پاکستان اور ایک نئی طرح کے مزدور
<مزدور کا لفظ سن کر خیال ہمیشہ مشینوں، ملوں اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کی طرف جاتا ہے۔ پسینے سے شرابور بدن، شور مچاتی مشینیں، اینٹ اور سیمنٹ کی گرد—یہی وہ منظرنامہ ہے جو ہمارے اجتماعی شعور میں “مزدور” کی تعریف بن چکا ہے۔
مگر کیا مزدور صرف وہی ہے جو کارخانے کی بھٹی کے سامنے کھڑا ہو؟
کیا محنت صرف وہی ہے جو ہاتھوں سے دکھائی دیتی ہے؟
حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ—اور کہیں زیادہ تلخ ہے۔
پاکستان میں ایک نئی طرح کے مزدوروں کا ایک ایسا وسیع اور خاموش طبقہ موجود ہے، جو نہ صرف تعداد میں بڑا ہے بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے—اور اس کے باوجود، وہ ہماری سماجی اور سیاسی توجہ سے تقریباً خارج ہے۔
اعداد و شمار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں سروس سیکٹر کا حصہ تقریباً 57 سے 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو اسے معیشت کا سب سے بڑا ستون بناتا ہے۔ Pakistan Bureau of Statistics اور World Bank کے اندازوں کے مطابق ملک کی کل افرادی قوت کا تقریباً نصف—یعنی 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد—اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔
لیکن ان کروڑوں افراد کے اندر ایک اور دنیا آباد ہے—ایک ایسی دنیا جو نہ مکمل طور پر “ملازمین” کی ہے، نہ تسلیم شدہ “مزدوروں” کی۔ یہ ایک درمیانی خلا ہے، جہاں محنت تو ہے، مگر شناخت نہیں؛ کام تو ہے، مگر تحفظ نہیں۔
یہ نئے مزدور کون ہیں؟
دن کے کسی بھی وقت سڑک پر نظر دوڑائیں تو آپ کو ایک مخصوص وردی میں ملبوس موٹر سائیکل سوار تیزی سے اپنی منزل کی طرف جاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ وہ وقت کے خلاف ایک دوڑ میں شامل ہیں—ہر آرڈر کے ساتھ ان کی روزی جڑی ہے، اور ہر تاخیر ان کے رزق کو کم کر دیتی ہے۔
شام کو کسی ریسٹورنٹ میں چلے جائیے—صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس نوجوان، چہروں پر مصنوعی مسکراہٹ لیے، آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ وہ آپ کے ایک اشارے پر حرکت میں آ جاتے ہیں، مگر ان کی اپنی زندگی کسی اور کے اشارے کی محتاج ہوتی ہے۔
صبح کے وقت اگر کسی پلازے کے باہر موٹر سائیکلوں کی لمبی قطار کھڑی دیکھیں تو سمجھ لیجیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اس شہر کی معیشت کو چلانے کے لیے روزانہ ایک خاموش ہجرت کرتے ہیں—یہ سیلز مین ہیں، نائب قاصد ہیں، کلرک ہیں، رنرز ہیں۔
اور اگر آپ ذرا اندر جھانکیں تو میڈیا ہاؤسز، دفاتر اور مارکیٹوں میں بھی یہی منظر نظر آئے گا:
رائیڈرز، سیلز مین، ویٹرز، آرڈر ٹیکرز، نائب قاصد، چھوٹے درجے کے کلرک، کیمرہ مین، لائٹ مین، ڈرائیور—یہ سب ایک ایسی محنت کش دنیا کے کردار ہیں جو دکھائی تو دیتی ہے، مگر سمجھی نہیں جاتی۔

شہری سروس سیکٹر کا ایک نمائندہ چہرہ
یہ سب کم تنخواہ یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ International Labour Organization کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں غیر رسمی معیشت (informal economy) کا حجم 70 فیصد سے زائد ہے—یعنی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو بغیر کسی قانونی تحفظ کے کام کر رہے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو کسی چھوٹے کاروباری کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں، اور کسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کا حصہ بھی—مگر ان کی حالت میں بنیادی فرق نہیں ہوتا۔ کمپنی کا نام بڑا ہو سکتا ہے، مگر مزدور کی حیثیت نہیں۔
تحفظ کے بغیر مزدور

محنت اور شناخت کے درمیان ایک گہرا تضاد
یہ وہ لوگ ہیں جو عملی اعتبار سے محنت مشقت کرنے والے مزدور ہیں—مگر ان کے پاس مزدور ہونے کا کوئی اعتراف نہیں۔
نہ ان کی کوئی ٹریڈ یونین ہے، نہ انہیں کسی لیبر قانون کا حقیقی تحفظ حاصل ہے۔ ان کی بڑی تعداد کسی باقاعدہ کنٹریکٹ کے بغیر کام کر رہی ہے، اور ان میں سے اکثر کا کہیں کوئی ریکارڈ تک موجود نہیں۔
یہ ایک ایسی محنت ہے جو معیشت کو سہارا دیتی ہے، مگر قانون کی نظر میں غیر مرئی رہتی ہے۔
ان میں سے کسی کو بھی ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ ان کی نوکری محض ایک غیر تحریری معاہدہ ہے—“جب تک آپ کام کے ہیں”۔
کسی بھی وقت، کسی بھی وجہ کے بغیر، انہیں فارغ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں سوشل سیکیورٹی کے نظام—جیسے Employees’ Old-Age Benefits Institution— کا دائرہ کار بھی زیادہ تر رسمی ملازمین تک محدود ہے۔ نتیجتاً، یہ کروڑوں لوگ بیماری، حادثے یا بڑھاپے کی صورت میں مکمل طور پر بے سہارا رہ جاتے ہیں۔
یہ وہ طبقہ ہے جسے دنیا precariat کہتی ہے—یعنی ایک ایسا غیر محفوظ مزدور طبقہ، جو مستقل بے یقینی میں جیتا ہے۔
پاکستان اور ایک نئی طرح کے مزدو
پرانے مزدور اور نئے مزدور: ایک بدلتی ہوئی سیاست
روایتی مزدور طبقہ ہمیشہ سے نظر آنے والا طبقہ رہا ہے۔ کارخانوں کی سیٹی کے ساتھ اس کی زندگی جڑی رہی، اور یونین کے جھنڈے تلے اس کی آواز نے سیاست میں جگہ بنائی۔
ٹریڈ یونینز، جلسے، نعرے—یہ سب اس طبقے کی شناخت تھے۔ ان کے مسائل واضح تھے:
اجرت میں اضافہ، کام کے اوقات، صنعتی تحفظ۔
اور اسی وضاحت نے انہیں سیاست میں ایک قوت بنایا۔
مگر اب ایک نیا منظر ابھر رہا ہے—خاموش، منتشر، اور بظاہر غیر منظم۔
یہ نئے مزدور نہ کسی یونین کے رکن ہیں، نہ کسی فیکٹری کے گیٹ پر جمع ہوتے ہیں، نہ ہی کسی مخصوص سیاسی جھنڈے کے نیچے پہچانے جاتے ہیں۔ مگر ان کی تعداد زیادہ ہے، ان کی موجودگی ہر جگہ ہے، اور ان کی بے چینی کہیں زیادہ گہری ہے۔
یہ نوجوان ہیں—شہری ہیں—کسی حد تک تعلیم یافتہ ہیں—اور سب سے بڑھ کر، یہ اپنی محرومی کو سمجھتے ہیں۔
ان کے مسائل صرف تنخواہ تک محدود نہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں:
– کیوں قانون سب کے لیے برابر نہیں؟
– کیوں کرپشن ایک نظام بن چکی ہے؟
– کیوں محنت کے باوجود زندگی آگے نہیں بڑھتی؟
یہ وہ سوالات ہیں جو روایتی مزدور سیاست کے دائرے سے باہر نکلتے ہیں۔
اسی لیے یہ طبقہ سیاسی طور پر بھی مختلف سمت میں حرکت کرتا ہے۔ یہ صرف "روٹی، کپڑا، مکان” کے نعرے پر نہیں رکتا—یہ "انصاف”، "احتساب” اور "برابری” کے نعروں کی طرف مائل ہوتا ہے۔
شہری پاکستان میں سیاسی رجحانات کی تبدیلی—خاص طور پر نئی جماعتوں کی مقبولیت—کو اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔
یہ ایک ایسی خاموش سیاسی طاقت ہے، جو ابھی مکمل طور پر منظم نہیں، مگر اگر اسے نظر انداز کیا گیا تو یہ کسی بھی وقت ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
ابھرتا ہوا مطالبہ کرنے والا طبقہ
1. ملازمت کا تحفظ
یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کی محنت کو وقتی نہ سمجھا جائے۔
یہ چاہتا ہے کہ اس کی ملازمتیں باقاعدہ معاہدوں کے تحت آئیں، اس کے کام کے اوقات متعین ہوں، اور اسے کسی بھی لمحے بے وجہ بے دخل نہ کیا جا سکے۔
یہ دراصل صرف روزگار نہیں، بلکہ وقار (dignity) کا مطالبہ ہے۔
2. سماجی انصاف
یہ طبقہ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔
یہ دیکھتا ہے کہ ایک ہی شہر میں دو دنیائیں آباد ہیں—ایک میں مواقع کی فراوانی، اور دوسری میں بنیادی سہولتوں کی کمی۔
یہ اس تقسیم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ چاہتا ہے:
– قانون کی مساوی عملداری
– انصاف تک یکساں رسائی
– اور ایک ایسا نظام جہاں کامیابی کا دار و مدار تعلقات نہیں، صلاحیت ہو
3. کرپشن سے پاک معاشرہ
یہ طبقہ کرپٹ ایلیٹ کو سخت نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔
اس کے نزدیک کرپشن صرف ایک اخلاقی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کی اپنی محرومی کی جڑ ہے۔
یہ جانتا ہے کہ جب وسائل لوٹے جاتے ہیں تو اس کا اثر سب سے پہلے اسی پر پڑتا ہے—اس کی تنخواہ پر، اس کی نوکری پر، اس کے مستقبل پر۔
اسی لیے، خصوصاً نوجوانوں پر مشتمل یہ طبقہ ایک ایسے معاشرے کا خواہاں ہے جہاں احتساب حقیقی ہو، اور قانون طاقتور اور کمزور میں فرق نہ کرے۔
ایک نظر انداز شدہ طاقت
معیشت کے اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ سروس سیکٹر بڑھ رہا ہے، مگر سیاست اور پالیسی سازی ابھی تک اس کے اندر موجود اس نئے مزدور کو پہچاننے میں ناکام ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو شہروں کو چلاتے ہیں—مگر شہروں کے فیصلوں میں شامل نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معیشت کو سہارا دیتے ہیں—مگر معیشت کی منصوبہ بندی میں ان کی کوئی آواز نہیں۔
یہ ایک ایسا تضاد ہے جو زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

ایک ایسا طبقہ جو شہر کو چلاتا ہے مگر خود تنہا رہ جاتا ہے
ضرورت کس امر کی ہے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، سیاسی جماعتیں اور پالیسی ساز اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ مزدور کی تعریف بدل چکی ہے۔
مزدور اب صرف فیکٹری کا کارکن نہیں—وہ رائیڈر بھی ہے، ویٹر بھی، کلرک بھی، سیلز مین بھی، اور وہ ہر وہ فرد ہے جو اپنی محنت بیچ کر بھی عدم تحفظ کا شکار ہے۔
– ان کے لیے سوشل سیکیورٹی کے نظام کو وسعت دی جائے
– ملازمتوں کو باقاعدہ کنٹریکٹ کے دائرے میں لایا جائے
– اور ان کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے
ساتھ ہی، اس ابھرتی ہوئی نئی سماجی و سیاسی طاقت کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔ ان کے مطالبات کو منشور کا حصہ بنایا جائے، اور اس بڑے شہری، نوجوان اور محنت کش طبقے کو پالیسی سازی کے مرکز میں رکھا جائے۔
آخری سوال
کیا آپ اس طبقے کو مزدوروں کی صف میں شامل سمجھتے ہیں؟
یا ہم ابھی تک ایک پرانی تعریف کے اسیر ہیں—اور ایک نئی حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں؟
