
سندھ طاس معاہدہ معطلی کے ایک سال بعد
10 مئی 2026ء — سندھ طاس معاہدے کو بھارت کی جانب سے “معطل” قرار دیے جانے کے ایک سال بعد بھی صورتِ حال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکی۔ اب تک نہ تو پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کا بہاؤ مکمل طور پر روکا گیا ہے اور نہ ہی کوئی فوری زرعی تباہی سامنے آئی ہے، البتہ معلومات کے تبادلے، سیلابی صورتحال سے متعلق بروقت اطلاع اور پانی کے بہاؤ کے نظام پر پاکستان کی تشویش میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں بعض مواقع پر پانی کے غیر متوازن بہاؤ اور اچانک اضافے سے متعلق سوالات بھی اٹھے، اگرچہ ان کے بارے میں حتمی شواہد اب تک سامنے نہیں آ سکے۔
بین الاقوامی ماہرین کی رائے میں معاہدہ قانونی طور پر اب بھی برقرار ہے، مگر عملی طور پر اعتماد، تعاون اور شفافیت کی وہ فضا کمزور پڑ چکی ہے جو اس معاہدے کی اصل روح تھی۔ پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے یہ مسئلہ اب صرف سیاست نہیں بلکہ خطے کے امن، ماحول اور انسانی بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلی اپڈیٹ اس مضمون کے آخر میں شامل کر دی گئی ہے۔
انڈس واٹر ٹریٹی کے کچھ پسِ پردہ حقائق
پچھلے سال لاہور میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جب پانی کے سلسلے پر گفتگو کرنے والے ایک ماہر پینلسٹ نے زور دے کر کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی) کو ختم کر دینا چاہیے تو اگلی نشستوں پر بیٹھے معروف صحافی وسعت اللہ خان نے پوچھا کہ اگر ہم پاکستان اور ہندوستان دونوں کو یہ معاہدہ توڑ دینے کا کہتے ہیں، تو کیا یہ ان دونوں مُلکوں کے درمیان پانی کے مسئلے پر جنگ (واٹر وار) کو دعوت دینے والی بات نہیں ہوگی؟
اس پر آبی وسائل کے ماہر سید حسن عباس نے جنگ چھڑنے کی بات تو سنی ان سنی کر دی اور کہا کہ یہ معاہدہ درست نہیں، پاکستان کو چاہیے کہ بس اسے ختم کر دے۔ مجھے حیرانگی ہوئی، اس لیے کہ انڈیا تو کب سے سندھ طاس معاہدہ توڑنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن اب لاہور میں یہ آوازیں کیوں اٹھ رہی ہیں۔
تشویش اس لیے بھی تھی کہ معاہدے کو یک طرفہ توڑنے کی کوئی شِق تو اس معاہدے میں موجود نہیں ہے البتہ دونوں فریقین کی مرضی سے کچھ بھی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ معاہدہ کو ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ آخر پاکستان میں اس معاہدہ کو توڑنے کے لیے رائے عامہ کیوں ہموار کی جا رہی ہے، یہ ایک سمجھ میں نہ آنے والا سوال تھا۔
اس سے پہلے کہ ہم یہ دیکھیں کہ یہ معاہدہ کیا ہے، یہ کن حالات میں عمل میں آیا، اس کا فائدہ کس کو ہے اور نقصان کسے، ایک بات بتانا ضروری ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے دانشور بہرحال اس معاہدے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ یعنی ایک ایسا معاہدہ جو ایک غیر پنجابی ڈکٹیٹر کے دور میں ہوا اور جس نے پنجاب سے اس کے تین اہم ترین دریا ستلج، راوی اور بیاس چھین لیے۔
خاص طور پر راوی کے خشک ہو جانے کا المیہ تو بہت ہی تکلیف دہ ہے، کیونکہ اس کے کنارے پر پاک و ہند کی تہذیب و ثقافت کا امین ایک عظیم شہر لاہور آباد ہے۔ آخر یہ معاہدہ کرنے والوں نے کیوں ضروری نہ سمجھا کہ کم از کم اس شہر کے لیے تو راوی کے پانی کا کچھ حصہ ضرور لے لینا چاہیے۔
بقا کی بات
معاہدہ بُرا تھا لیکن اس کا ٹوٹنا شاید اس سے بھی بُرا ہے۔ آئیے پانی کی اس کہانی کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ جب ہندوستان تقسیم ہوا تو اس کے ساتھ ہی پنجاب کی خونی تقسیم بھی وقوع پذیر ہوئی۔ نفرت کی لہر نے دونوں طرف لاکھوں انسان نگل لیے۔ کشمیر کا تنازعہ شعلہ بن کر بھڑک اٹھا اور ایسے میں 1948 میں انڈیا نے پاکستان کی طرف آنے والی نہروں کا پانی بند کر دیا۔
یہ اس لیے ممکن ہوا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقسیم کا عمل مکمل کرنے والے ریڈکلف کمیشن نے جہاں اور ناانصافیاں کیں، وہاں پاکستانی پنجاب کو سیراب کرنے والی نہروں کے ہیڈ ورکس فیروز پور اور مادھوپور انڈیا کے حوالے کر دیئے۔ لیکن اس وقت چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور معاہدہ موجود تھا جسے “اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ” کہتے ہیں اس لیے معاملات جوں کے توں رہے۔ لیکن جب 31 مارچ 1948 کو اس معاہدے کی معیاد ختم ہوئی تو ہندوستان نے پاکستانی پنجاب کی نہروں کا پانی بند کر دیا۔

ساہوکار ثالث
یہ اقدام تمام عالمی اصولوں اور قواعد کے خلاف تھا۔ جسے بعض ماہرین انڈیا کی آبی دہشت گردی کا نام بھی دیتے ہیں۔ لیکن خشک ہوتی زمینوں کو تو فوری پانی چاہیے تھا۔ جب انڈیا نے پانی دینے کے لیے رقم ادا کرنے کی بات کی تو مجبوراً پاکستان کو پانی کی فراہمی بحال کروانے کے لیے انڈیا سے رقم دے کر پانی لینے کا معاہدہ کرنا پڑا۔
ورلڈ بینک جو اس وقت دنیا میں اپنے پر پھیلا رہا تھا، اس جھگڑے کے درمیان کودا اور مذاکرات شروع ہوئے۔ دونوں طرف سے مطالبات پیش کیے گئے۔ پاکستان نے مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کا تمام پانی اور مشرقی دریاؤں یعنی ستلج، بیاس اور راوی کے پانی کا 30 فیصد حصہ مانگا۔ انڈیا نے مشرقی دریاؤں کا تمام پانی اور مغربی دریاؤں کا 10 فیصد حصہ لینے کا تقاضہ کیا۔
اس دوران پاکستان کی حکومتیں بدلتی رہیں، متعلقہ لوگ آتے اور جاتے رہے، آخر کار صدر ایوب کی مارشلائی حکومت میں ایک معاہدہ آخری شکل میں سامنے آیا۔ 9 ستمبر 1960 کو اس پہ دستخط ہو گئے۔اس کے مطابق مشرقی دریا راوی، ستلج اور بیاس کا تمام پانی بھارت کے حوالے کر دیا گیا اور مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم، چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا۔
البتہ یہ طے پایا کہ ہندوستان مغربی دریاؤں کے پانی کا بھی کچھ حصہ اپنے محدود زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور وہ معاہدے میں طے کیے گئے حدود و قیود کے اندر رہ کر پن بجلی بھی پیدا کرنے کے لیے بند بھی بنا سکتا ہے۔ معاہدے کے ساتھ منسلک کی جانے والی دستاویزات میں یہ بات بھی شامل کر دی گئی کہ انڈین پنجاب کی طرف سے جو تین گندے نالے پاکستانی علاقے میں آ رہے ہیں، ان کو روکا نہیں جائے گا۔
ایک دلچسب تھیوری
آج کچھ ماہرین اور تاریخ لکھنے والے افراد بیان کرتے ہیں کہ جنرل ایوب کو یہ معاہدہ قبول کرنے سے منع کیا گیا تھا اور ایوب خان نے دھونس اور دھمکی سے معاہدے کے سب مخالفین کو خاموش کروا دیا۔ اور اسے ذاتی ذمہ داری کہہ کر اس پر دستخط کر دیئے۔
اس من مانی کی وجہ کو بیان کرتے ہوئے جو تھیوری پیش کی جاتی ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ عظیم دوم کے دوران امریکہ نے برطانیہ کی تو ساتھ ‘اٹلانٹک چپٹر’ نامی معدے کا بھی اہتمام کیا۔ جس میں کالونیز کی آزادی کا اصول طے ہوا۔ وہ یہ کہ برطانیہ جنگ کے آخر میں سب کالونیز یعنی زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کر دے گا۔ مقصد یہ تھا کہ ان ممالک کو اُبھرتی امریکی طاقت کے زیر اثر لایا جائے، اور ان کے معاشی وسائل سے فائدہ اٹھایا جائے۔
اس طرح جب انڈیا اور پاکستان آزاد ہو گئے تو وہ امریکی کمپنیاں جو امریکہ میں ڈیم بنانے کا کامیاب تجربہ کر چکی تھیں، پاک و ہند کے پانی کے جھگڑے کی طرف متوجہ ہوئیں۔ انھیں کمپنیوں کی ایما پر ورلڈ بینک کو اس تنازع میں ثالثی کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ ورلڈ بینک نے ثالثی معاہدے کے ساتھ پاکستان کو امداد/قرضہ دینے کی پیشکش کی تاکہ پاکستان مغربی دریاؤں پر ڈیم بنا سکے اور مغربی دریاؤں کے پانی کو مشرق کے علاقوں میں استعمال کرنے کے لیے لنک نہروں کا بندوبست کیا جا سکے۔
اس پیشکش کے ساتھ یہ شرط بھی تھی کہ دونوں ممالک پانی کا پائیدار معاہدہ کر کے اپنے معاملات طے کر لیں۔ یہ رقم ایک ارب ڈالر (900ملین) کے لگ بھگ تھی جو ایک بہت بڑی رقم تھی، آج کے حساب تقریباً سات ارب ڈالر کے برابر تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے بااختیار لوگ ورلڈ بینک سے بڑی رقم ملنے کے لالچ میں آ گئے اور بغیر اپنے جائز مطالبوں پر مزید اصرار کیے اس ناقص معاہدے پر دستخط کر دیئے۔
معاہدہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا
یہ تھیوری پیش کرنے والے یہ بالکل نہیں بتاتے کہ اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو پاکستان کیا کرتا۔ ہمارے دریاؤں کے دھانوں پر بیٹھا دشمن ملک کیا ہمارے مشرقی دریاؤں کا پانی بحال کر دیتا؟ کیا ہمارے پاس وہ فوجی طاقت موجود تھی جس کے بل پر ہم زبردستی اپنے حصے کا پانی وصول کر لیتے؟ ہم نے 1965 میں جو جنگ لڑی وہ براہ راست نہیں تو بالواسطہ پانی ہی کی لڑائی تھی، کیونکہ ہمیں اپنی آبی گزرگاہ محفوظ بنانے کے لیے کشمیر کا منصفانہ حل چاہیے تھا۔ پھر اس جنگ کا کیا نتیجہ نکلا؟
یہ صاحبان صرف یہ حل بتاتے ہیں کہ پاکستان کو عالمی عدالت انصاف (انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس) میں جانا چاہیے تھا۔ وہ یہ نہیں سمجھا پاتے کہ عالمی اداروں نے ہمارے کشمیر کے جائز مسئلے پر ہمیں کیا انصاف دیا تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ بھارت ہم سے پوچھے بغیر انھیں امریکی کمپنیوں کی مدد سے دریاؤں پہ ڈیم بنانے شروع کر چکا تھا۔
اگر ہم ڈیم نہ بناتے اور “دریاؤں کو بہنے دو” کے انوکھے فلسفے پر عمل کرتے تو ہماری فصلیں کب تک عالمی عدالت کی لمبی تاریخوں کا انتظار کرتی رہتیں۔ اگرچہ مشرقی دریا اب بھی ہمارے پاس نہیں ہیں، لیکن ہم نے ڈیم بنا کر اور لنک نہریں نکال کر اپنے مشرقی علاقوں کی زمینوں کو سیراب کرنے کا بندوبست کر لیا ہے۔
یہ درست ہے کہ معاہدہ کرنے والوں نے کمزور معاہدہ کیا۔ اُنھوں نے اپنے مغربی دریاؤں پہ بھارت کے جس حق کو مانا اس کے بدلے میں کچھ پانی اپنے مشرقی دریاؤں کے لیے بھی لے سکتے تھے۔ پھر بھارت کے گندے نالوں کو جوں کا توں اس معاہدے کا حصہ بنا کر غیروں کا گند اپنے پلے ڈال لینا بھی مناسب نہیں تھا۔
لیکن اب جب بھارت ایک بڑی معاشی اور فوجی طاقت بن چکا ہے اور ہمارے مغربی دریاؤں کو بھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ جب بھارت کے گلی کوچوں میں یہ کہہ کر نفرت پھیلائی جا رہی ہے کہ دیکھو سندھ طاس کیسا غلط معاہدہ تھا کہ صرف 20 فیصد پانی بھارت کے حصے میں آیا اور 80 فیصد پانی پاکستان لے گیا،
ایسے وقت میں کیا یہ مناسب ہے کہ آپ تاریخ کی قبر اکھاڑتے رہیں۔ جس معاہدے کو انڈیا بدنیتی سے توڑنا چاہتا ہے اور اب اسے معطل بھی کر چکا ہے اس کے خلاف پاکستان میں رائے عامہ کو ہموار کریں۔ جبکہ ہم کوئی متبادل حل بھی پیش نہیں کرتے اور جب کوئی سوال پوچھے تو ہوشیاری سے موضوع بدل دیتے ہیں۔

اب کیا ہو سکتا ہے
پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ جو معاہدہ ہو چکا اس کا ڈٹ کر دفاع کرے۔ اگر انڈیا ہماری شاہ رگ پر ہاتھ ڈالتا ہے اور پانی روکتا ہے تو جنگ بھی کرنی پڑے تو کریں۔ مختصر بات یہ ہے بھوکا مرنے سے لڑ کر مرنا بہتر ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی قوانین کو دیکھا جائے تو پاکستان کا کیس بہت مضبوط ہے۔ ان عالمی اُصولوں اور قوانین کے مطابق جو دریا کو جسدِ واحد کی طرح دیکھتے ہیں اور پانی کے تاریخی استعمال اور زیریں علاقوں کی ضرورت کو اولیت دیتے ہیں، انڈیا اس بات کا پابند ہے کہ مغربی دریاؤں کا ہی نہیں مشرقی دریاؤں کے پانی کا بھی کچھ حصہ ہمارے حوالے کرے۔ لیکن عالمی اصولوں کی دھجیاں اڑائے جانے کے اس دور میں ہم عالمی اداروں سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دنیا کے سامنے اپنا کیس نہ رکھا جائے۔ جو اُچھلتی ندیاں پاکستان کی سرزمین پر آکر دریا بنتی ہیں جن سے پاکستان کی زمینیں تاریخی طور پر سیراب ہوتی آئی ہیں، جو پاکستان کی معیشت کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون ہیں، اُن پر دنیا کے ہر نئے یا پرانے عالمی اُصولوں اور قوانین کے مطابق پاکستان کا ہی حق ہے۔ دنیا کی اقوام اور خاص طور پر نئی نسل میں ماحول کے تحفظ کے بڑھتے ہوئے شعور میں ہم لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ انڈیا نے ہمارے مشرقی دریاؤں کا پانی مکمل طور پر اپنے حصے میں ڈال کر ہمارے شہروں، اس خطے اور کرہ ارض کے مجموعی ماحول پر پہلے ہی کیا ظلم کر رکھا ہے۔
جب ہندوستان نے خود یہ معاہدہ معطل کر دیا ہے تو ہمارے پاس موقع ہے کہ دنیا کے سامنے صرف مشرقی دریاؤں کا مقدمہ رکھ کر انڈیا کو دفاعی پوزیشن میں لائیں۔ یہی موقع ہے کہ ہم اپنی پوری سفارتی اور ابلاغ کی طاقت استعمال کرتے ہوئے ماحول سے فکر مند دنیا کو دریاؤں کو زہر آلود کرنے والے انڈیا کے گندے نالوں کی آگاہی دیں اور اُسے رائے عامہ کی طاقت سے مجبور کریں کہ کم از کم وہ ان نالوں کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر انہیں صاف تو کرے۔
ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو پانی کی اہمیت کا احساس دلائیں۔ پانی کی بچت اور استعمال کے جدید طریقوں کو اپنی قومی ترجیح میں پہلے نمبر پر رکھیں۔ اس لیے کہ اگر انڈیا سے ہم اپنا پانی لے بھی لیتے ہیں تو قدرت کے بند ہاتھ یعنی گلیشیئرز کے پگھل کر ختم ہونے کا مقابلہ ہم کیسے کریں گے۔
معاہدہ معطلی کے ایک سال بعد تفصیلی صورتِ حال
ایک سال پہلے جب یہ مضمون لکھا گیا تھا تو خدشہ یہ تھا کہ اگر بھارت واقعی سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیتا ہے تو کیا پاکستان کے دریا خشک ہو جائیں گے اور کیا ملک ایک سنگین آبی بحران کی طرف بڑھ جائے گا؟ آج، 10 مئی 2026ء کو، ایک سال گزرنے کے بعد صورتِ حال پہلے سے زیادہ واضح بھی ہے اور زیادہ پیچیدہ بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تک نہ تو دریاؤں کا پانی مکمل طور پر روکا گیا ہے اور نہ ہی پاکستان کا زرعی نظام کسی فوری تباہی کا شکار ہوا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس وقت بھارت کے پاس ایسا وسیع ذخیرۂ آب اور انفراسٹرکچر موجود نہیں جو مغربی دریاؤں کے بہاؤ کو طویل عرصے تک مکمل طور پر روک سکے۔ تاہم اس ایک سال نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ پانی اب صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاست، سفارت کاری اور دباؤ کی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔
اس دوران پاکستان کی جانب سے بار بار یہ شکایت سامنے آئی کہ سیلابی صورتحال، پانی کے بہاؤ اور ہائیڈرو لوجیکل ڈیٹا سے متعلق وہ معلومات، جو ماضی میں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت باقاعدگی اور بروقت شیئر کی جاتی تھیں، اب اسی تسلسل اور شفافیت کے ساتھ فراہم نہیں کی جا رہیں۔ گزشتہ برس مون سون اور سیلاب کے دنوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ بعض مواقع پر پانی کے بہاؤ کو غیر مسلسل انداز میں کنٹرول کیا گیا اور اچانک زیادہ پانی چھوڑنے سے نشیبی علاقوں میں دباؤ اور سیلابی کیفیت بڑھی، اگرچہ اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی اور ناقابلِ تردید ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔ لیکن اس پورے عرصے نے یہ احساس ضرور بڑھایا ہے کہ اعتماد کی کمی خود ایک خطرہ بن چکی ہے، کیونکہ پانی کے معاملات میں غیر یقینی صورتحال بھی بعض اوقات اتنی ہی خطرناک ہوتی ہے جتنی پانی کی کمی۔
بین الاقوامی ماہرین اور قانونی حلقوں کی رائے میں سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، کیونکہ اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنا آسان نہیں۔ دریا اب بھی بہہ رہے ہیں اور معاہدے کا بنیادی ڈھانچہ کسی حد تک موجود ہے، مگر عملی طور پر اس معاہدے کی روح شدید کمزور پڑ چکی ہے۔ اعتماد، تکنیکی تعاون، معلومات کے تبادلے اور تنازعات کے حل کا جو نظام اس معاہدے کی بنیاد تھا، وہ پہلے جیسا فعال اور مستحکم دکھائی نہیں دیتا۔ یوں ایک ایسی کیفیت پیدا ہو چکی ہے جہاں معاہدہ کاغذ پر زندہ ہے، مگر اس کے گرد قائم اعتماد کی فضا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے اس پورے معاملے میں دونوں ملکوں کے لیے ایک بڑی آزمائش موجود ہے۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی کا مسئلہ محض سیاسی دباؤ یا سفارتی برتری کا معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، زراعت اور خطے کے امن سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر پانی کو اس حد تک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں یہ احساس مضبوط ہو جائے کہ اس کی زرعی اور انسانی بقا خطرے میں ہے، تو یہ صورتحال دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے اور زیادہ خطرناک تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ اختلافات کے باوجود دریاؤں کو مکمل دشمنی کا میدان نہ بنایا جائے، کیونکہ پانی کی جنگ کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پورے خطے کی تباہی بن سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ وقت صرف جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی ردِعمل کا نہیں بلکہ سنجیدہ حکمتِ عملی کا ہے۔ اس مسئلے کو عالمی سطح پر، مناسب سفارتی اور قانونی فورمز پر مسلسل اٹھاتے رہنا ضروری ہے تاکہ دنیا کو یہ احساس رہے کہ جنوبی ایشیا میں پانی کا مسئلہ محض دو ملکوں کا تنازع نہیں بلکہ انسانی سلامتی اور ماحولیاتی مستقبل کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ اگر سندھ طاس معاہدہ طویل عرصے تک غیر فعال یا معطل کیفیت میں رہتا ہے تو اس کا عملی نقصان زیادہ پاکستان کو ہوگا۔ اسی لیے بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے راستے کھلے رکھنے اور تعلقات کو کسی حد تک معمول پر لانے کی کوششیں بھی جاری رہنی چاہئیں۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز صرف جوش، نعروں اور وقتی عوامی جذبات سے آگے بڑھ کر یہ ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ اس بحران میں پاکستان کو حقیقی نقصان کیا پہنچا ہے، اور اس نقصان کا ازالہ عملی بنیادوں پر کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

3 Comments
بہت اعلی تحریر ہے سندھ طاس معاہدہ کو انتہائی مفصل بیان کیا گیا ہے۔آپ کی آرا قابل قدر ہیں
بہت شکریہ جعفر صاحب، یہ ویب سائٹ علم دوست اور باذوق لوگوں کے لیے ہی ہے
ماشاءاللہ
شاہد اقبال صآحب بہت اعلیٰ تجزیہ ھے
یہ ھماری سرخ لاءن ھے اس پر کوئی بھی سمجھوتہ نھیں قبول