پمز ہسپتال اسلام آباد سانحہ، سرکاری اداروں میں غفلت کی وجوہات کیا ہیں

پمز ہسپتال سانحہ اور عالمی میڈیا کی رپورٹ

پمز ہسپتال اسلام آباد سانحہ کے بار میں رپورٹ کرتے ہوئے “انٹرنیشنل نیوز چینل الجزیرہ کا کہنا ہے کہ 26 اگست کی صبح 46 سالہ عارف رانا اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے باہر لان میں سو رہا تھا کہ تقریباً ساڑھے چھ بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے رونے اور چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اس کی سالی نے بتایا کہ اسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ میں آگ لگ گئی ہے اور جہاں اس کی بہن اور اس کا نومولود بچہ بھی موجود ہے۔ لہٰذا وہ جلدی سے اسپتال پہنچا۔

رانا اپنے 20 سالہ بیٹے کے ساتھ ننگے پاؤں وارڈ کی طرف دوڑا۔ تیسری منزل کی طرف جاتے ہوئے اسے دھویں سے بھری ہوئی راہداریاں ملیں۔ وہاں اتنا اندھیرا، دھواں اور گرمی تھی کہ سانس لینا مشکل تھا۔ اس نے اپنی بہن کی ساس کو وہاں سے نکال کر محفوظ مقام تک پہنچایا۔ باہر آ کر اسے معلوم ہوا کہ اس کی بہن اور اس کی نومولود بچی کو اس کی سالی نے بچا لیا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ اگر اس کی سالی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہمت نہ کی ہوتی تو اس کی بہن اور اس کی نومولود بچی بھی شاید ان 14 بچوں کی طرح اس آگ کا شکار ہو جاتیں جو اسی اسپتال کی انتہائی نگہداشت کی نرسری میں زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔”

یہ صرف ایک شخص کی داستان نہیں۔ پمز کے اس سانحے کے بعد سامنے آنے والی عینی شہادتوں میں کئی لوگوں نے دھویں، شدید گرمی، اندھیرے، چیخ و پکار اور افراتفری کا ذکر کیا ہے۔ ایک اور شخص، سردار عتیق الرحمان، نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس کی اہلیہ نے صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے اسے فون کر کے آگ اور دھویں کے بارے میں بتایا اور فوری طور پر اسپتال پہنچنے کو کہا۔ اس کے مطابق اندر سیکیورٹی اہلکار موجود تھے لیکن اسے کوئی ڈاکٹر یا نرس نظر نہیں آئی۔

یہاں سے ایک انتہائی اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔

کیا اس وقت وارڈ میں طبی عملہ موجود تھا؟

اس بارے میں بھی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض رشتہ داروں نے الجزیرہ کو بتایا کہ عملہ رات بھر موجود تھا لیکن آگ لگنے کے بعد گھبراہٹ میں باہر نکل گیا۔ دوسری طرف پمز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں دو ڈاکٹر اور چار نرسیں ڈیوٹی پر موجود تھیں۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی یہی تعداد بتائی۔

اصل حقیقت انکوائری کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

اسی طرح ایک اور بنیادی سوال وارڈ کے دروازوں اور ہنگامی راستوں کے بارے میں ہے۔

متعدد عینی شاہدین نے بتایا کہ متاثرہ پرانی عمارت کی تیسری منزل پر موجود وارڈ کا ایک ہی مرکزی داخلی و خارجی راستہ تھا جبکہ ہنگامی راستے مبینہ طور پر اندر سے بند تھے۔ الجزیرہ سے گفتگو کرنے والے افراد نے یہ بھی بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں کو اندر داخل ہونے میں دشواری ہوئی اور ایک فائر فائٹر کے مطابق عمارت تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کھڑکیوں کے شیشے اور ان کے سامنے موجود کنکریٹ کی جالیاں توڑ کر لوگوں کو نکالا گیا۔

پمز انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ نرسری تک رسائی محدود رکھنے کی ایک پرانی پالیسی موجود تھی تاکہ نومولود بچوں کو چوری یا اغوا سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اسپتال میں پہلے بھی نومولود بچوں کی چوری کے واقعات ہو چکے تھے، اس لیے وارڈ کے دروازوں اور داخلی راستوں تک رسائی محدود رکھی جاتی تھی۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی ضروری تھی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی نرسری میں ایسے بچے موجود ہوں جو نہ خود چل سکتے ہیں، نہ بھاگ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی ہنگامی صورت حال میں اپنی حفاظت کر سکتے ہیں، تو ان کی حفاظت کا ایسا نظام کیوں نہ بنایا گیا جس میں چوری سے بھی تحفظ ہو اور آگ لگنے کی صورت میں فوری انخلا بھی ممکن ہو؟

اور ابھی تک یہ بات بھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی کہ آگ کہاں سے شروع ہوئی۔

ابتدائی طور پر اسپتال انتظامیہ اور وفاقی وزیر صحت کی طرف سے بتایا گیا کہ نرسری کے ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ یا چنگاری سے آگ لگی۔ پمز کی ابتدائی تفصیل کے مطابق سی سی ٹی وی میں صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایک چنگاری دکھائی دی اور اس کے چند ہی لمحوں بعد آگ نے شدت اختیار کر لی، جبکہ نرسری میں موجود آکسیجن پوائنٹس کی وجہ سے شعلے تیزی سے پھیل گئے۔

لیکن 27 اگست کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے ارکان نے پمز کا دورہ کرنے کے بعد اس وضاحت پر سوالات اٹھائے۔ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار کے مطابق سی سی ٹی وی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آگ کا منبع پرانا ایئر کنڈیشنر تھا۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ پرانا اے سی ایک عرصے سے کام نہیں کر رہا تھا۔ آکسیجن پائپ لائن اور برقی تاروں میں ممکنہ خرابی سمیت دیگر امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یعنی اس وقت آگ کے اصل منبع کا حتمی تعین نہیں ہوا۔ (The Express Tribune)

ریسکیو کے وقت کے بارے میں بھی مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق پہلی ایمرجنسی کال صبح 6 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی اور فائر ٹینڈرز اور ایمبولینسیں تقریباً سات منٹ میں اسپتال پہنچ گئیں۔ تاہم ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس کے اسٹیشن کو اطلاع 6 بج کر 55 منٹ پر ملی اور اس کی بنائی ہوئی ویڈیو پر اسپتال پہنچنے کا وقت 7 بج کر 6 منٹ درج تھا۔ ان متضاد اوقات کی بھی تحقیق ضروری ہے۔

اس سانحے میں نرسری میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ باقی 14 بچے جاں بحق ہو گئے۔ ان میں ایک ایسی بچی بھی تھی جو صرف تین دن پہلے پیدا ہوئی تھی اور سانس لینے میں دشواری کے باعث نرسری میں داخل تھی۔

یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ بھی نہیں ہے۔ جون 2024 میں پنجاب کے ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے شعبۂ اطفال میں آگ لگنے سے 11 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ بعد کی تحقیقات میں اسپتال کے فائر ایکسٹنگوشرز کے میعاد گزر جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ دو سال بعد دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری اسپتالوں میں شمار ہونے والے پمز میں ہم نے کیا سیکھا؟

یہاں سے ہماری اصل بحث شروع ہوتی ہے۔

سرکاری اداروں میں غفلت کی وجوہات

انسان کے مزاج میں جو سستی اور سہل انگیزی کا عنصر شامل ہے، اس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کے سرکاری اداروں میں ملتی ہے۔

سرکاری اداروں میں طریقہ کار تو بڑی سمجھ داری سے طے کر دیا جاتا ہے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ طریقہ کار روزمرہ کی روٹین میں بدل جاتا ہے۔ پھر یہ روٹین آہستہ آہستہ اپنی کارکردگی کی کم ترین سطح، یعنی ’’بئیر منیمم‘‘ تک پہنچ جاتی ہے۔

اس حالت میں روزمرہ کے معمولات تو چلتے رہتے ہیں، لیکن یہ جائزہ کبھی نہیں لیا جاتا کہ اس معمول کے اندر وقفے یا گیپ کہاں کہاں پیدا ہو رہے ہیں۔ کون سی چیز صرف اس لیے چل رہی ہے کہ ابھی تک کوئی بڑا مسئلہ سامنے نہیں آیا؟ کون سا حفاظتی انتظام صرف کاغذ پر موجود ہے؟ اور اگر اچانک کوئی غیر معمولی صورت حال پیدا ہو جائے تو کیا واقعی ہمارا نظام اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

پمز کا سانحہ شاید اسی بنیادی سوال کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

1۔ پرو ایکٹو اپروچ کی کمی

پاکستان کے سرکاری اداروں میں ایسا کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آتا کہ متعلقہ افسران اور ذمہ داران اپنی ذمہ داریوں کا باقاعدگی سے خود جائزہ لیں اور ایک متحرک انداز میں آگے بڑھ کر یہ دیکھیں کہ خرابی کہاں پیدا ہو رہی ہے یا خرابی کے امکانات کہاں موجود ہیں۔

ایک پرو ایکٹو ادارہ حادثے کا انتظار نہیں کرتا۔ وہ حادثے کے امکانات تلاش کرتا ہے اور ان کے پیدا ہونے سے پہلے انہیں ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک باقاعدہ جائزے اور آڈٹ کا نظام موجود ہو، جہاں وقفے وقفے سے دیکھا جائے کہ کیا تمام چیزیں اپنے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق کام کر رہی ہیں؟ کیا آلات درست حالت میں ہیں؟ کیا ہنگامی راستے کھلے ہیں؟ کیا عملہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ ہے؟ اور اگر اچانک کوئی غیر متوقع صورت حال پیدا ہو جائے تو اس سے نمٹنے کا عملی بندوبست موجود ہے یا نہیں؟

2۔ عارضی بنیادوں پر کام اور فیصلہ سازی میں مرکزیت

سرکاری اداروں میں عام طور پر کام ایسے ہوتا ہے جسے آپ افراتفری کا نظام کہہ سکتے ہیں۔

جو افراد اپنی ڈیوٹیز سے براہ راست منسلک ہوتے ہیں، انہیں اپنے سے بڑے افسران سے روزانہ کی بنیاد پر احکامات ملتے رہتے ہیں۔ کچھ کام انجام پا جاتے ہیں اور کچھ ادھورے رہ جاتے ہیں۔ پھر اگلا دن شروع ہوتا ہے اور نئے احکامات آ جاتے ہیں۔

اس طرح اس نظام میں ہر کوئی اپنے سے اوپر کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے اور اکثر اداروں میں ہر چھوٹا بڑا فیصلہ ادارے کا سربراہ خود کر رہا ہوتا ہے۔

ایسی شدید مرکزیت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک انسان کی نظر ہر چیز پر ہو۔ نتیجتاً غفلت کے گیپ بڑھنے لگتے ہیں۔ پھر جب یہ بلیک ہول ایک دوسرے کے قریب آتے آتے آپس میں مل جاتے ہیں تو کوئی نہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔

پمز کے سانحے میں بھی اصل سوال شاید صرف یہ نہیں کہ آگ کہاں سے لگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد نظام نے کیا کیا؟

کیا ہر دروازہ فوری طور پر کھولا جا سکتا تھا؟

کیا ہنگامی راستے واقعی قابل استعمال تھے؟

کیا نرسری کے نومولود بچوں کو چند منٹوں میں نکالنے کا باقاعدہ طریقہ موجود تھا؟

کیا عملے کو معلوم تھا کہ کس نے کیا کرنا ہے؟

اور کیا اس پورے نظام کی کبھی عملی مشق کی گئی تھی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کسی ایک اے سی، ایک تار یا ایک اہلکار کو ذمہ دار ٹھہرا دینے سے نہیں ملیں گے۔

مجوزہ حل کیا ہے؟

واضح ایس او پیز اور باقاعدہ جائزہ

ایک تو باقی دنیا کی طرح ہر ادارے میں، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، صحت یا تعلیم سے متعلق ہو یا قومی سلامتی سے، طے شدہ اور مؤثر اسٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجرز، یعنی ایس او پیز، موجود ہونے چاہئیں۔

لیکن صرف ایس او پیز بنا دینا کافی نہیں۔

ان مقررہ وقفوں کا بھی تعین ہونا چاہیے جن کے بعد ان ایس او پیز پر عمل درآمد کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا رہے، یعنی ان کا آڈٹ ہوتا رہے۔

اگر کسی اسپتال میں یہ طے ہے کہ ایمرجنسی ایگزٹ ہر وقت قابل استعمال ہونا چاہیے تو کسی افسر کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ خود جا کر دیکھے کہ ایگزٹ واقعی قابل استعمال ہے یا نہیں۔

اگر یہ طے ہے کہ فائر سیفٹی کا نظام فعال ہونا چاہیے تو صرف رجسٹر پر دستخط کافی نہیں ہونے چاہئیں۔ عملی طور پر اس نظام کو آزمایا جانا چاہیے۔

اور اگر کسی جگہ کوئی خامی ملے تو اس کے درست ہونے کا دوبارہ جائزہ بھی لیا جائے۔

فیصلہ سازی کی آزادی

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ متعلقہ افسران کو خود عمل کرنے اور خود سے فیصلے کرنے کی آزادی دی جائے۔

ہماری افسر شاہی، بیوروکریسی اور انتظامی ڈھانچے میں پرو ایکٹو اپروچ یا پرو ایکٹو سوچ اپنانے کی عادت ڈالنا ہوگی۔

فیلڈ میں موجود افسر کو یہ سوچنا ہوگا کہ اس کے سامنے جو کام موجود ہے، اس کے علاوہ اور کیا کام ہے جو وہ کر سکتا ہے؟ خرابی کے نئے امکانات کہاں پیدا ہو سکتے ہیں؟ کون سا راستہ کل بند ہو سکتا ہے؟ کون سا حفاظتی انتظام صرف اس لیے نظر انداز ہو رہا ہے کہ ابھی تک کوئی حادثہ نہیں ہوا؟

اگر ہر شخص صرف اوپر سے آنے والے حکم کا انتظار کرتا رہے گا تو ادارہ کبھی زندہ اور متحرک ادارہ نہیں بن سکے گا۔

مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال

آج کے دور میں کام قدرے آسان ہو سکتا ہے، اگر مصنوعی ذہانت کا بھرپور اور ذمہ دارانہ استعمال کیا جائے۔

طریقہ کار اور ایس او پیز کو مصنوعی ذہانت کے معاون نظام سے منسلک کیا جا سکتا ہے اور اسے اس طرح تربیت دی جا سکتی ہے کہ وہ مختلف معاملات کو مسلسل چیک لسٹ کی بنیاد پر دیکھتا رہے کہ کون سے کام بہتر طور پر چل رہے ہیں اور کون سے معاملات ہیں جن پر کچھ عرصے سے توجہ نہیں دی جا سکی۔

مثلاً اگر فیلڈ میں کسی مینیجر کے ماتحت پچاس افراد ہیں تو اس کے اعلیٰ افسر یا مینیجر کے سربراہ تک ایک مختصر اور جامع رپورٹ پہنچ سکتی ہے کہ کہاں کام اچھا ہو رہا ہے، کہاں ایس او پیز پر عمل ہو رہا ہے اور کون سی ایسی جگہیں ہیں جہاں کچھ عرصے سے ایس او پیز یا چیک لسٹ پر توجہ نہیں دی گئی۔

یہ نظام افسرانِ بالا کو بروقت متنبہ کر سکتا ہے کہ فلاں حفاظتی انتظام کا معائنہ کافی عرصے سے نہیں ہوا، فلاں آلات کی جانچ باقی ہے، فلاں ہنگامی راستے کی تصدیق نہیں ہوئی یا فلاں شعبے میں کسی اہم طریقہ کار پر عمل درآمد کی نگرانی نہیں کی گئی۔

مصنوعی ذہانت انسان کا متبادل نہیں، لیکن ایک ایسا معاون نظام ضرور بن سکتی ہے جو انسان کی نظروں سے اوجھل ہونے والے مسلسل چھوٹے چھوٹے خلا کی نشاندہی کر سکے۔

ہم دنیا کے باقی ممالک سے شاید اس طرح مختلف ہیں کہ ہمارے یہاں سنگین حادثات وقفے وقفے سے ہوتے رہتے ہیں۔ ان پر ہاہاکار اور چیخ و پکار مچتی ہے۔ تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں، کچھ لوگوں کو معطل کیا جاتا ہے، کچھ کمیٹیاں بنتی ہیں، چند دن خبریں چلتی ہیں، پھر وقت گزر جاتا ہے اور ہم سب کچھ بھول بھال کر اگلے حادثے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔

اصل ضرورت اس سلسلے کو توڑنے کی ہے۔

چودہ معصوم بچوں کی ہلاکت ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جسے محض ایک اور حادثہ کہہ کر گزر جانا ان بچوں کے ساتھ دوسری ناانصافی ہوگی۔

ان میں سے اکثر وہ بچے تھے جنہیں شاید ان کے والدین شاید بھرپور انداز سے دیکھ بھی نہ پائے۔ وہ

اصل سبق یہ ہے کہ کسی بھی ادارے میں غفلت ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی۔

وہ چھوٹی چھوٹی نظراندازیوں، معمول بن جانے والی خامیوں، غیر مؤثر نگرانی، ضرورت سے زیادہ مرکزیت، جواب دہی کے فقدان اور ’’ابھی تو سب ٹھیک چل رہا ہے‘‘ کی سوچ سے پیدا ہوتی ہے۔

اگر ہم نے واقعی اس واقعے سے سبق سیکھ لیا، اپنے طریقہ کار بہتر بنا لیے، اداروں میں پرو ایکٹو سوچ پیدا کر دی، ایس او پیز کو زندہ دستاویز بنا دیا، تو پھر ایسا فقرہ دوبارہ نہ سننا “پڑھےمیرا بچہ مجھے واپس کر دو۔”

Read Previous

ہم کتنے آزاد ہیں؟ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کا  عالمی پیمانوں پر جائزہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular