پاکستانی پاسپورٹ سب سے نچلے نمبروں پر کیوں

پاسپورٹ رینکنگ کی حقیقت اور عام غلط فہمیاں

چند روز قبل دنیا کے معروف پاسپورٹ انڈکس “Henley Passport Index” نے اپنی تازہ عالمی درجہ بندی جاری کی تو ایک بار پھر پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے آخری نمبروں میں دکھائی دیا۔ اس فہرست میں پاکستان اُن چند ممالک میں شامل تھا جو رینکنگ کے نچلے ترین حصے میں موجود ہیں، جبکہ اس کے نیچے صرف افغانستان، شام اور عراق جیسے ممالک دکھائی دیتے ہیں۔

مگر اس پوری بحث کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اس بنیادی سوال پر غور ہی نہیں کرتے کہ آخر پاسپورٹ رینکنگ ہوتی کیا ہے؟ کیا یہ واقعی کسی قوم کی عزت، طاقت، وقار یا عالمی حیثیت کی پیمائش کرتی ہے؟

ہر سال جب نئی پاسپورٹ رینکنگ جاری ہوتی ہے اور پاکستان کی پوزیشن ہمیشہ کی طرح نچلے درجوں پر ہوتی ہے تو پاکستان میں اس کا ایک جذباتی ردِعمل سامنے آتا ہے۔ کوئی اسے ملک کی معاشی کمزوری سے جوڑتا ہے تو کوئی عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص سے۔ جبکہ بعض لوگ اسے پاکستانی قوم کی بین الاقوامی بے وقعتی کا ثبوت سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں ایک سفری درجہ بندی آہستہ آہستہ قومی وقار، خود اعتمادی اور ریاستی کارکردگی پر بحث میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

پاسپورٹ رینکنگ کیا ہے؟

پاسپورٹ رینکنگ کا تصور نسبتاً نیا ہے۔ سن 2005 کے بعد دنیا کے چند نجی اداروں نے مختلف ممالک کے پاسپورٹس کی درجہ بندی جاری کرنا شروع کی، جن میں سب سے زیادہ معروف Henleyq Passport Index ہے۔

پاکستان میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاید یہ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین یا کسی عالمی سفارتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ درجہ بندی ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ Henley & Partners دراصل ایک نجی اور منافع بخش بین الاقوامی کمپنی ہے جو سرمایہ کاری، رہائشی حقوق اور شہریت سے متعلق مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے۔ پاسپورٹ انڈکس اس کی تحقیقی سرگرمیوں کا ایک حصہ ہے۔

طریقۂ کار بالکل سادہ ہے۔ کسی ملک کے پاسپورٹ پر اُس کا شہری کتنے دوسرے ممالک میں بغیر ویزا جا سکتا ہے یا اُسے وہاں پہنچنے کے بعد فوراً ویزا مل جاتا ہے۔ چنانچہ جس ملک کے شہری جتنے زیادہ ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن ارائیول کی سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہوں، اس ملک کا پاسپورٹ اتنا ہی بہتر مقام حاصل کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک “Mobility Index” ہے، یعنی سفری سہولتوں کا پیمانہ۔

پاسپورٹ رینکنگ میں پاکستان کا درجہ

جب سے یہ درجہ بندی شروع ہوئی ہے، پاکستان تقریباً ہمیشہ اس فہرست کے نچلے حصے میں موجود رہا ہے۔ کبھی اس کی درجہ بندی نوّے کے قریب رہی، کبھی اٹھانوے، کبھی سو اور کبھی اس سے بھی نیچے، مگر مجموعی تصویر یہی رہی کہ پاکستانی عام پاسپورٹ پر دنیا کے محدود ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول سہولت حاصل کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ “کمزور پاسپورٹ” کی اصطلاح پاکستانی عوامی مباحثے کا مستقل حصہ بنتی چلی گئی۔

پاکستانی پاسپورٹ اور ویزا معاہدات
پاسپورٹ رینکنگ اور بین الدولتی ویزا معاہدات کے درمیان تعلق کی وضاحت۔

کمزور درجہ بندی کی وجوہات کا غلط تاثر

اب سوال یہ ہے کہ اس کمزور رینکنگ کی وجوہات کیا ہیں؟ اگر پاکستان میں میڈیا، سوشل میڈیا اور عوامی گفتگو کا جائزہ لیا جائے تو چند مخصوص دلائل بار بار سامنے آتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ شاید پاکستانی پاسپورٹ تکنیکی اعتبار سے کمزور یا غیر محفوظ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسے آسانی سے جعلی بنایا جا سکتا ہے، اس لیے دنیا اس پر اعتماد نہیں کرتی۔

دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستانی شہری بیرونِ ملک جا کر ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، مدتِ قیام سے زیادہ ٹھہرتے ہیں یا سیاسی پناہ کے نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔

تیسرا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے معاشی، سیاسی اور امن و امان کے مسائل اس کمزور رینکنگ کا سبب ہیں۔

جبکہ ایک اور رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ دنیا میں پاکستان کا مجموعی تاثر اچھا نہیں، اس لیے پاکستانی پاسپورٹ کو محدود سفری سہولتیں حاصل ہیں۔

بظاہر یہ تمام دلائل معقول محسوس ہوتے ہیں، مگر جب ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

کمزور درجہ بندی کی وجوہات کا عمومی تاثر درست کیوں نہیں؟

پاسپورٹ کمپیوٹرائزڈ اور محفوظ ہے

مثال کے طور پر سب سے پہلے اُس خیال کو دیکھیے کہ پاکستانی پاسپورٹ تکنیکی اعتبار سے کمزور ہے۔ شاید تیس یا چالیس سال پہلے یہ بحث کسی حد تک معنی رکھتی ہو، مگر آج کی حقیقت مختلف ہے۔ دو ہزار پانچ کے بعد پاکستان نے اپنے شناختی اور پاسپورٹ نظام میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ آج پاکستانی پاسپورٹ مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت جاری ہوتا ہے۔

اس میں جدید سیکورٹی خصوصیات شامل ہیں۔ مشین ریڈیبل ٹیکنالوجی، خصوصی پرنٹنگ، پوشیدہ نشانات، بائیومیٹرک تصدیق، فیشل ریکگنیشن اور ای پاسپورٹ جیسی سہولتوں نے اسے جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق بنا دیا ہے۔ نئے پاسپورٹس میں الیکٹرانک چپ تک شامل کی جا چکی ہے جس میں حاملِ پاسپورٹ کی محفوظ ڈیجیٹل معلومات موجود ہوتی ہیں۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ نادرا کے قومی شناختی نظام کے ساتھ منسلک ہے۔ درخواست گزار کی شناخت، تصویر، بائیومیٹرک ریکارڈ اور دیگر معلومات مختلف مراحل سے گزر کر تصدیق کی جاتی ہیں۔ چونکہ نادرا کا نظام خود بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل بنیادوں پر قائم ہے، اس لیے جعلی شناخت پر اصلی پاسپورٹ حاصل کرنا ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جدید پاکستانی پاسپورٹ کو تکنیکی اعتبار سے ایک محفوظ سفری دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ پاکستانی پاسپورٹ کی کمزور رینکنگ اس کی تکنیکی کمزوری یا کتابچے کی ناقص سیکورٹی کی وجہ سے ہے، موجودہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اصل وجوہات — مسئلہ وہاں نہیں جہاں ہم سمجھتے ہیں

اگر پاکستانی پاسپورٹ واقعی اتنا “کمزور” ہے کہ اس کے حاملین دنیا میں آسانی سے سفر نہیں کر سکتے، تو کیا دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس رکھنے والے لوگ پاکستان میں بغیر ویزا داخل ہو سکتے ہیں؟

زیادہ تر پاکستانی شاید اس سوال کا جواب “ہاں” میں دیں گے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

Pakissstaan visa policy , a closed window
پاکستان کا پاسپورٹ کمزور کیوں

درحقیقت دنیا کے بہترین پاسپورٹ رکھنے والے ممالک — جیسے جاپان، سنگاپور، جرمنی، ناروے، برطانیہ اور بیشتر یورپی ممالک — کے شہری بھی پاکستان میں بغیر ویزا داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ حتیٰ کہ امریکہ، چین، روس اور برطانیہ جیسے طاقتور ممالک کے عام پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو بھی پاکستان آنے کے لیے ویزا درکار ہوتا تھا۔

یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو پوری بحث کا رخ بدل دیتا ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ویزا نظام صرف “طاقتور” اور “کمزور” ممالک کی بنیاد پر کام نہیں کرتا۔ ہر ریاست اپنی سیکورٹی، سفارتی ترجیحات، امیگریشن پالیسی اور قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔

اہم ترین وجہ: دوطرفہ معاہدوں کا نہ ہونا

درحقیقت پاکستانی پاسپورٹ کی کمزور رینکنگ کی سب سے بنیادی وجہ دوطرفہ ویزا فری معاہدوں کی کمی ہے۔

لہٰذا سیدھی بات یہ ہے کہ جب پاکستان خود دوسرے ممالک کو ویزا فری انٹری نہیں دیتا تو دوسرے ممالک پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو اپنے ملک میں بغیر ویزا کیوں آنے دیں گے؟

لا محالہ جب پاکستانی پاسپورٹ پر ویزا فری انٹری کی سہولت فراہم کرنے والے ممالک کی تعداد کم ہوگی تو پاسپورٹ انڈکس میں ہمارے پاسپورٹ کے نمبر بھی کم ہوں گے اور درجہ بندی بھی نچلے نمبروں پر رہے گی۔

پاکستان خود ویزا فری انٹری کیوں نہیں دیتا؟

لیکن پاکستان دوسرے ممالک کو ویزا فری انٹری کیوں نہیں دیتا، اور کئی دہائیوں تک پاکستان کی ویزا پالیسی کیوں سخت رہی؟

اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ پاکستان ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ افغانستان کی صورتحال، بھارت کے ساتھ طویل تنازع، سرحدی سیکورٹی، دہشت گردی کے خطرات، انسانی اسمگلنگ، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر سیکورٹی خدشات کے باعث ریاست نے ہمیشہ امیگریشن اور داخلے کے معاملات میں محتاط رویہ اختیار کیا۔

چنانچہ دنیا کے بیشتر ممالک کے شہریوں کے لیے پاکستان میں داخلے سے پہلے ویزا حاصل کرنا لازمی رہا۔

یہ پالیسی اپنی جگہ شاید قابلِ فہم تھی، مگر اس کا ایک فطری نتیجہ بھی سامنے آیا۔

دوسری وجہ: اشرافیہ کے لیے متبادل نظام، نیلا اور سرخ پاسپورٹ

پاکستانی پاسپورٹس کا تقابلی جائزہ
پاکستانی عام، سرکاری اور سفارتی پاسپورٹس کی ویزا فری رسائی کا تقابلی جائزہ۔

پاکستان میں پالیسی سازی کرنے والے اور اعلیٰ سرکاری حلقے عام شہریوں کی نسبت ایک مختلف سفری حقیقت کا سامنا کرتے ہیں۔

اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے نیلا سرکاری پاسپورٹ موجود ہے، جبکہ سفارتکاروں اور بعض اعلیٰ حکام کے لیے سرخ سفارتی پاسپورٹ۔

ان دونوں پاسپورٹس پر دنیا کے بہت سے ممالک میں نسبتاً آسان یا بعض صورتوں میں ویزا فری رسائی حاصل ہوتی رہی ہے۔

یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔

جن لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ مذاکرات کر کے عام پاکستانی شہری کے لیے بہتر سفری سہولتیں حاصل کریں، وہ خود پہلے ہی نسبتاً زیادہ آسان سفری نظام سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔

یہ الزام نہیں بلکہ ایک پالیسی حقیقت ہے۔

اکثر ریاستی ترجیحات وہاں زیادہ مضبوطی سے بنتی ہیں جہاں فیصلہ ساز طبقات خود اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوں۔ پاکستان میں عام سبز پاسپورٹ رکھنے والے شہری کی mobility شاید کبھی اتنی بڑی قومی ترجیح نہ بن سکی جتنی بننی چاہیے تھی۔

تیسری وجہ: غیر ملکیوں کی پاکستان آنے میں کم دلچسپی

دنیا کے ممالک عموماً اُن ریاستوں کے ساتھ زیادہ آسان سفری معاہدے کرتے ہیں جہاں ان کے شہری بڑی تعداد میں سفر کرتے ہوں، کاروبار کرتے ہوں، سرمایہ کاری کرتے ہوں یا سیاحت کے لیے جانا چاہتے ہوں۔

اگر جاپان، یورپ یا سنگاپور کے لاکھوں شہری دنیا بھر میں سیاحت کرتے ہیں تو دوسرے ممالک بھی ان کے لیے ویزا سہولتیں پیدا کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں، کیونکہ اس کے ساتھ سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری اور مقامی معیشت کے مواقع جڑے ہوتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو ایک اور چیلنج کا سامنا رہا۔

پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے، مذہبی سیاحت، پہاڑوں، ثقافت اور جغرافیائی تنوع کے اعتبار سے دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہو سکتا ہے، مگر گزشتہ کئی دہائیوں میں سیکورٹی خدشات، دہشت گردی، سیاسی بے یقینی اور دیگر عوامل کے باعث بین الاقوامی سیاحت کو وہ فروغ نہ مل سکا جو ملنا چاہیے تھا۔

دنیا کے بہت سے ممالک کے شہری پاکستان آنے میں دلچسپی کم رکھتے رہے، جبکہ عالمی میڈیا میں بھی پاکستان کا تعارف زیادہ تر سیکورٹی کے تناظر میں ہوتا رہا۔

یہ تمام عوامل مل کر ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

اس تصویر میں پاکستانی پاسپورٹ کی کمزور رینکنگ کا تعلق نہ پاسپورٹ کے کتابچے کی کمزوری سے ہے، نہ صرف پاکستان کی عالمی شہرت سے، اور نہ ہی صرف غیر قانونی امیگریشن سے۔

اصل مسئلہ زیادہ تر سفارتی ترجیحات، دوطرفہ معاہدوں، mobility diplomacy، سیاحتی روابط اور طویل عرصے تک اختیار کی جانے والی سخت ویزا پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔

کیا پاکستان نے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی؟

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کبھی سنجیدہ کوشش کی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پالیسی ساز حلقوں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوا کہ پاکستان کی سخت ویزا پالیسی نہ صرف بیرونی دنیا کو پاکستان آنے سے روک رہی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں پاکستان دنیا کے ساتھ mobility agreements کے میدان میں بھی پیچھے رہ گیا ہے۔

شاید اسی سوچ کے تحت 2024 میں ایک بڑی ویزا نرمی کی پالیسی متعارف کروائی گئی، جس کے تحت 126 ممالک کے شہریوں کو آن لائن درخواست، تیز رفتار منظوری اور نسبتاً آسان ویزا پراسیسنگ کی سہولت فراہم کی گئی۔

اس اقدام کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں، سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے پاکستان کے دروازے کھولنا اور دنیا کے سامنے ایک زیادہ کھلا اور دوستانہ تاثر پیش کرنا تھا۔

بظاہر یہ ایک بڑا قدم تھا، مگر اس کے نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہ آ سکے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آن لائن ویزا یا e-Visa سہولت دراصل اب بھی ویزا ہی شمار ہوتی ہے۔ دوسرے ممالک کے شہریوں کو پاکستان آنے سے پہلے منظوری درکار تھی، صرف طریقۂ کار آسان بنا دیا گیا تھا۔

چونکہ عالمی پاسپورٹ انڈکس بنیادی طور پر visa-free اور visa-on-arrival سہولتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اس لیے اس پالیسی کا پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ پر کوئی نمایاں اثر نہ پڑ سکا۔

دوسری طرف اس داخلی نرمی کے ساتھ وہ سفارتی کوششیں نہیں ہوئیں جن کے ذریعے دوسرے ممالک سے پاکستانی شہریوں کے لیے reciprocal visa-free سہولتیں حاصل کی جاتیں۔

یوں یہ پالیسی mobility diplomacy کے بجائے زیادہ تر ایک انتظامی سہولت بن کر رہ گئی۔

بعد ازاں دو ہزار چھبیس تک آتے آتے اس پالیسی کے بعض حصے خاموشی سے محدود یا واپس بھی لیے جانے لگے، اور پاکستان ایک مرتبہ پھر اسی بنیادی سوال کے سامنے کھڑا نظر آیا کہ محض ویزا پراسیسنگ آسان بنا دینا کافی نہیں، اصل ضرورت دوطرفہ سفری معاہدوں کی ہے۔

آگے کا راستہ

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ آخر اس معاملے کو اتنی اہمیت دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اگر کسی ملک میں جانا ہو تو ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے، پھر پاسپورٹ رینکنگ بہتر بنانے کے لیے اتنی کوشش کیوں کی جائے؟

بظاہر یہ ایک معقول سوال ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں mobility خود ایک سفارتی، معاشی اور نفسیاتی حقیقت بن چکی ہے۔

صحیح یا غلط، پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی اب قومی وقار، بین الاقوامی perception اور عوامی خود اعتمادی کے ساتھ جڑ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو محض سفری سہولت کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کے لیے پہلا اور سب سے اہم قدم یہ ہونا چاہیے کہ mobility diplomacy کو باقاعدہ قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔

وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو واضح اہداف کے ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ ویزا فری یا کم از کم آسان سفری معاہدے کیے جا سکیں۔

اس ضمن میں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہے جہاں پاکستانی شہری نہ بڑی تعداد میں غیر قانونی امیگریشن کرتے ہیں، نہ سیاسی پناہ کے نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی وہاں پاکستان کے حوالے سے کوئی خاص سیکورٹی خدشات موجود ہیں۔

افریقہ، لاطینی امریکہ، وسطی ایشیا، مشرقی یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں میں درجنوں نہیں بلکہ شاید سو سے زائد ایسے ممالک موجود ہیں جہاں پاکستان نسبتاً آسانی سے mobility agreements کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک سوچے سمجھے اور مرحلہ وار منصوبے کے تحت انہی ممالک سے آغاز کیا جائے جہاں سفارتی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کو مل کر کام کرنا ہوگا

اس مقصد کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔

پاکستان میں ویزا پالیسی بنیادی طور پر وزارتِ داخلہ کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، جبکہ بیرونی ممالک کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے وزارتِ خارجہ کا شعبہ ہیں۔

جب تک یہ دونوں ادارے ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت مل کر کام نہیں کریں گے، اس میدان میں بڑی پیش رفت مشکل رہے گی۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ mobility diplomacy کے لیے ایک مستقل مشترکہ پالیسی فورم یا ٹاسک فورس قائم کی جائے جو صرف اسی مقصد پر توجہ دے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ مرحلہ وار سفری معاہدے کیے جائیں۔

سیاحت اور بین الاقوامی روابط کو فروغ دینا ہوگا

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی سیاحتی حکمتِ عملی پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔

دنیا کے ممالک عموماً اُن ریاستوں کے ساتھ زیادہ آسان سفری تعلقات قائم کرتے ہیں جہاں ان کے شہری جانا چاہتے ہوں۔

اگر پاکستان میں سیاحت، بین الاقوامی تقریبات، ثقافتی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں تو دنیا کے مختلف ممالک کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ آسان سفری معاہدوں میں دلچسپی پیدا ہوگی۔

چنانچہ سیاحت کا فروغ صرف معیشت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاسپورٹ mobility سے بھی جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ذمہ داری

اس پورے معاملے میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

دنیا بھر میں پھیلی ہوئی پاکستانی کمیونٹی دراصل پاکستان کا عملی چہرہ ہے۔ جب پاکستانی اپنے کردار، قانون پسندی، پیشہ ورانہ دیانت اور سماجی رویوں کے ذریعے مثبت مثال قائم کرتے ہیں تو اس کا اثر پورے ملک کے تاثر پر پڑتا ہے۔

اسی طرح پاکستانی کمیونٹی اور سفارتخانوں کو مختلف ممالک میں پاکستان کے مثبت تشخص کے لیے ثقافتی، تعلیمی، تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کا انعقاد بھی بڑھانا ہوگا، تاکہ دنیا پاکستان کو صرف خبروں اور تنازعات کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک متحرک، تخلیقی اور باصلاحیت معاشرے کے طور پر بھی دیکھے۔

غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوگا

ایک اور اہم پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، وہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستان کے حالیہ اقدامات ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ایئرپورٹس، امیگریشن نظام اور سفری نگرانی کے عمل کو کافی سخت اور منظم بنایا گیا ہے۔

بعض حلقوں کی طرف سے تو یہ شکایات بھی سامنے آتی ہیں کہ بعض اوقات یہ اقدامات ضرورت سے زیادہ سخت محسوس ہوتے ہیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اقدامات کے بارے میں دنیا میں مؤثر آگاہی بہت کم دی گئی۔

پاکستان کو یہ مؤقف زیادہ اعتماد کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ آج نہ صرف اس کا پاسپورٹ ایک محفوظ اور جدید سفری دستاویز ہے بلکہ غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھی سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دنیا کے سامنے یہ نیا narrative لانا ضروری ہے کہ پاکستان ماضی کے بعض مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔

عوام کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے

آخر میں شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ پاسپورٹ رینکنگ کو درست تناظر میں سمجھا جائے۔

میڈیا، حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو اس موضوع کے بارے میں متوازن اور حقیقت پسندانہ آگاہی فراہم کریں۔

لوگوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ پاسپورٹ رینکنگ کسی قوم کی عزت، وقار، صلاحیت یا عالمی اہمیت کا پیمانہ نہیں ہوتی۔

یہ بنیادی طور پر صرف اس بات کی درجہ بندی ہوتی ہے کہ کسی ملک کا شہری اپنے عام پاسپورٹ پر دنیا کے کتنے ممالک میں آسانی سے سفر کر سکتا ہے، اور یہ صورتحال زیادہ تر دوطرفہ معاہدوں، سفارتی ترجیحات اور ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔

اس لیے پاکستانی پاسپورٹ کی کمزور درجہ بندی پر غیر ضروری مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان اپنی mobility diplomacy کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔

کیونکہ قوموں کی اصل طاقت اُن کے پاسپورٹ کے رنگ یا درجہ بندی میں نہیں، بلکہ اُن کے اداروں، معیشت، علم، اجتماعی شعور اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت ہے۔

Read Previous

پنجاب کی تقسیم۔ منصوبے کے اصل خفیہ کردار کون

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular