
Three Major Health Issues In Pakistan; are you safe?
پاکستان میں صحت کے مسائل تو لاتعداد ہیں لیکن ہم جن تین بڑے مسائل کا ذکر کر رہے ہیں، ان کا تعلق حکومت کی ناقص پالیسیوں، ہسپتالوں کی حالتِ زار، ڈاکٹروں کی لاپروائی اور لالچ، اور ناقص دوائیوں سے نہیں ہے۔ ان کا تعلق ہمارے اور آپ کے طرزِ فکر اور پاکستانیوں کے عمومی رویے سے ہے۔ یہ مسائل دیکھنے میں تو عام سے لگتے ہیں لیکن آپ کو جو نقصان پہنچا رہے ہیں، وہ شاید شعبۂ صحت سے متعلق اور خرابیوں کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ آپ کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ تین بڑے مسائل کیا ہیں اور آپ ان سے آسانی کے ساتھ کیسے بچ سکتے ہیں
اپنی صحت سے لاپروائی
اپنی صحت سے بے پرواہ رہنا دنیا بھر میں ایک مسئلہ ہے لیکن پاکستان میں اس کی شدت کسی بھی پیمانے کے سب سے اوپری درجے پر ہے۔ پاکستان میڈیکل جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق 77 فیصد پاکستانی طُلبا میں سیلف کئیر کا معیار غیر تسلی بخش پایا گیا۔ ہمارے معاشرے میں ہم سب کچھ قدرت پر چھوڑے اُس وقت تک چلتے رہتے ہیں جب تک ہلکان ہو کر گر نہ جائیں۔ صرف ایک مثال دیکھنی ہو تو کسی ڈینٹسٹ سے پوچھ لیں؛ وہ بتائے گا کہ ہمارے پاس بندہ خود کبھی نہیں آتا، اُسے صرف شدید درد کھینچ کر لاتی ہے۔ ورنہ اس مُلک میں باقاعدگی سے دانت برش کرنے والے کتنے فیصد لوگ ہیں؟
یورپ سے لوٹ کر آنے والے لوگ ہمیں سڑکوں پر نیکریں پہن کر جاگنگ کرتے (دوڑتے) لوگوں کے قصے مزے لے کر سناتے ہیں اور وہاں لوگوں کی عام صحت اچھی ہونے کی وجہ سے خالی پڑے ہسپتالوں کا ذکر مبالغے سے کرتے ہیں۔ لیکن وطنِ عزیز میں کتنے لوگ ہیں جو باقاعدگی سے واک یا ورزش کرتے ہیں؟
اسی طرح مرض کی معمولی علامات کو نظر انداز کیے رکھنا ہمارے مزاج کا حصہ ہے۔ متوازن خوراک لینا اور مضر و غیر مفید غذاؤں سے بچنا ہماری عادت میں شامل نہیں۔ جبکہ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم نے جسم کے لیے ضروری اجزا کی روزانہ کی مقدار حاصل کر لی ہے۔
ذہنی صحت کا خیال رکھنا بھی ہمارے ہاں کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ ذہن اگر انتشار، پریشانی، اور دباؤ کا شکار ہوگا تو آپ کا پورا نظامِ زندگی بگڑ جائے گا۔ ذہنی مسائل کا اثر براہِ راست جسم پر پڑتا ہے۔ پھر بھی ہم معمولی زکام کے لیے تو ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں لیکن پیچیدہ ذہنی مسائل کے حل کے لیے ماہر نفسیات سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
لاپروائی کی سوچ کو بدلیں
اپنی ذات کی بہتری اور اپنے ذہن و جسم کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ وقت پر لگایا گیا ایک ٹانکا دیر سے کی گئی لمبی رفوگری سے بچا لیتا ہے۔ اپنی صحت کے تحفظ کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا، حفاظتی اقدامات کا خیال رکھنا، اور بروقت کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا وہ سادہ اقدامات ہیں جن سے آپ اپنی صحت کا بہتر خیال رکھ سکتے ہیں۔

نیم حکیم اور جعلی ڈاکٹر
پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں جعلی ڈاکٹروں، نیم حکیموں، اور عامل پیروں کا مسئلہ عروج پر ہے۔ دیہات، قصبوں، اور گلی محلوں میں ان غیر سند یافتہ ڈاکٹروں، بے علم حکیموں، اور فوری شفا کے دعویدار عاملوں کے ٹھکانے آباد ہیں۔ ان اڈوں کی رونق وہ غریب لوگ ہیں جو معیاری علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے یا پھر وہ ضعیف العقیدہ افراد ہیں جو مسائل کے جادوئی حل کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان نوسربازوں کا شکار وہ لوگ بھی ہو جاتے ہیں جو پیچیدہ طبی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور جن کا جدید علاج طویل اور بعض اوقات کم مؤثر ہوتا ہے۔
عطائیوں اور نیم حکیموں سے جان چھڑائیں
میڈیکل سائنس اب بہت ترقی کر چکی ہے، جبکہ اکثر نیم حکیموں کے علاج کا طریقہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ یہ خیال غلط ہے کہ کسی نیم حکیم یا عامل پیر کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے چکر میں پڑ کر مرض کی تشخیص میں دیر ہو سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں علاج مہنگا اور مشکل ہو جاتا ہے۔ آخر کار لوگ مجبور ہو کر مریض کو کسی ہسپتال لے جاتے ہیں۔ جہاں مرض کے ایڈوانس اسٹیج پر پہنچنے کی وجہ سے علاج کا خرچہ کئی گنا بڑھ چکا ہوتا ہے۔
خود سے دوائیاں لینا
:
پاکستان میں جس آسانی سے ہر طرح کی دوائی میڈیکل اسٹور سے بغیر نسخے کے مل جاتی ہے، اُس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگ خود کو ہی ڈاکٹر سمجھ بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹر نے جو دوائی کبھی کسی مرض کے لیے لکھ کر دی تھی، اُس بیماری سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہونے پراُسی دوائی کو بار بار استعمال کیا جانے لگتا ہے۔ حالانکہ درجنوں بیماریاں ہیں جو بخار کا سبب بنتی ہیں، اور کئی امراض ہیں جن کی وجہ سے کھانسی، زکام، یا سردرد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ غلط دوائی لینے سے اصل مرض تو ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ مزید بگڑ جاتا ہے اور اُس دوائی کے اپنے سائیڈ ایفیکٹس الگ نقصان پہنچاتے ہیں۔
اپنی صحت کی ذمہ داری لیں:
حکومت کا یہ فرض ہے کہ علاج معالجے کی سہولیات کو عام اور مؤثر بنائے تاکہ لوگ ڈاکٹر سے کترانے اور عطائیوں کے پاس جانے سے بچ سکیں۔ لیکن سب سے اہم ذمہ داری ہماری اپنی ہے کہ ہم اپنی صحت کے تحفظ کے لیے بنیادی اقدامات کریں اور اس آگاہی کو اپنے دوستوں اور عزیزوں تک پہنچائیں۔
ان تینوں مسائل پہ تفصیلی معلومات نیچے درج پوسٹوں میں دی گئی ہیں