سومیٹک بریتھنگ: دماغ کو فوراً تروتازہ کرنے کا دلچسب طریقہ

سومیٹک بریتھنگ: کیا یہ مشق 90 سیکنڈ میں آپ کے دماغ کو تروتازہ کر سکتی ہے

جب دماغ ساتھ نہ دے تو کیا کریں؟

کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کئی گھنٹوں سے کام کر رہے ہوں، لیکن اچانک محسوس ہو کہ دماغ مزید ساتھ دینے کو تیار نہیں؟ توجہ بکھرنے لگتی ہے، خیالات الجھ جاتے ہیں اور معمولی کام بھی مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ دفتر میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے افراد ہوں یا گھر کے کاموں اور ذمہ داریوں میں مصروف لوگ، یہ کیفیت تقریباً ہر کسی کو کبھی نہ کبھی پیش آتی ہے۔

اسی طرح بعض اوقات کوئی ناخوشگوار خبر، اچانک پیدا ہونے والی پریشانی یا جذباتی صدمہ بھی انسان کو ذہنی طور پر مفلوج سا کر دیتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، ذہن ایک ہی خیال میں الجھ جاتا ہے اور اعصابی تناؤ بڑھنے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں فوری طور پر سکون اور ذہنی یکسوئی حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

دماغ میں کیا ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق شدید ذہنی دباؤ، تھکن یا جذباتی بے چینی کے دوران دماغ اور جسم میں مختلف حیاتیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ انہی تبدیلیوں کے نتیجے میں بعض افراد ایک ایسی کیفیت محسوس کرتے ہیں جسے عام طور پر برین فوگ (Brain Fog) کہا جاتا ہے۔

برین فوگ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک وقتی ذہنی اور جسمانی کیفیت کا نام ہے۔ اس میں توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، ذہنی سستی، بھولنے کی شکایت اور فیصلہ سازی میں مشکلات شامل ہو سکتی ہیں۔ نیند کی کمی، مسلسل ذہنی دباؤ، جسمانی تھکن اور غیر متوازن طرزِ زندگی اس کیفیت کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب انسان کسی دباؤ، خوف یا پریشانی کا سامنا کرتا ہے تو جسم تناؤ سے متعلق مختلف ہارمونز خارج کرتا ہے، جن میں کورٹیسول بھی شامل ہے۔ مختصر مدت کے لیے کورٹیسول مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جسم کو چوکنا اور حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ تاہم اگر ذہنی دباؤ مسلسل برقرار رہے تو یہی نظام تھکن، بے چینی اور ذہنی انتشار میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

فوری سکون کے لیے ایک دلچسپ طریقہ

ذہنی دباؤ اور برین فوگ سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ باقاعدہ ورزش، چہل قدمی، مراقبہ (Meditation)، متوازن غذا اور مناسب نیند ان میں شامل ہیں۔ تاہم بعض اوقات انسان کو ایسے طریقے کی ضرورت ہوتی ہے جو چند لمحوں میں اسے سنبھلنے کا موقع دے سکے۔

ایسے ہی طریقوں میں ایک تکنیک سومیٹک بریتھنگ (Somatic Breathing) بھی ہے، جسے آج کل ذہنی سکون، اعصابی تناؤ میں کمی اور جسمانی آگاہی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سومیٹک بریتھنگ کیا ہے؟

سومیٹک بریتھنگ دراصل سانس اور جسمانی احساسات پر شعوری توجہ دینے کی ایک مشق ہے۔ اس کا مقصد صرف گہری سانس لینا نہیں بلکہ اپنے جسم اور ذہن کے درمیان تعلق کو دوبارہ محسوس کرنا بھی ہے۔

کچھ ماہرین، جن میں نیوروسائنس سے وابستہ محققین بھی شامل ہیں، یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ شدید جذباتی ردعمل کا ابتدائی جسمانی اثر مختصر وقت تک رہتا ہے، جبکہ اس کے بعد اکثر ہمارا ذہن اسی واقعے کو بار بار دہرا کر تناؤ کو برقرار رکھتا ہے۔ اگر اس دوران توجہ کو سانس، جسم اور موجودہ لمحے کی طرف منتقل کر دی جائے تو ذہنی دباؤ کی شدت کم ہو سکتی ہے۔

اگرچہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ چند سیکنڈ میں تمام تناؤ یا کورٹیسول مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے، لیکن متعدد مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گہری اور پرسکون سانسیں اعصابی نظام کو نسبتاً متوازن بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

سومیٹک بریتھنگ کیسے کی جاتی ہے؟

اس مشق کے لیے کسی خاص جگہ یا سامان کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سب سے پہلے چند لمحوں کے لیے اپنا کام روک دیں اور سیدھے بیٹھ جائیں۔ اب ناک کے ذریعے آہستہ اور گہری سانس اندر لیں اور منہ یا ناک سے دھیرے دھیرے خارج کریں۔ سانس کو زبردستی تیز یا بہت گہرا بنانے کی ضرورت نہیں، صرف اسے معمول سے زیادہ پرسکون اور متوازن رکھیں۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ اس مشق کے دوران توجہ اُن خیالات سے ہٹ جائے جو بار بار ذہن میں گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنی سانس کی طرف دھیان دیں۔ محسوس کریں کہ ہوا ناک کے ذریعے اندر جا رہی ہے اور پھر باہر آ رہی ہے۔ اگر چاہیں تو سانسوں کی گنتی پر بھی توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد اپنی توجہ جسم کی طرف منتقل کریں۔ غور کریں کہ جسم کے مختلف حصوں میں آپ کیا کیفیت محسوس کر رہے ہیں۔ تناؤ کہاں موجود ہے؟ اپنے کندھوں، جبڑوں، چہرے اور پیشانی کو ذہن میں لا کر محسوس کریں کہ ان میں موجود کھنچاؤ آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے اور وہ پرسکون ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی تصور کو ہاتھوں، بازوؤں اور جسم کے دیگر حصوں تک بھی باری باری پھیلائیں۔

یاد رکھیں، یہ سب عمل ذہنی طور پر کرنا ہے۔ جسم کے حصوں کو شعوری طور پر ڈھیلا چھوڑنے کی کوشش کریں، لیکن انہیں حرکت دینے یا کسی قسم کا جسمانی دباؤ ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے پاس جتنا وقت دستیاب ہو، یا جتنی دیر آپ آسانی سے گہری سانسیں لے سکیں، اتنا وقت کافی ہے۔

اس مشق کے ساتھ یا اسے شروع کرنے سے پہلے چند لمحوں کے لیے اپنے جذبات کو پہچاننے کی کوشش کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر خود سے پوچھیں: “میں اس وقت کیا محسوس کر رہا ہوں؟” یا “کیا میں ذہنی تھکن کا شکار ہوں؟”

اپنے جذبات کو درست طور پر شناخت کرنے کی کوشش کریں۔ کیا آپ اداس ہیں؟ کیا یہ غصہ ہے، جھنجھلاہٹ ہے، مایوسی ہے یا محض بوریت؟ بعض ماہرین کے مطابق جذبات کو پہچاننا اور انہیں نام دینا انسان کو ان پر بہتر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

فوری مدد، مستقل حل نہیں

سومیٹک بریتھنگ ذہنی دباؤ، اعصابی تناؤ یا برین فوگ کے دوران ایک مفید فوری مشق ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ چند لمحوں کے لیے ذہن کو منتشر خیالات سے ہٹا کر موجودہ لمحے پر مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے اور بعض افراد کو فوری سکون کا احساس بھی دلا سکتی ہے۔

تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ زندگی کے بنیادی مسائل، مسلسل ذہنی دباؤ یا صحت سے متعلق پیچیدہ مسائل کا متبادل نہیں۔ اگر تھکن، بے چینی یا ذہنی دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہے تو بہتر نیند، متوازن طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمی اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ صحت سے مشورہ ہی دیرپا حل فراہم کر سکتا ہے۔

بعض اوقات صرف 90 سیکنڈ کی پرسکون سانسیں زندگی نہیں بدلتی، لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ وہ آپ کے دن کے اگلے چند گھنٹے بہتر بنا

ھ

Read Previous

پنجاب کے ترقیاتی فنڈز میں تاریخی کٹوتی کیوں؟ اصل کہانی کیا ہے؟

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular