پنجاب کی تقسیم۔ منصوبے کے اصل خفیہ کردار کون

پنجاب کی تقسیم

پنجاب کی تقسیم

بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے اور ہر چند ماہ بعد پاکستان میں کسی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور کسی آئینی اتھل پتھل کی بات شروع ہو جاتی ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے چھبیسویں آئینی ترمیم کی گئی، اور اب تیزی سے ستائیسویں ترمیم کی باتیں فضا میں گردش کر رہی ہیں۔

بلاول بھٹو کی سیاسی چال

اسی دوران، بلاول بھٹو زرداری کا بیان آیا کہ اگر صوبوں کو تقسیم کرنا ہے، تو پہلے اس صوبے سے آغاز ہو جس کی تقسیم پر اتفاقِ رائے موجود ہے۔ یعنی پہلے پنجاب تقسیم کر دیا جائے۔

بلاول بھٹو کے اس بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں صوبوں کی موجودہ ساخت میں تبدیلی کا کوئی پہلو ضرور شامل ہو سکتا ہے۔ ہم بلاول بھٹو کی اس دلیل پر تو آخر میں بات کریں گے، سب سے پہلے اپنے بنیادی نکتے کی طرف آتے ہیں کہ آخر کیوں ہر تھوڑے عرصے بعد صوبوں کی تقسیم اور چھوٹے صوبے بنانے کی بحث چھڑ جاتی ہے؟

نئے صوبوں کی تسلسل سے آنے والی تجاویز

ابھی کوئی چھے ماہ یا سال پہلے یہ تجویز آئی تھی کہ ملک کو 32 یا 12 نئے صوبوں میں بدل دیا جائے۔ آخر یہ تجاویز کہاں سے آتی ہیں؟ اور اس ساری منصوبہ سازی کے پیچھے کون ہے؟ یہی ہمارا آج کا بنیادی موضوع ہے۔

واضح اشارے

اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آخر پاکستان میں وفاقی اکائیوں یعنی موجودہ صوبوں کو ختم کر کے انہیں چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کے پیچھے کون ہے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ آوازیں کن حلقوں سے آتی ہیں۔ چھے ماہ یا سال پہلے جو تجویز آئی تھی، اسے پیش کرنے والے میاں عامر محمود تھے، جن کا تعلق کچھ مقتدر حلقوں سے واضح ہے۔ اسی طرح شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بھی ایسی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں، اور ان کا پس منظر بھی سب کے سامنے ہے۔ جنوبی پنجاب میں کوئی دس سال پہلے ایک سرائیکی صوبہ تحریک سیاسی گروپ بنا تھا، جو بعد میں ایک مخصوص سیاسی جماعت میں شامل ہو گیا۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ اس گروپ کو اس وقت کن حلقوں کی حمایت حاصل تھی اور اسے سیاسی جماعت میں شامل کرنے والے کون تھے۔

پھر عمران خان کے دورِ اقتدار میں یہ تجویز سامنے آئی کہ صدارتی نظام تب ہی ممکن ہے اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنایا جائے۔ ان تمام باتوں کو ملاتے ہوئے واضح اشارے ملتے ہیں کہ یہ تجاویز کن مقتدر حلقوں سے آتی ہیں۔

اب اس تجویز کا ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لیجیے۔ چھے ماہ یا سال پہلے آنے والی تجویز ایک باقاعدہ رپورٹ پر مبنی تھی جو اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک نے پیش کی تھی۔ اور اس رپورٹ کے سامنے آنے کا وقت اور اس تھنک ٹینک کے مخصوص اداروں سے روابط بھی ایک مضبوط اشارہ ہیں۔

پنجاب کی تقسیم کی بحث

پنجاب توڑنے کا مقصد آخر کیا ہے؟

آخر بیوروکریسی اور مقتدر حلقوں کی طرف سے صوبوں کی تقسیم کی تجاویز مسلسل کیوں سامنے آتی رہتی ہیں؟ اس کی وجوہات سیاسی بھی ہیں، اقتصادی بھی، اور شاید کچھ اور بھی۔

سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا

سب سے پہلے ہم اس کے سیاسی پہلو کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں موجودہ صوبائی اکائیاں بڑی سیاسی جماعتوں کو مضبوط بناتی ہیں—جیسے پی ٹی آئی کا ووٹ بینک کے پی میں ہے، پیپلز پارٹی کا سندھ میں، اور مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں خاص اثر حاصل ہے۔ موجودہ صوبائی اکائیاں ان جماعتوں کو مضبوط کرتی ہیں، اور شاید ٹھوس عوامی حمایت کو کچھ حلقے اپنے اثر و رسوخ کی بالادستی کے لیے مناسب خیال نہیں کرتے۔

صدارتی نظام کے لیے راہ ہموار کرنا

پاکستان کی تاریخ کے آغاز سے ہی کچھ مخصوص حلقے مضبوط صدارتی نظام کے حق میں رہے ہیں۔ ایوب خان کا صدارتی نظام، ضیا الحق کا عملی صدارتی انداز، مشرف کے دور میں صدارتی نظام کی تجویز، اور اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً ایسی آوازیں اس رجحان کی گواہی دیتی ہیں۔

اب صدارتی نظام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ صوبائی اکائیاں اور ان کی شناخت ہیں۔ چھوٹے صوبے دلیل دیتے ہیں کہ اگر صدارتی نظام آیا، تو سب سے زیادہ آبادی والے صوبے سے صدر ہوگا، اور اسی کا تسلط رہے گا۔ اس اعتراض کو ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پنجاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جائے یا پورے ملک کو چھوٹے صوبوں میں بانٹا جائے تاکہ صدارتی نظام کی راہ ہموار ہو۔

اقتدار کی بااثر خاندانوں میں تقسیم

یہ بھی سوچ موجود ہے کہ کسی ایک یا دو سیاسی جماعتوں یا خاندانوں کو اقتدار دینے کے بجائے اقتدار کو مختلف علاقوں کے بااثر خاندانوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس طرح مقامی لوگوں کو بااختیار بنانے کا تاثر بھی ملے گا۔ یہ خاندان اس ملک کے اصلی پاور سینٹر کے پکے حلیف بھی رہیں گے۔ جیسے پنجاب کی تقسیم سے عباسی، گیلانی، قریشی، اور ترین خاندانوں کو اقتدار میں شراکت دار بنایا جا سکتا ہے۔

لسانی اور صوبائیت پرستی کے نعروں کا خاتمہ

ایک اور تجویز، جو بظاہر بد نیتی پر مبنی نہیں لگتی بلکہ کچھ حلقے خلوصِ نیت سے سمجھتے ہیں، یہ ہے کہ پاکستان میں لسانی اور صوبائی بنیادوں پر جو تقسیم اور کشمکش ہے، اسے ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ موجودہ صوبائی شناخت کو ختم کر کے ملک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس طرح بہت سے چھوٹے پاور سینٹرز بن جائیں گے اور تاریخی طور پر صوبائی علیحدگی کی جو کوششیں ہوتی رہی ہیں، وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ

ایک خاص شدت ان تجاویز میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی وجہ سے بھی آئی ہے۔ اٹھارویں ترمیم نے بظاہر صوبائی خودمختاری کے مسئلے کو حل کر دیا اور صوبوں کو اپنے معاملات کا ذمہ دار بنایا۔ تاہم مرکز کی طرف یہ موقف سامنے آیا کہ اس ترمیم سے مرکز کمزور اور صوبے مضبوط ہو گئے ہیں۔ اس ترمیم کے باعث معاشی وسائل جو پہلے مرکز کے پاس ہوتے تھے، اب صوبوں کے پاس منتقل ہوئے۔ ناقدین کے مطابق یہ وسائل تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر تو خرچ ہوئے، لیکن ان میں ضیاع بھی ہوا۔

لہٰذا جیسے جیسے اٹھارویں ترمیم کے خلاف آوازیں اُٹھیں، ویسے ہی صوبوں کو چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کرنے، وسائل کا بڑا حصہ مرکز کو دینے اور دفاع، سلامتی اور معاشی بہتری کے لیے مرکز کو وسائل فراہم کرنے کی تجاویز سامنے آئیں۔ مرکز کی دلیل یہ ہے کہ ملک کی سلامتی، دفاعی منصوبے اور معاشی مسائل (بشمول قرضوں کی ادائیگی) کے لیے زیادہ وسائل وفاق کے پاس ہونے چاہییں۔

غیر ملکی امدادی اداروں کی خوشنودی

اب ہم اس مختصر نقطے کی طرف آتے ہیں کہ بعض غیر ملکی فنڈڈ ادارے جو چھوٹے صوبوں کی تجویز دے رہے ہیں، وہ بظاہر تو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں، لیکن درحقیقت اس سے اختیارات نچلی سطح پر نہیں جاتے، بلکہ یہ اختیارات صوبوں سے نکل کر مرکز کی جانب آ جاتے ہیں۔

پنجاب کی تقسیم ایک خطرناک فیصلہ

پنجاب کی تقسیم ایک خطرناک فیصلہ

جب ہماری پوری تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ صوبائی خودمختاری کا مسئلہ ہمارے لیے ہمیشہ انتشار، افراتفری اور پریشانی کا باعث رہا ہے، اور یہ مسئلہ اتنا شدید ہوا کہ ہمیں آدھے ملک سے ہاتھ دھونے پڑے؛ سندھو دیش، پختونستان، اور آزاد بلوچستان کی تحریکوں نے ہمیشہ اسی نعرے سے طاقت لی کہ ہمارے پاس ہمارے جائز اختیارات نہیں، اور ہمیں جمہوری صوبائی خودمختاری سے محروم رکھا گیا۔

اب جب اٹھارویں ترمیم نے ان تحریکوں کی سیاسی ہوا نکال دی ہے اور وہ ملک کے چند علاقوں میں تخریبی کارروائیوں کی ناکام کوشش تک محدود ہو گئی ہیں، تو ہم صوبائی خودمختاری کے طے شدہ مسئلے کو ختم کر کے اور اکائیوں کی صوبائی شناخت کو مٹا کر کیوں ان تحریکوں کو نادانستہ طور پر تقویت دینا چاہتے ہیں؟

یہ تو ممکن نہیں کہ پنجاب کو تو تقسیم کر دیا جائے لیکن سندھ، کے پی یا دیگر صوبوں کے مطالبات کو دبایا جا سکے۔ پنڈورا باکس کھلے گا تو یقینی طور پر ایک نیا انتشار جنم دے گا۔

بلاول بھٹو کی غلط منطق

بلاول بھٹو یہ سمجھیں کہ پنجاب کی تقسیم پر اتفاقِ رائے ہے۔ پنجاب کی تقسیم پر سامنے آنے والا دراصل پنجاب کے عوام کی رائے نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی اپنے مفادات پر مبنی نعرے بازی ہے، بے شک وہ مسلم لیگ نواز ہی کیوں نہ ہو۔ پنجاب کے عوام کی اکثریت اپنی ہزاروں سال پرانی شناخت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اور خوبصورت دھرتی کی یکجہتی کو ختم نہیں کرنا چاہتی۔

بلاول بھٹو کے اس بیان کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے بہت ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔

سیدھا راستہ

موجودہ حکمرانوں کی پہلی ترجیح عوام کے حالات میں بہتری لانا ہونی چاہیے، اور یہ کام کسی آئینی اکھاڑ پچھاڑ کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے مسائل کا حل وہاں موجود الگ سیکریٹیریٹ کو مزید فعال کرنے اور کراچی کے مسائل کا حل ایک مضبوط بلدیاتی نظام لانے میں ہے۔ پہلے ان سب چیزوں پر توجہ دیں اور پھر کچھ اور سوچیں۔

متعلقہ تحریر

حوالہ

Read Previous

کاکروچ جنتا پارٹی۔انڈیا میں اُٹھنے والا ڈیجیٹل طوفان

One Comment

  • bahot sohna t daleel bharya mamzmoon e.

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular