گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج اور بڑی سیاسی تبدیلیاں

کیا ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے؟

دور دراز پہاڑوں سے اٹھنے والی سیاسی سرگوشی

⚡ کوئیک ریڈ

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، جبکہ وفاق میں برسرِ اقتدار مسلم لیگ (ن) صرف 6 نشستیں حاصل کر سکی۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار 2 نشستیں جیت سکے، جبکہ 4 آزاد امیدوار بعد ازاں استحکامِ پاکستان پارٹی میں شامل ہو گئے۔

یہ نتائج اس لیے غیر معمولی سمجھے جا رہے ہیں کہ ماضی میں عموماً وفاق کی حکمران جماعت گلگت بلتستان میں بھی بہتر کارکردگی دکھاتی رہی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے انتخابی ماحول، انتخابی نشان اور انتظامی دباؤ کے حوالے سے شکایات تو کیں، لیکن اب تک نتائج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کی کامیابی کے پیچھے اس کی بھرپور انتخابی مہم، گلگت بلتستان میں تاریخی سیاسی بنیادیں اور عوامی ناراضی جیسے عوامل کارفرما رہے۔ تاہم اصل دلچسپی اب حکومت سازی، آزاد امیدواروں کی نئی صف بندیوں اور وفاقی سیاست پر ان نتائج کے ممکنہ اثرات میں ہے۔ان انتخابات کا یک بہت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کیا مقتدر حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی وفاقی حکومت کو اب طاقت کے مراکز کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے؟ بظاہر اس امر کے واضح اشارے موجود ہیں اور اس مضمون میں ہم نے اس کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔

بظاہر گلگت بلتستان کے دور دراز پہاڑوں میں ہونے والے انتخابات اور ایک معروف صحافی کے چونکا دینے والے حالیہ کالموں میں کوئی براہِ راست تعلق نہیں، لیکن ان دونوں نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں خاصی ہلچل مچا دی ہے۔ خاص طور پر جب الیکشن کمیشن نے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی 4 آزاد اُمیدوار غیر متوقع طور پر استحکامِ پاکستان پارٹی میں شامل ہو گئے۔

گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج جب سامنے آئے تو لوگ خاصے حیران ہوئے تھے۔ ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 11، مسلم لیگ (ن) نے 6، آزاد امیدواروں نے 4، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 2 اور مجلس وحدت المسلمین نے ایک نشست حاصل کی۔

تاریخی طور پر گلگت بلتستان میں اکثر وہی جماعت کامیاب ہوتی رہی ہے جو وفاق میں برسرِ اقتدار ہو۔ اس وقت وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ اس کے پاس وفاقی وسائل سے استفادہ کرنے کا موقع بھی تھا اور اس کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے قریب ہے۔ اس کے باوجود انتخابی نتائج حسبِ توقع نہ نکلے۔

🔍 اہم نکتہ

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، جبکہ وفاق میں برسرِ اقتدار مسلم لیگ (ن) صرف 6 نشستیں حاصل کر سکی۔ یہ نتیجہ اس روایت کے برعکس ہے جس کے تحت عموماً وفاق کی حکمران جماعت کو گلگت بلتستان میں برتری حاصل رہتی ہے۔

کیا یہ نتائج کسی بڑے سیاسی رجحان کی طرف اشارہ ہیں؟

ان انتخابات کے بعد لوگوں کی توجہ فوری طور پر 2024 کے عام انتخابات کی طرف گئی، جن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے حوالے سے مختلف الزامات سامنے آئے تھے اور بعض حلقوں کا دعویٰ تھا کہ اس کامیابی کا بندوبست کیا گیا۔

اگر واقعی ایسا تھا تو پھر اب کیوں نہ ہوا؟

سوچنے والی بات یہی تھی کہ کیا اس بار انتخابات واقعی مکمل طور پر صاف اور شفاف ہوئے؟ اور کیا ان میں اس نوعیت کی کوئی مداخلت نہیں کی گئی جس کے الزامات 2024 کے انتخابات پر لگائے گئے تھے؟

بنیادی طور پر ان انتخابات کی اصل خبر شاید صرف پیپلز پارٹی کی کامیابی نہیں، بلکہ مستقبل کے امکانات اور آنے والے سیاسی منظرنامے کی جھلک ہے۔

کیونکہ انتخابات کے فوراً بعد معروف صحافی سہیل وڑائچ کا ایک کالم سامنے آیا جس میں انہوں نے موجودہ حکومت کے بارے میں مختلف حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی اور اس کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کے اشارے دیے۔ اس کے ساتھ ہی چند دیگر صحافی اور تجزیہ نگار، جو سیاسی اور حکومتی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں، موجودہ وفاقی حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا حکومت بدلتے ہوئے سیاسی حالات کو درست طور پر سمجھ بھی رہی ہے یا نہیں۔

سہیل وڑائچ کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ ان کے بعض کالم سیاسی حلقوں میں غیر معمولی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ کیا ان حالات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ پیغام ملتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کی حکومت سے مقتدر حلقے بھی اب پہلے جیسی مطمئن نہیں ہیں؟ یا پھر معاملہ کچھ اور ہے اور پیپلز پارٹی کی کامیابی کی اصل وجوہات بالکل مختلف ہیں؟

آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

تحریک انصاف بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکی؟

پیپلز پارٹی کی کامیابی کا جائزہ لینے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عوام میں مقبول سمجھی جانے والی جماعت تحریک انصاف ان انتخابات میں بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکی۔

ظاہر ہے اس کی ایک بڑی وجہ تحریک انصاف کے اندر گزشتہ برسوں میں پیدا ہونے والی تقسیم ہے۔ سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی نااہلی اور اس کے بعد وجود میں آنے والے سیاسی دھڑوں نے پارٹی کی تنظیمی قوت کو متاثر کیا۔ پارٹی کے اندر ایک فارورڈ بلاک بھی ابھر کر سامنے آیا۔

دوسری وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت یا تو جیل میں ہے یا مختلف پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کو ان انتخابات میں بھرپور انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں ملا۔ جب بعض رہنماؤں نے گلگت بلتستان جانے کی کوشش کی تو انہیں واپس بھی لوٹایا گیا۔

دو ہزار چوبیس کے انتخابات کی طرح ان انتخابات میں بھی تحریک انصاف کے امیدواروں کے پاس ایک مشترکہ انتخابی نشان نہیں تھا اور وہ منتشر حیثیت میں انتخاب لڑ رہے تھے۔

اس کے علاوہ تحریک انصاف نے جن شکایات کا بار بار ذکر کیا، ان میں انتظامیہ کی طرف سے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں پر دباؤ کے الزامات بھی شامل تھے۔

پیپلز پارٹی کو فائدہ کس چیز کا ہوا؟

پیپلز پارٹی کو جو ووٹ ملا، وہ صرف اس کی اپنی مقبولیت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ موجودہ بندوبست سے نارضگی کا ووٹ بھی تھا۔ گزشتہ مہینوں اور سالوں میں گلگت بلتستان میں بجلی کے بحران، واپڈا کی پالیسیوں اور مختلف انتظامی مسائل کے حوالے سے شدید عوامی ردعمل سامنے آتا رہا۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران احتجاجی تحریکوں کا ایک تسلسل دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ بے روزگاری، ٹیکسوں، سبسڈی اور دیگر مسائل پر بھی عوامی مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان مطالبات کے حوالے سے لوگوں کو یہ شکایت رہی کہ ان کی مناسب شنوائی نہیں ہوئی۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت، خصوصاً میاں محمد نواز شریف، آخری دنوں میں گلگت بلتستان ضرور گئے، لیکن اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کا کوئی مؤثر قومی یا مقامی رہنما نمایاں طور پر متحرک دکھائی نہیں دیا۔

پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کتنی مؤثر تھی؟

آصفہ بھٹو زرداری گلگت بلتستان انتخابی مہم 2026

آصفہ بھٹو زرداری گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران عوام کا خیرمقدم قبول کرتے ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے اس مرتبہ بھرپور انتخابی مہم چلا کر 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر کامیابی حاصل کی۔

اب جب ہم پیپلز پارٹی کی کامیابی کی طرف آتے ہیں تو ایک بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ اس مرتبہ پیپلز پارٹی نے ایک بھرپور، منظم اور نہایت متحرک انتخابی مہم چلائی۔

اس کی سب سے نمایاں مثال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دونوں وارث بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری خطرات کی پروا نہ کرتے ہوئے ذاتی طور پر گلگت بلتستان پہنچے اور دشوار گزار علاقوں میں جا کر متعدد جلسوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ انہوں نے نوجوانوں، مقامی آبادی اور پارٹی کارکنوں میں ایک نیا جوش پیدا کیا، جس کے اثرات انتخابی نتائج میں نظر آنا فطری تھا۔

گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی تاریخی جڑیں

پیپلز پارٹی کی کامیابی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگرچہ اس کا سب سے مضبوط ووٹ بینک سندھ میں ہے، لیکن گلگت بلتستان میں بھی اس کی تاریخی جڑیں موجود ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے لے کر بینظیر بھٹو کے زمانے تک گلگت بلتستان کو پیپلز پارٹی کے اثر و رسوخ کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف آئینی، انتظامی اور ترقیاتی اقدامات میں بھی پیپلز پارٹی اپنا کردار اجاگر کرتی رہی ہے۔ اسی لیے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی ایک روایتی سیاسی بنیاد ہمیشہ موجود رہی ہے۔

اینٹی انکمبنسی فیکٹر کتنا اہم تھا؟

پیپلز پارٹی کی کامیابی کی ایک اور وجہ وہ ہے جسے سیاسی اصطلاح میں “اینٹی انکمبنسی فیکٹر” کہا جاتا ہے، یعنی وقت گزرنے کے ساتھ عوام حکمران جماعتوں سے نالاں ہونے لگتے ہیں اور ان کے بارے میں شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔

گزشتہ برسوں میں پہلے تحریک انصاف کی حکومت رہی، جبکہ بعد ازاں موجودہ سیاسی بندوبست قائم ہوا۔ اس دوران مہنگائی، معاشی مشکلات اور مختلف انتظامی مسائل کے اثرات عوام نے محسوس کیے اور اس ناراضی کی جھلک انتخابی نتائج میں بھی نظر آئی۔

⚖️ انتخابی عمل پر بڑا سوال

تحریک انصاف نے انتخابی ماحول، انتخابی نشان اور انتخابی مہم پر پابندیوں سمیت متعدد اعتراضات اٹھائے، تاہم اب تک ایسا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا جو یہ ظاہر کرے کہ نتائج کو بڑے پیمانے پر کسی مخصوص جماعت کے حق میں تبدیل کیا گیا۔ یہی پہلو ان انتخابات کو 2024 کے عام انتخابات سے مختلف بناتا ہے۔

کیا انتخابی نتائج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل ہوا؟

تحریک انصاف نے متعدد شکایات اٹھائیں، جن میں سب سے نمایاں شکایت یہ تھی کہ انہیں ایک ہموار انتخابی میدان میسر نہیں آیا۔ بعض مقامات پر انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگائے گئے، لیکن انتخابی نتائج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا کوئی واضح ثبوت اب تک منظر عام پر نہیں آیا۔

اگر 2024 کے انتخابات متنازع تھے تو گلگت بلتستان کے ان انتخابات میں کم از کم کسی مخصوص جماعت کے حق میں غیر معمولی مداخلت نمایاں طور پر نظر نہیں آتی۔

کیا وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے؟

اب آتے ہیں اس تجزیے کی طرف جو اس وقت بعض معتبر صحافیوں کی جانب سے سامنے آ رہا ہے۔

بعض مبصرین، جن میں سہیل وڑائچ بھی شامل ہیں، یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں وفاقی حکومت کے لیے سب کچھ اتنا ہموار نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق کچھ ایسے معاملات ہیں جن میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے اور حکومت پر دباؤ بھی موجود ہے۔

مثلاً معاشی میدان میں ٹیکس نیٹ بڑھانے، محصولات میں اضافہ کرنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے حوالے سے حکومت سے زیادہ مؤثر اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔

کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ چونکہ وفاقی حکومت کا اہم حمایتی طبقہ تاجر اور صنعت کار ہیں، اس لیے بعض مشکل فیصلوں میں اسے سیاسی احتیاط کا سامنا رہتا ہے۔

ایک اور اعتراض، جس کا اشارہ بعض کالم نگاروں نے بھی کیا ہے، یہ ہے کہ وفاقی حکومت سیاسی طور پر زیادہ متحرک نہیں اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے، اپنی مقبولیت بڑھانے اور سیاسی بیانیہ قائم کرنے میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں دکھا رہی۔

ایک خاص غور طلب نقطہ یہ بھی ہے کہ بعض مبصرین کے مطابق مقتدر حلقے وفاق اور صوبوں کے درمیان فنڈز کی تقسیم کو نئے سرے سے مرتب کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ اٹھارویں ترمیم کے بعض حصوں میں ردوبدل کے خواہاں ہیں۔ کئی مبصرین حکومت پر بڑھتی ہوئی تنقید کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

📌 اصل کہانی شاید نتائج سے بڑی ہے

انتخابات کے بعد چار آزاد امیدواروں کا اچانک استحکامِ پاکستان پارٹی میں شامل ہونا، وفاقی حکومت پر بڑھتی تنقید اور اٹھارویں ترمیم و وسائل کی تقسیم پر جاری بحث اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ گلگت بلتستان کے نتائج محض ایک علاقائی انتخاب نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر سیاسی منظرنامے کی ایک اہم جھلک بھی ہو سکتے ہیں۔

تو کیا واقعی ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے؟

اب اگر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا ان حالات میں وفاقی حکومت کے مستقبل کو واقعی کوئی خطرہ لاحق ہے، تو ظاہر ہے ہمارے لیے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اس بارے میں قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں۔

البتہ ایک بات طے ہے کہ وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھے گا۔ اسے ایک طرف بہتر معاشی کارکردگی دکھانا ہوگی، سیاسی طور پر اپنے آپ کو زیادہ منظم کرنا ہوگا، دوسری طرف ان مطالبات میں پیش رفت دکھانی ہوگی جو مقتدر قوتوں، مختلف معاشی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے سامنے آ رہے ہیں۔ ساتھ ہی اسے اپنے اتحادیوں، خصوصاً پیپلز پارٹی، کو بھی سیاسی طور پر مطمئن رکھنا ہوگا۔ اس سلسلے میں پنجاب میں برسرِ اقتدار مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے حصے کے فنڈز میں ایک بڑی کٹوتی کر کے پہلے ہی ایک بڑی پیش رفت کر چکی ہے۔

ان انتخابات کا شاید یہ مطلب نہیں کہ کوئی فوری سیاسی تبدیلی آنے والی ہے، لیکن ان نتائج کا یہ مطلب ضرور ہے کہ وفاقی حکومت کے سامنے آنے والے مہینوں میں آسان راستہ نہیں ہوگا۔ اسے کئی مشکل مراحل حکمت، تدبر اور بہتر کارکردگی کے ذریعے طے کرنا ہوں گے۔

شاید ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو کہ ہواؤں کا رخ واقعی بدل چکا ہے، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے برف پوش پہاڑوں سے اٹھنے والی سیاسی ہوا نے اسلام آباد کے ایوانوں تک ایک پیغام ضرور پہنچا دیا ہے۔

Read Previous

سومیٹک بریتھنگ: دماغ کو فوراً تروتازہ کرنے کا دلچسب طریقہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular