یہ مصری فٹبال ٹیم کا جانا مانا نام محمد صلاح ہے_
ورلڈ کپ کا میچ جیتنے کے بعد یہ فرعون (قدیم مصری ثقافتی لباس) کا روپ دھار کر ، جشن منا رہا ہے
توبہ توبہ ، فرعون ؟
کیا یہ مسلمان نہیں ؟
اگلے جہان جا کر کیا منہ دکھائے گا ؟
(یہ ایک عام پنجابی پاکستانی کی سوچ ہو سکتی ہے یہ تصاویر دیکھ کر)
جی بھائی ، مسلمان بھی ہے ، مصری بھی ہے
لیکن اپنی تاریخ اور اپنے اجداد کو نہیں بھولا ، اجداد کو یاد رکھنے سے مراد یہ نہیں کہ آپ کا مذہب بدل گیا
مسلمان پاکستانی اور خاص طور پر مسلمان پنجابی ، اک عجب “الباکستان” میں جیتے ہیں_
مسلم امہ والا والا شوق سوائے یہاں، کہیں موجود نہیں
ابھی ابھی متحدہ عرب امارات بھی سے دوستی کی پینگ تڑوا بیٹھے ہیں
افغانستان ان کو دشمن کہتا ہے
ایران کے ابھی بھائی بنے ہوئے ہیں لیکن چند برس پہلے ایک دوسرے کے علاقے میں میزائل مارنے کی نوبت آ گئی تھی، ایرانیوں نے چاہ بہار بندر گاہ بھارت کو دے دی اور کشمیر کے مدعے پر بھی وہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہے_
امریکہ کے ساتھ جنگ میں بھی فارس نے خود کو فارس کہا نا کہ مسلم امہ، یعنی ہزاروں سال پرانی تاریخ سے خود کو جوڑا کہ جب ان کے اجداد زرتشت تھے_
اسی طرح میں نے کبھی ارتغرل ڈرامہ نہیں دیکھا ، کائی قبیلے کی کہانی کو کیا دیکھنا، وہ ڈرامہ از خود نسل اور شناخت کی بنیاد پر بنا ہے ، ایک مرتبہ نظر سے ایک کلپ گزرا تھا جس میں ہیرو مکالمہ بولتا ہے
“ہم تُرک ہیں، ہم کسی سے نہیں ہارتے”
یعنی اس نے خود کو تُرک کہا نا کہ مسلمان شناخت سے خود کو جوڑا_ باقی جو صلیبی جنگیں نما جھلکیاں تھیں وہ الگ کہانی ہے _
ہر کوئی اپنے عرب، ترک اور افغان ہونے پر فخر کرتا ہے، مصری اپنے فرعونوں کے مجسمے نہیں توڑتے، اسے کُفار کی نہیں اپنی تاریخ کہتے ہیں_
اور ایک مسلمان پنجابی ہیں
ہر شے میں ان کو احساسِ کمتری ہے، تاریخ ان کی یا تو سینتالیس سے شروع ہوتی ہے یا محمد بن قاسم سے
اس سے پیچھے سب دورِ جاہلیت ہے ان کے لیے ، ہڑپہ تہذیب بھی ان کی نہیں، کُفار کی ہے
ایسی جہالت راتوں رات نہیں آتی، اس کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، نسلوں تک زبان چھیننا پڑتی ہے، تاریخ مٹانا پڑتی ہے، جھوٹی تاریخ بنانا پڑتی ہے، بچے بچے کو رٹانی پڑتی ہے، پیسہ لگتا ہے ، وقت لگتا ہے ، آمریت لگتی ہے، جبر لگتا ہے
پھر ایسی فصل تیار ہوتی ہے جو منہ پر گالی کھا کر بھی اپنا سبق نہیں بھولتی
ہر شے کو کفار کی چال یا بھارت کی چال کہتی ہے
پنجابی سیوک اگر رنجیت سنگھ کا بھی نام لے لیں تو ان کے منہ سے جھاگ چھوٹ جاتی ہے، کچھ افغان بھی تڑپتے ہیں لیکن اس کے بعد اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ پنجابی خود ہیں_



One Comment
اور پھر کفر کے سرٹیفکیٹ تو ہاتھوں ہاتھ ملیں گے۔ کوئی بات نہیں آپ اپنی دھن میں لگے رہیں۔ 😂😂