ماں اور خدا کی رحمت کا تصور۔ ایک دلچسب سائنسی تحقیق

ماں اور خدا کی رحمت کا تصور

ایک دلچسپ سائنسی تحقیق

کیا انسان نے خدا کی محبت اور رحمت کو پانے کے لیے آسمانوں کی طرف دیکھنے سے کہیں پہلے اسے ماں کی آغوش میں محسوس کیا؟

جدید ارتقائی تحقیق انسان کی فطرت کے متعلق کئی پرانے تصورات کو چیلنج کر رہی ہے۔

مذہبی اور روحانی تعلیمات انسان کے متعلق اپنے انداز میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرتی رہی ہیں، لیکن سائنس ہمیشہ اس کھوج میں رہی کہ انسان کی اصل فطرت کیا ہے؟
کیا یہ اپنے جوہر میں محبت، شفقت اور احسان پروری کا پُتلا ہے یا ایسا جاندار کہ جنگ و جدل، مار دھاڑ اور چھینا جھپٹی جس کی گھٹی میں پڑی ہے؟

وحشی انسان: ابتدائی تصور

جب معاشرتی علوم (Social Sciences) اور علمِ عمرانیات (Anthropology) کے ماہرین نے انسان کی ابتدائی تاریخ کو جانچنا شروع کیا تو انہیں انسانی گروہوں کی باہمی چپقلش، قتل و غارت اور بقا کی ایک ایسی دائمی جنگ کا منظر نظر آیا کہ یہ خیال عام ہونے لگا کہ انسان دراصل وحشت اور بربریت کا پتلا ہے۔ یہ بقا، جنسی برتری، وسائل اور طاقت کے حصول کے لیے کشمکش کی نہ ختم ہونے والی جبلت کا اسیر ہے۔

عقل کے معلمِ اخلاق ہونے کی سوچ

پھر اس پر غور شروع ہوا کہ انسان میں اچھائی کا تصور کہاں سے پیدا ہوا؟ پُرامن بقائے باہمی اور عدم تشدد کا پرچار کیسے شروع ہوا؟ اخلاقی ضابطے اور قوانین کس طرح تشکیل پائے؟ اور انسانی حقوق کا ایک ڈھانچا کیوں کر ابھر کر سامنے آ گیا؟

پہلے غالب خیال یہی تھا کہ انسانی عقل اور شعور نے جوں جوں ترقی کی اور نہ ختم ہونے والی مار دھاڑ کے شدید نقصانات سامنے آنے لگے تو انسانوں نے اخلاقی ضابطے اور قوانین تشکیل دینا شروع کیے۔

ماہرین کا خیال تھا کہ اخلاقی اُصولوں اور قانونی ضابطوں کے وجود میں آنے کا عمل اگرچہ منظم مذاہب کے ظہور سے بھی بہت پہلے شروع ہو چکا تھا، لیکن اس اخلاقی اور قانونی نظام کو الہامی اتھارٹی اور وسیع پیمانے پر پذیرائی مذاہب کے ظہور میں آنے کے بعد ملی۔

مختصر یہ کہ یہ خیال پختہ ہو چکا تھا کہ انسان تو نرا وحشی ہے، بس اس کے ارتقا پذیر شعور نے اس جن کو کسی حد تک کوزے میں بند کیا ہوا ہے۔

سائنسی تصور کی کایا پلٹ

البتہ یہ کھوج کاری جاری رہی اور پھر معاشرتی علوم کے چند ماہرین نے اس پورے تصور کی بنیادوں کو چیلنج کر دیا۔

ابتدائی انسان اور باہمی تعاون
ابتدائی انسانی بقا صرف طاقت سے نہیں بلکہ باہمی تعاون، تحفظ اور اجتماعی نگہداشت سے ممکن ہوئی۔

مائیکل توماسیلو (Michael Tomasello) نے اپنے مشہور مقالے Origins of Human Cooperation میں ثابت کیا کہ انسانی جبلت میں مقابلہ تو ضرور ہے، مسابقت بھی ہے، لیکن اس کی اصل، یعنی انسانی فطرت کی بنیاد، باہمی تعاون، دوسروں سے شفقت اور ہم آہنگی بھی ہے۔

اس کی دلیل یہ تھی کہ انسان کی ابتدائی ارتقا اور ایک گروہ میں سلامت رہنے کی ایک بنیادی ضرورت یہ تھی کہ تمام انسان آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ یہ ضرورت یوں پروان چڑھی کہ وقت کے عمل کے ساتھ انسانی جبلت، یعنی انسٹنکٹ (Instinct)، کا بنیادی حصہ بن گئی۔

اس نظریے کی مزید وضاحت اور سب سے اہم بات سارہ بلیفر ہارڈی (Sarah Blaffer Hrdy) نے کی، جو کہ آج ہمارے مضمون کا بنیادی نکتہ بھی ہے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب Mothers and Others میں لکھا کہ انسانوں میں تعاون، محبت اور شفقت کو ان کی جبلت کا حصہ بنانے میں بنیادی کردار ماں کی ممتا کا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام جانداروں میں انسان ہی ایسی اسپیشیز، یا جانداروں کی قسم ہے، جس کا بچہ سب سے ناتواں پیدا ہوتا ہے اور جسے لمبے عرصے تک مسلسل سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سہارا خاندان کے سب افراد کو بلکہ تمام گروہ اور کمیونٹی کو دینا پڑتا ہے، لیکن اس کا بنیادی منبع ماں ہوتی ہے۔

ماں کی غیر مشروط محبت، شفقت، پیار اور احساس وہ عمل ہے جس سے انسانی بچہ محبت، تعاون اور شفقت کا شعور حاصل کرتا ہے بلکہ کمیونٹی کے سارے افراد بھی اسی طرزِ عمل کو دیکھ کر یہ احساس اور یہ عمل اپنی ذات کا حصہ بناتے ہیں۔

پھر ہزاروں لاکھوں سال کے مسلسل ارتقائی عمل نے اس طرزِ عمل کو انسانی جبلت کا بنیادی حصہ بنا دیا۔

جبلت کی بنیادی تشریح یہ ہے کہ وہ طرزِ عمل جس کو سیکھنا نہ پڑے بلکہ یہ کسی بھی جاندار میں اندرونی طور پر خودکار انداز میں موجود ہو۔ ارتقائی انداز میں جبلت کی تشکیل کا عمل یوں ہوتا ہے کہ جو طرزِ عمل ایک نسل کی بقا میں مثبت کردار ادا کرے وہ اگلی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے، اور یوں ہزاروں لاکھوں سال کے عمل سے گزرنے کے بعد انسان کے خودکار اندرونی نظام کا حصہ، یعنی جبلت بن جاتا ہے۔

عقلِ عیار کا نیا روپ

بعض مفکرین، مثلاً Jeremy Griffith، اس بحث کو مزید آگے لے جاتے ہیں۔ اپنی معروف کتاب Freedom: The End Of The Human Condition میں انہوں نے بہت چونکا دینے والے خیالات کا اظہار کیا۔ nico

ان کا کہنا ہے کہ جس عقل و شعور کو ہم اخلاقی ضابطوں اور قوانین کا منبع اور موجد سمجھتے ہیں، وہی دراصل انسانی بگاڑ کی بڑی وجہ بھی بن گیا۔

ان کے مطابق انسانی شعور (Consciousness) اور عقلی صلاحیتوں (Cognitive Abilities) کی اعلیٰ سطح پر ارتقا اور ترقی سے پہلے انسان بنیادی طور پر ممتا کے جذبے سے تشکیل پانے والی باہمی تعاون اور شفقت کی جبلت کے غلبے میں تھا اور بہت حد تک پُرسکون زندگی گزار رہا تھا۔ گویا یہ علامتی جنت تھی کہ نسلِ انسانی اس میں سکون اور چین سے رہ رہی تھی۔ ہم زیادہ تر خودکار جبلتوں کے زیرِ اثر تھے۔

پھر شعور اور عقلی تجسس نے ترقی کی اور انسان نے اپنی بنیادی جبلت سے آگے سوچنا شروع کیا۔ اس نے اپنے دل سے پوچھا کہ کیا کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے؟ چیزوں کو اور کس طرح سے کیا جا سکتا ہے؟

سادہ لفظوں میں انسانی شعور، عقلی صلاحیتوں اور نئے طریقے جان لینے کے عمل نے، اور پھر اوزار ایجاد کر لینے سے جن سے دوسروں کو قابو میں لایا جا سکتا تھا، ایک نئی صورتِ حال پیدا کر دی۔ اس نے ضرورت سے زیادہ وسائل اور لامحدود طاقت کے حصول کی کشمکش کو وسیع پیمانے پر بڑھا دیا اور ایک بڑے فتنہ و فساد اور چھینا چھپٹی کے دور کا آغاز ہو گیا۔

جنتِ گم گشتہ

یعنی تجسس اور مزید جاننے کے “جرم” میں انسان اپنی سابقہ جنت نما اور پُرسکون زندگی سے نکل کر لامحدود طاقت اور ہوس کی “شیطانی” قوتوں کا نشانہ بن گیا۔

تو کیا ہمارے اندر کی باہمی تعاون، محبت اور شفقت کی جبلت ختم ہو گئی؟

نہیں۔ ماں کی مہربان ممتا کے زیرِ اثر یہ جبلت موجود رہی اور یہ ہمارے اندر کی آواز بن گئی جو ہوس و بربریت سے ہمیں روکتی اور ٹوکتی رہی۔

ماں: منبعِ محبت اور رہبرِ اخلاق

ماں کی آغوش، رحمت اور روحانی سکون
انسان شاید سب سے پہلے محبت، تحفظ اور رحمت کو ماں کی آغوش میں محسوس کرتا ہے۔

ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ممتا کے زیرِ اثر جنم لینے والی جبلت ہی دراصل اچھائی اور برائی کے تصور اور انسانی اخلاقی ضابطوں کے تشکیل پانے کا باعث بنی۔ مذاہبِ عالم نے خدا کی رحمت اور محبت کا جو تصور دیا، وہ ممتا کے اس شفیقانہ احساس سے پوری طرح ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے جو لاکھوں سال کے ارتقائی عمل کے نتیجے میں تشکیل پذیر ہوا۔

تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ آسمانوں کی طرف نظر اٹھانے سے پہلے انسان نے اپنے رب کی رحمت کو ماں کی آغوش میں محسوس کیا۔

انسانی فطرت: نوری و ناری کا ملاپ

اس موقع پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ جدید تحقیق کے مطابق انسان میں صرف باہمی تعاون کی واحد جبلت ہی موجود نہیں بلکہ اس کے متوازی مسابقت اور مقابلے کی جبلت بھی اپنا وجود رکھتی ہے۔

اس طرح انسان میں دو بنیادی طاقتور جبلتیں موجود ہیں:

1۔ باہمی تعاون کی جبلت، جو ممتا کے جذبے سے فروغ پائی۔
2۔ باہمی مقابلے کی جبلت، جو صرف عقلی ہتھکنڈوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنے طور پر بقا کو قائم رکھنے والی ایک طاقتور جبلت ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ یہ دونوں جبلتیں انسان کی زندگی اور فطرت کا حصہ ہیں، اور یہ دونوں اپنی اپنی جگہ انسانی بقا میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اسی طرح ہم Jeremy Griffith کی اس بات سے بھی مکمل طور پر متفق نہیں ہو سکتے کہ عقلِ انسانی نے ہماری باہمی تعاون کی جبلت میں رخنہ ڈالا اور انسانی شعور اور عقلی صلاحیتیں ہی ہماری موجودہ داخلی کشمکش اور خارجی فتنہ و فساد کی اصل ذمہ دار ہیں۔

زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود دونوں جبلتوں نے عقلِ انسانی کو اپنے اپنے انداز میں استعمال کیا۔ باہمی تعاون کی جبلت نے عقل و شعور کو استعمال کر کے اخلاقی ضابطے اور انسانی فلاح کے قوانین بنائے، جبکہ مسابقت اور مقابلے کی جبلت نے دوسروں پر قابو پانے کے طریقے، اور مخالفوں کو زیر کرنے کے اوزار اور ہتھیار بنائے۔

رحمتِ ربی اور ٹھنڈی چھاؤں

اگر اپنے موضوع پر واپس آئیں تو یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہمارے خطے اور ہمارے اپنے ملک پاکستان کی ثقافت میں ماں کا احترام بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور اس کا درجہ بہت بلند ہے۔

تو کیا یہ محض اتفاق ہے کہ انسان پرستی اور عدم تشدد کی سب سے زیادہ زوردار آوازیں بھی اسی خطے سے بلند ہوئیں، چاہے وہ گوتم بدھ کے نظریات ہوں یا ہمارے قریبی دور کے صوفیا اور بزرگوں کے خیالات۔

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ بعض ماہرین کے مطابق ابتدائی انسانی معاشروں میں نسبتاً مادرمرکزی رجحانات موجود تھے، اور ایسے معاشرے مقابلتاً زیادہ پُرامن سمجھے جاتے ہیں۔

آخری بات یہ کہ ہمارا معاشرہ تو ہمیشہ سے کہتا آیا ہے کہ ماں رب کی رحمت کا روپ ہے، اور جنت کا راستہ اس کے قدموں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جدید انسانی علوم بھی اس خیال کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انسانی رحم، محبت اور باہمی تعاون کی جڑیں ممتا کے جذبے سے گہرہ تعلق رکھتی ہیں۔

حوالہ جات

زندگی پرو میگزین نے پاکستان میں مستند، معیاری اور تحقیق پر مبنی معلوماتی صحافت اور فکری مواد کے فروغ کا کام ایک مشن کے طور پر شروع کیا ہے۔

اگر آپ ایسے سنجیدہ، فکر انگیز اور معلوماتی مضامین پڑھنا چاہتے ہیں تو ہماری حوصلہ افزائی کیجیے، تازہ مضامین کے لیے ہماری فری سبسکرپشن حاصل کریں اور ہمیں Facebook اور X پر فالو کریں۔

Read Previous

پانی کی کہانی۔سندھ طاس معاہدہ، معطلی کے ایک سال بعد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular