بنے بنیں گے، اپنے قرض واپس کریں گے، اپنے معاملات دُرست کریں گے اور اپنے آپ کو بہتر بنایں گے۔ بعد میں یہ روایت رومی سلطنت کے دور میں بھی جاری رہی جہاں جنوری کے مہینے کو دیوتا جینس کے نام سے منسوب کیا گیا جو نئے آغاز اور تبدیلیوں کا دیوتا تھا۔

آج یہ روایت دنیا بھر میں پھیل چکی ہے اور نئے سال کے آغاز پر لوگ مختلف اقسام کے عزائم ترتیب دیتے ہیں، جیسے صحت مند زندگی گزارنا باقائدگی  سے ورزش اور واک کرنا، مالی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بہتر حکمتِ عملی تشکیل دینا یا نئے ہنر سیکھنا۔ نئے سال کے عزائم کا مقصد زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ 

سر زمین ِ پاکستان میں خود سے عہد کیے جانے کی پُرانی تاریخ ہے۔ برصغیر  انڈیا اور پاکستان کی تاریخ میں ایسے واقعات کثرت سے ملتے ہیں جب اہم شخصیت نے خود  سے عہد کیا کہ جب تک فلاں علاقہ فتح نہ کر لیں یا کوئی خاص کارنامہ انجام نہ دے لیں تب تک وہ  فلاں فلاں  دنیاوی لذتوں سے دور رہیں گے۔ مسلمانوں کی عبادت روزہ بھی دن بھر ناپسندیدہ کاموں سے پچنے  اور اچھائی پر قائم رہنے کے پکے عزم کی ہی ایک شکل ہے

اگر آپ اس موضوع کے بارے میں آپ ہم سے کو ئی ذاتی راہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے ضرور رابطہ کیجیے ۔ ہاں کمنٹس میں یہ ضرور بتائیے کہ اس سال آپ نے کوئی نیو ایر زیزولیشن بنایا ہے؟ اگر بنایا ہے تو کیا؟

Read Previous

پنجاب دی سیاست تے پنجابیت دا نعرہ

Read Next

لوہڑی، آپ اس تہوار کے بارے میں کیا جانتے ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular