انڈس ویلی تہذیب کا وارث کون؟ — جدید جینیاتی تحقیق کیا کہتی ہے؟

ایک ایسی تحقیق جسے شائع ہونے سے روکا گیا

کہتے ہیں سائنس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اور اچھے سائنس دان علاقوں اور قوموں کی سیاست سے بھی آزاد ہوتے ہیں۔ لیکن آپ میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ موجودہ انڈیا کے باشندوں کی جینیٹکس پر ایک باقاعدہ تحقیق ہوئی، جس میں عالمی اور انڈین ماہرین شامل تھے، مگر اس کی اشاعت کو روک دیا گیا؟ پوری دنیا کی پریس میں رپورٹ ہونے والے اس واقعے کے مطابق، تحقیق میں شامل انڈین ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر یہ تحقیق منظرِ عام پر آگئی تو ہمیں اس کے سیاسی اور عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا، جسے ہم برداشت نہیں کر سکیں گے۔

یہ تحقیق کیا کہتی تھی؟ آخرکار یہ کیسے شائع ہو سکی؟ اس کا ذکر ہم اس مضمون میں ضرور کریں گے، لیکن میری اس تحریر کا بنیادی مقصد اس بحث کے بارے میں جینیاتی تحقیق پر روشنی ڈالنا ہے، جس نے اس وقت انڈیا اور پاکستان کے سوشل میڈیا پر زور پکڑ رکھا ہے۔

اصل سوال: انڈس ویلی کے لوگ کون تھے؟

اور وہ بحث یہ ہے کہ انڈس ویلی تہذیب کا وارث کون ہے؟ اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ انڈس ویلی کے لوگ کون تھے، اور آج ان کی اولادیں کہاں آباد ہیں؟

آئیے بات اس وقت سے شروع کرتے ہیں جب افریقہ میں جدید انسان ہومو سیپینس تقریباً تین لاکھ سال پہلے ظہور پذیر ہوئے، اور پھر وہ ستر ہزار سال پہلے بحرِ احمر (Red Sea) کو عبور کر کے شمالی کرۂ ارض، یعنی دنیا کے اس حصے میں داخل ہوئے جسے ہم Eurasia کہتے ہیں۔ [1][2]

یہاں پہنچنے والے انسان دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ ساحلی راستوں سے جنوبی ہند اور متعلقہ جزیروں کی طرف بڑھا، جبکہ دوسرا گروہ زمینی راستے سے پہلے مشرقِ وسطیٰ (Fertile Crescent) میں داخل ہوا، اور اس کے بعد آج کے ایرانی پلیٹو، متعلقہ علاقوں، انڈس ریجن، اور مغرب میں میسوپوٹیمیا اور اناطولیہ کے علاقوں میں آباد ہو گیا۔

معتبر میگزین Nature میں شائع ہونے والی 2024ء کی معروف تحقیق میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ انسان ساٹھ ہزار سے پینتالیس ہزار سال پہلے ایرانی پلیٹو سے متعلقہ وسیع خطے میں قیام پذیر رہے۔ سخت برفانی موسم نے انہیں مزید شمال اور مغرب کی طرف بڑھنے نہیں دیا۔ اسی طرح Narendra Katkar (2011) کی معروف تحقیق بتاتی ہے کہ چھبیس ہزار سے پندرہ ہزار سال پہلے، جب برفانی دور اپنی شدید ترین حالت میں پہنچ گیا، تو انسان دوبارہ نسبتاً معتدل اور رہنے کے قابل انڈس ریجن میں سمٹ آیا۔ تاہم، ان واقعات کی تفصیل ہم اس سلسلے کے اگلے مضمون میں بیان کریں گے۔ [3][4]

مہرگڑھ: زراعت اور تہذیب کا آغاز

اس وقت ہماری توجہ کا مرکز وہ لوگ ہیں جو زمینی راستے سے یوریشیا پہنچنے والی شاخ کا حصہ تھے، جو آ کر گریٹر انڈس ریجن اور عظیم دریائے سندھ کے دونوں کناروں اور اس میں آ کر گرنے والے دریاؤں کے آس پاس آباد ہو گئے۔ فرانسیسی ماہر آثارِ قدیمہ ژاں فرنسوا جریج (Jean-François Jarrige) کی مہرگڑھ میں کی جانے والی طویل تحقیقات نے ثابت کیا کہ مہرگڑھ کے باسیوں نے تقریباً نو ہزار سال پہلے کسی بیرونی اثر کے بغیر، مکمل طور پر آزادانہ طور پر زراعت اور گلہ بانی کی بنیاد رکھی تھی۔ جب موافق موسم، زرخیز زمین اور میٹھے پانیوں نے ان کی ضرورت سے کہیں زیادہ اناج پیدا کرنا شروع کیا تو تجارت، صنعت اور حرفت نے جنم لیا، اور یوں دنیا کی ایک پہلی منظم ریاست وجود میں آئی، جسے عظیم ہڑپا تہذیب کہتے ہیں۔ [5]

جینیات نے پرانے نظریات کیسے بدل دیے؟

لیکن ہڑپہ تہذیب بسانے والے یہ لوگ کون تھے۔ کیا یہ افریقہ سے نکل کر خشکی کے راستے ایرانی پلیٹو اور گریٹر انڈس ریجن میں آ بسنے والے قدیم تریں لوگوں کی ہی اُولایں تھیں؟ یا یہ مغرب اور شمال کے کسی اور خطے سے آۓ تھے اور زراعت اور صنعتی مہارتیں اپنے ساتھ لائے تھے؟ یا پھر کیا یہ جنوبی ساحلوں سے ہندوستان میں آنے والے وہ قدیم ترین باشندے تھے جو پہلے پہل جنوبی ہند میں آباد ہوئے؟ یہ معمہ ایک طویل عرصے تک حل نہ ہو سکا، کیونکہ جب ہڑپا اور موہنجودڑو دریافت ہوئے اور وہاں سے انسانی باقیات ملیں، اُس وقت جینیات (Genetics) کا علم ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا تھا کہ ان لوگوں کی اصل شناخت کی جا سکتی۔

اُس زمانے میں صرف کھوپڑیوں اور جسمانی ڈھانچوں کی بناوٹ کو دیکھ کر اندازے لگائے گئے کہ یہ مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آج جدید جینیاتی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ ان میں سے اکثر اندازے ناقص تھے، اور اب انہیں علمی طور پر مسترد کیا جا چکا ہے۔

اس کہانی میں ایک دلچسپ موڑ اُس وقت آیا جب برصغیر پاک و ہند اور انڈس ریجن کے موجودہ لوگوں پر وسیع پیمانے پر جینیاتی تحقیق ہوئی، جس کے نتائج اتنے غیر معمولی تھے کہ انہیں منظرِ عام پر لانا بھی مشکل ہو گیا۔ (اس تحقیق کو روکے جانے کی پوری تفصیل میں اس سلسلے کے ایک اگلے مضمون میں بیان کروں گا۔)

برصغیر کے دو بڑے جینیاتی گروہ

اس تحقیق نے بتایا کہ برصغیر، یعنی موجودہ ہندوستان اور پاکستان میں بسنے والے لوگ جینیاتی اعتبار سے واضح طور پر دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہیں۔ برصغیر کے شمال مغرب، یعنی انڈس ریجن، جس میں ہندوستان کے ہریانہ اور مشرقی پنجاب کے علاقے، اور موجودہ پاکستان کے تمام علاقے شامل ہیں، وہاں کے لوگوں کے ڈی این اے کے تین بنیادی اجزاء ہیں۔

انڈس ریجن کا بنیادی جینیاتی جز

پہلا اور سب سے بڑا جز وہ ہے جسے ہم انڈس ریجن کا بنیادی جینیاتی جز (Principal Indus Ancestral Component) کہیں گے۔ جینیاتی تحقیقات میں اس کے لیے عموماً Iranian Plateau Related Ancestry کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ اس کی قریبی مماثلت ایرانی پلیٹو کے قدیم ڈی این اے سے پائی گئی، لیکن یہ اس کی عین نقل نہیں بلکہ ایک الگ اور ممتاز جینیاتی گروہ ہے، جسے انڈس ریجن کی اپنی منفرد شناخت سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔

دوسرا جز اُن قدیم آبادیوں سے متعلق ہے جو بلیک سی (Black Sea) اور کیسپین سی (Caspian Sea) کے شمال میں واقع میدانوں میں آباد تھیں۔ جینیات میں اسے Steppe-related Ancestry کہا جاتا ہے۔ (آثارِ قدیمہ کی پرانی اصطلاح میں انہیں آریائی باشندے بھی کہا گیا۔)

ان پہلے دو گرپوں کو ملا کر اے این آئی کا نام دیا یعنی انسسٹر نارتھ انڈینز۔ تحقیق سے یہ یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کی آبادیوں اور انڈیا کے شمال مغربی حصے میں آباد لوگوں میں بڑے تناسب سے جو جداگانہ جینیاتی عُنصر موجود ہے وہ اے این آئی(ANI) ہے۔ اب یہاں دلچسب بات یہ ہے جن علاقوں کو شمال مغربی انڈیا کہا گیا وہ بھی دراصل گریٹر انڈس ریجن کے علاقے ہی ہیں یعنی دریائے سندھ میں آملنے والے دریاؤں کے آس پاس کی آبادیاں مشرقی پنجاب ، کشمیر اور ہریانہ۔ لہذا یوں کہنا چاہیے کہ آج کے گریٹر انڈس ریجن کے لوگوں میں جو جیناتی عنصر غالب اور تناسب میں سب سے زیادہ ہے وہ اے این آئی ہے۔

تیسرا جز جنوبی ایشیا کی قدیم ترین آبادیوں سے تعلق رکھتا ہے، جسے ماہرین AASI (Ancient Ancestral South Indian) کا نام دیتے ہیں۔ان تینوں گروپوں کو اپنے خاص تناسب کے ساتھ ایک الگ جینیاتی شناخت دی گئی ۔

AASI کیا ہے؟

اس کے برعکس، برصغیر کا دوسرا بڑا جینیاتی گروہ جنوبی ہندوستان کے لوگوں میں زیادہ نمایاں ہے، جسے AASI (Ancient Ancestral South Indian) کا نام دیا گیا۔ اس جینیاتی گروہ کی قریبی مماثلت اُن آبادیوں سے کی جاتی ہے جو ہزاروں سال تک نسبتاً الگ تھلگ رہیں۔ یوں غالب امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ AASI کا تعلق اُن قدیم انسانوں سے ہے جو ساحلی راستوں سے آ کر جنوبی ہند میں آباد ہو گئے تھے۔

جبکہ گریٹر انڈس ریجن میں آباد لوگ شاید اُس گروہ کا حصہ ہیں جو زمینی راستے سے انڈس بیسن اور ایرانی پلیٹو میں آباد ہوا۔ البتہ انڈس ریجن، شمال مغربی برصغیر اور موجودہ پاکستان کے لوگوں میں بھی AASI Ancestry موجود ہے، لیکن اس کا تناسب نسبتاً کم ہے، بالکل اسی طرح جیسے جنوبی ہندوستان کی آبادیوں میں بھی انڈس ریجن سے متعلق جینیاتی اجزاء کسی نہ کسی مقدار میں موجود ہیں۔ ایسا ہونا دو ساتھ ساتھ رہنے والے جینیاتی گروہوں میں ایک فطری بات ہے، اور دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی اسی طرح کا منظر دیکھا جاتا ہے۔

جب یہ تحقیق سامنے آئی تو یہ بلکل واضح ہو گیا کہ برصغیر میں انسانوں کے جینیاتی طور پر دو کافی حد تک الگ گروہ رہتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو گریٹر انڈس ریجن، ہریانہ، مشرقی پنجاب، کشمیر اور موجودہ پاکستان میں آباد ہیں، اور دوسرے وہ جو انڈس بیسن کے ان علاقوں کے علاوہ باقی ہندوستان، خاص طور پر مشرقی اور جنوبی بھارت، میں رہتے ہیں۔ اس حقیقت کے سامنے آنے سے ہندوستان کو ایک نسلی وحدت سمجھنے کے نظریے کو ٹھیس پہنچتی تھی۔اس انڈیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین اس تحقیق کی اشاعت سے ہچکچانے لگے۔ بہرحال، چونکہ اس تحقیق میں غیر ملکی ماہرین بھی شامل تھے، اس لیے اسے شائع کرنا پڑا۔

انڈس ویلی کے قدیم باشندوں کی پہلی جیناتی تشکیل

اُپر کا سب پس منظر بیان کرنے کے بعد اب بات کرتے ہیں انڈس ویلی کے باشندوں کی جس کا سمجھنا اب قارئین کے لیے بہت آسان ہوگا۔انڈس ویلی کے قدیم جینیاتی پہیلی کا سب سے حیرت انگیز اور مضبوط ثبوت ہمیں مرکزی انڈس تہذیب کے قریب کے علاقے سے ملا، جسے ہم گریٹر انڈس ریجن کا حصہ کہیں گے۔

سنہ 2019ء کی تاریخی تحقیقات (Narasimhan et al.) میں موجودہ پاکستانی بلوچستان کی سرحد پر واقع کانسی کے دور (Bronze Age) کے مشہور شہر شہرِ سوختہ (Shahr-i Sokhta) سے ملنے والی انسانی باقیات کا جینیاتی تجزیہ کیا گیا۔ ماہرین نے یہاں سے 11 ایسے جینیاتی نمونے دریافت کیے جو ارد گرد کی ایرانی آبادیوں سے بالکل الگ تھلگ اور مختلف تھے۔ جینیات کی زبان میں انہیں “انڈس پیریفری آؤٹ لایئرز” (Indus Periphery Outliers) کہا گیا، یعنی وہ لوگ جو جینیاتی طور پر خالصتاً انڈس ویلی کے باسی تھے لیکن تجارت یا ہجرت کے سلسلے میں یہاں مقیم تھے۔ [6]

جب ان نمونوں کے ڈی این اے کا گہرا سائنسی مطالعہ کیا گیا، تو حیرت انگیز نتائج سامنے آئے:

  • بنیادی انڈس جینیاتی جز (Pure PIC): ان افراد کے جینز میں 70 سے 85 فیصد تک خالص وہی “انڈس ریجن کا بنیادی جینیاتی جز” پایا گیا، جس کا تعلق مہرگڑھ اور دریائے سندھ کی قدیم وادی سے تھا۔
  • قدیم جنوبی ہند کا عنصر (Pure AASI): ان کے جینیاتی ڈھانچے میں AASI کا تناسب محض 15 سے 30 فیصد کے قریب پایا گیا۔
  • اسٹیپ انسیسٹری (Steppe Component): ان کے جینز میں وسطی ایشیا کے چرواہوں (Steppe/Aryans) کا جینیاتی حصہ صفر فیصد (0%) تھا۔ یعنی ان میں اسٹیپ ڈی این اے کا کوئی نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔
  • مادری جینیاتی لکیر (mtDNA): ان میں سے بعض افراد کے مادری جینز میں U2b2 ہاپلو گروپ پایا گیا، جو کہ خالصتاً قدیم انڈس کا مقامی مادری نشان ہے۔

یہ جینیاتی بناوٹ بالکل وہی تھی جو بعد میں راکھی گڑھی کی خاتون میں بھی پائی جانے والی بناوٹ جیسی ہی تھی، لیکن اس میں جنوبی ہند کا وراثتی عنصر بہت کم تھا۔ شہرِ سوختہ کے ان نمونوں نے سائنسی طور پر یہ مہر ثبت کر دی کہ آج سے 4500 سال پہلے، جب ہڑپہ اور موہنجودڑو اپنے عروج پر تھے، تو انڈس ریجن کی اصل آبادی اسی جینیاتی ترتیب (High PIC + Low AASI + 0% Steppe) پر مشتمل تھی، اور یہی لوگ اس پورے وسیع تجارتی نیٹ ورک کے اصل وارث اور روحِ رواں تھے

راکھی گڑھی اور سوات: قدیم ڈی این اے نے کیا بتایا؟

اب اس سوال وسیع تحقیق ہونے لگی کہ انڈس ویلی تہذیب کے لوگوں کی جینیات کیا تھیں؟

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے یکے یعد دیگر دو نہایت اہم تحقیقات سامنے آئیں۔ پہلی تحقیق سوات سے ملنے والی متعدد قدیم انسانی باقیات پر کی گئی، جبکہ دوسری راکھی گڑھی سے دریافت ہونے والی ایک خاتون کی کھوپڑی سے حاصل کیے گئے قدیم ڈی این اے پر۔ [6][7]

راکھی گڑھی کی تحقیق منظرِ عام پر آئی، لیکن شاید یہ دنیا کی ان چند تحقیقات میں سے ایک تھی جسے سب سے زیادہ غلط انداز میں رپورٹ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق، راکھی گڑھی سے ملنے والی وہ خاتون، جو انڈس ویلی تہذیب کے عروج کے زمانے سے تعلق رکھتی تھی، اس کے جینز کا بڑا حصہ اس جینیاتی گروہ سے تعلق رکھتا تھا جسے ہم انڈس ریجن کا بنیادی جینیاتی جز (Principal Indus Ancestral Component) کہتے ہیں۔ جینیاتی لٹریچر میں اس کی قریبی مماثلت قدیم Iranian Plateau Related جینز سے بیان کی جاتی ہے، لیکن یہ ان کی عین نقل نہیں بلکہ ایک الگ اور ممتاز جینیاتی شناخت رکھتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسے انڈس ریجن کے مخصوص جینیاتی گروہ کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔

راکھی گڑھی کی خاتون کے ڈی این اے میں سدرن ہنٹر گیدر (AASI) کا حصہ محض 20 سے 30 فیصد کے قریب تھا، جبکہ باقی 70 سے 80 فیصد حصہ خالصتاً اسی "انڈس ریجن کے بنیادی جینیاتی جز (PIC)” پر مشتمل تھا جس نے اس تہذیب کو جنم دیا۔

آج بھی اس انڈس خطے میں آباد، اور ہڑپا تہذیب کے عظیم مراکز کے آس پاس رہنے والے لوگوں میں یہی بنیادی جینیاتی جز بڑے تناسب سے موجود ہے۔ جس تناسب سے یہ جینیاتی جز ہڑپا وادی کے مرکزی علاقوں اور موجودہ پاکستان کی آبادیوں میں پایا جاتا ہے، ہندوستان کے کسی دوسرے حصے میں اس تناسب سے موجود نہیں۔

جدید جینیات نے اصل تصویر کیسے واضح کی؟ن

سائنس کے اس باریک نکتے کو سمجھنا ضروری ہے: جنوبی ہندوستان کے قبائل میں پایا جانے والا اکثریتی جینیاتی حصہ (65% سے 75%) دراصل پینتالیس ہزار سال پرانے ساحلی شکاریوں (AASI) کا ورثہ ہے، اور ان میں ہڑپہ کا جینیاتی جز (PIC) اقلیت میں ہے۔ اس کے برعکس، موجودہ پنجاب، سندھ اور خاص طور پر بلوچستان (جہاں یہ 80 فیصد تک ہے) کے لوگوں میں "بنیادی انڈس جینیاتی جز” ہی ان کا اکثریتی اور بنیادی جینیاتی ستون ہے، جبکہ AASI یہاں اقلیت میں ہے۔ یہ جینیاتی حقیقت ثابت کرتی ہے کہ انڈس ویلی کا حقیقی جینیاتی تسلسل آج بھی اپنے ہی مرکز یعنی گریٹر انڈس ریجن میں دھڑک رہا ہے۔

غلط فہمی کہاں پیدا ہوئی؟

لیکن اس تحقیق کے شائع ہوتے ہی دو بڑے دعوے کیے گئے، جو میری رائے میں یا تو علمی کم فہمی کا نتیجہ تھے یا پھر تحقیق کو غلط انداز میں پیش کرنے کا۔

یہ کہا گیا کہ راکھی گڑھی کی اس خاتون میں نہ تو Steppe People کی انسیسٹری موجود تھی اور نہ ہی Iranian Farmer Related جینیاتی حصہ۔

یہیں سے ایک بہت بڑی غلط فہمی نے جنم لیا۔

چونکہ موجودہ پاکستان اور انڈس ریجن کی آبادیوں میں جینز کا بڑا حصہ اسی جینیاتی جز پر مشتمل ہے، جسے ابتدائی جینیاتی ماڈلز میں "ایرانی چرواہوں یا کسانوں” سے منسوب کیا جاتا تھا، لیکن 2019ء کی راکھی گڑھی تحقیق نے ثابت کیا کہ یہ ایک الگ، قدیم انڈس ریجن کا اپنا جینیاتی ورثہ (PIC) ہے، جو مغربی ایران کے کسانوں سے بارہ ہزار سال پہلے ہی الگ ہو چکا تھا اور اس میں اناطولیہ (ترکی) کے کسانوں کی جینیات کا صفر فیصد حصہ ہے۔ اس لیے اسے Iranian Farmer Related کے بجائے Iranian Plateau Related یا Iranian Related کہا جانے لگا۔

لہٰذا، اگرچہ یہ وہی جینیاتی گروپ تھا جو پاکستان کی موجودہ آبادی اور سوات سے دریافت ہونے والے تین ہزار سال پرانے انسانی ڈھانچوں میں موجود تھا، اور جس کا تناسب راکھی گڑھی کے جینیاتی نمونے میں سب سے زیادہ تھا، اُس کا صرف نام بدلنے سے بعض لوگوں نے اس کی موجودگی ہی سے انکار کر دیا۔

لفظوں کا یہ ہیر پھیر صرف بعض ذرائع ابلاغ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسی بنیاد پر عام قارئین میں بھی ایک غلط تاثر پیدا ہو گیا۔ جس حقیقت کو نظر انداز کیا جا رہا تھا وہ یہ تھی کہ راکھی گڑھی سے ملنے والے نمونے میں انڈس ریجن کا وہ بنیادی جینیاتی عنصر سب سے زیادہ تناسب میں موجود تھا، جو آج بھی پاکستانیوں اور انڈس ریجن کی متعدد آبادیوں میں نمایاں تناسب سے پایا جاتا ہے۔ جبکہ جس بات کو نمایاں کیا جا رہا تھا وہ یہ تھی کہ اس نمونے میں جنوبی ایشیا کی قدیم AASI انسیسٹری بھی موجود تھی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ عام قارئین نے یہ سمجھ لیا کہ راکھی گڑھی کی خاتون میں نہ ایرانی پلیٹو سے متعلق جینیات ہیں اور نہ ہی Steppe جینیات، گویا اس میں صرف AASI انسیسٹری موجود ہے، جبکہ تحقیق کا نتیجہ اور اصل مفہوم یہ نہیں تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس خاتون کے جینز کا بڑا حصہ اسی بنیادی جینیاتی جز پر مشتمل تھا، جسے آج انڈس ریجن کے مخصوص جینیاتی ورثے کے طور پر سمجھا جاتا ہے، اور یہی جینیاتی جز آج بھی موجودہ پاکستان، سندھ، پنجاب، ہریانہ اور انڈس ریجن کی متعدد آبادیوں میں نمایاں تناسب سے موجود ہے۔

سوات کی قدیم باقیات نے کیا ثابت کیا؟

سوات سے ملنے والی متعدد قدیم انسانی باقیات پر جو تفصیلی جینیاتی تحقیق کی گئی، وہ اصل تصویر واضح کرتی ہے۔ یہ انسانی ڈھانچے تقریباً 1200 قبل مسیح کے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہڑپا تہذیب اگرچہ زوال پذیر ہو چکی تھی، لیکن اس کے باشندے پورے خطے میں موجود تھے۔

ان باقیات سے، حسبِ توقع، بڑے تناسب میں وہی جینیاتی جز ملا جسے ہم انڈس ریجن کا بنیادی جینیاتی جز (Principal Indus Ancestral Component) کہتے ہیں، اور جسے جینیاتی مطالعات میں ایرانی پلیٹو سے قریبی تعلق رکھنے والا جینیاتی جز قرار دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ان باقیات میں Steppe People سے متعلق انسیسٹری بھی کم تناسب میں موجود تھی، اور اسی طرح جنوبی ایشیا کی قدیم AASI انسیسٹری بھی نسبتاً کم مقدار میں پائی گئی۔

اب تصویر واضح ہوتی جا رہی ہے۔

ہڑپا تہذیب کے لوگ اس کے زوال کے بعد نہ کہیں غائب ہوئے، نہ ہی اجتماعی طور پر جنوب کی طرف دھکیل دیے گئے، بلکہ وہ انہی علاقوں میں آباد رہے جہاں ہڑپا تہذیب اپنے عروج کے زمانے میں قائم تھی۔

البتہ بعد کے زمانوں میں آنے والے مختلف قبائل اور آبادیوں کے جینیاتی اثرات بھی ان کے جینیاتی پول میں شامل ہوتے رہے۔

سوات سے ملنے والے لوگوں کا ڈی این اے بڑی حد تک آج کی پاکستانی آبادیوں سے مشابہت رکھتا ہے، اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انڈس ویلی کے لوگ بعد میں آنے والی آبادیوں سے اختلاط کے باوجود اپنی اسی سرزمین میں آباد رہے، جہاں ان کی عظیم تہذیب نے جنم لیا تھا۔

آج انڈس ویلی کے جینیاتی وارث کہاں ہیں؟

اگر آج کوئی یہ جاننا چاہے کہ ہڑپا تہذیب کے لوگوں یا ان کے جینیاتی ورثے کا سب سے زیادہ تسلسل کن آبادیوں میں محفوظ ہے، تو اس کا ایک سادہ سا پیمانہ موجود ہے۔

ہم یہ دیکھیں کہ انڈس ریجن کا بنیادی جینیاتی جز (Principal Indus Ancestral Component) آج سب سے زیادہ تناسب میں کن لوگوں میں پایا جاتا ہے۔

موجودہ آبادیوں پر کی جانے والی تفصیلی جینیاتی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ پاکستان اور انڈس ریجن، جس میں پنجاب، سندھ، ہریانہ اور ملحقہ علاقے شامل ہیں، کی متعدد آبادیوں میں یہ بنیادی جینیاتی جز سب سے زیادہ تناسب میں موجود ہے۔ [6][7]

یہ نتیجہ غیر متوقع بھی نہیں، کیونکہ جیسے جیسے ہم انڈس ویلی اور ہڑپا تہذیب کے مرکزی علاقوں کی طرف بڑھتے ہیں، اس بنیادی جینیاتی جز کا تناسب بھی بڑھتا جاتا ہے، حتیٰ کہ انڈس ریجن کے مرکزی علاقوں میں یہ تقریباً پچاس سے ساٹھ فیصد، بلکہ بعض آبادیوں میں اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس جنوبی ہندوستان کی ان آبادیوں میں، جنہیں کئی دہائیوں تک بعض مغربی نظریات کے تحت انڈس ویلی سے جنوب کی طرف منتقل ہونے والے لوگوں کی نسل قرار دیا جاتا رہا، اس بنیادی جینیاتی جز کا تناسب اس سے کہیں کم ہے۔

یہ ایک فطری بات بھی ہے، کیونکہ دنیا کے تمام خطوں میں پڑوسی علاقوں کے درمیان جینیاتی اشتراک پایا جاتا ہے۔ اسی طرح جنوبی ہندوستان کی مخصوص AASI Ancestry بھی آج انڈس ریجن، یعنی پاکستان اور شمال مغربی برصغیر کی آبادیوں میں کم مقدار میں موجود ہے۔

جدید سائنس کیا نتیجہ پیش کرتی ہے؟

اس لیے جدید جینیات، آثارِ قدیمہ اور متعلقہ علوم اس قدیم تصور کے حامی نہیں کہ انڈس ویلی تہذیب کے تمام لوگ جنوب کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔ قدیم DNA اب ایک زیادہ پیچیدہ اور زیادہ واضح تصویر پیش کرتا ہے، جس کے مطابق انڈس تہذیب کی آبادیوں کا بڑا حصہ اپنے ہی جغرافیائی خطے میں موجود رہا، جبکہ بعد کے زمانوں میں مختلف جینیاتی اجزاء ان میں شامل ہوتے رہے۔

اگلے مضمون میں…

میں اپنے اگلے مضمون میں یہ بیان کروں گا کہ پاکستان کی علمی عدم دلچسپی کو کس طرح ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے ایک کھلا میدان سمجھا، اور کس طرح برطانوی دور میں انڈو یورپی اور دراوڑی زبانوں کی تقسیم کی بنیاد پر انڈس ویلی کے لوگوں کی جنوب کی طرف ہجرت کے تصور کو فروغ ملا، اس کی تشہیر کی گئی، اور رفتہ رفتہ اسے ایک مسلمہ تاریخی بیانیے کی حیثیت دے دی گئی۔


حوالہ جات (References)

  1. Hublin, J.-J., et al. (2017). New fossils from Jebel Irhoud, Morocco and the pan-African origin of Homo sapiens. Nature.
  2. Vallini, L., et al. (2024). Genomic evidence for a Persian Plateau hub for Homo sapiens after the main Out-of-Africa dispersal. Nature Communications.
  3. Vallini, L., et al. (2024). (60,000–45,000 years context).
  4. Katkar, Narendra. (2011). The Last Glacial Maximum: The Third Migration. Comptes Rendus Palevol.
  5. Jarrige, Jean-François; Meadow, Richard H., et al. Mehrgarh Field Reports.
  6. Narasimhan, V. M., et al. (2019). The Formation of Human Populations in South and Central Asia. Science.
  7. Shinde, V., et al. (2019). An Ancient Harappan Genome Lacks Ancestry from Steppe Pastoralists or Iranian Farmers. Cell.

Read Previous

بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ… تصدیق کا انتظام یا کوئی اور بڑا نظام؟

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular