انصاری کمیشن رپورٹ، 1980ء کی دہائی کا ایک پُرانا منصوبہ؟
:
’منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔‘‘
انور مسعود نے بھی اپنی مشہور نظم ’’قیمہ بوٹی‘‘ میں اسی کیفیت کو اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں بیان کیا ہے۔ ہمارے ملک میں قیمے سے بوٹی بنانے اور بوٹی کو قیمے میں تبدیل کرنے کا یہ سفر بھی نہ جانے کب سے جاری ہے، اور شاید ابھی مزید جاری رہنا ہے۔
نئے صوبوں کی تجویز بھی کوئی نئی بات نہیں۔ اس کے ساتھ ایک پرانی کہانی جڑی ہوئی ہے، اور یہ کہانی انصاری کمیشن رپورٹ کی ہے۔ اس رپورٹ میں دی گئی کئی تجاویز آج ایک بار پھر نئے صوبوں اور نئے نظامِ حکومت کی تجاویز کی صورت میں ہمارے سامنے آتی دکھائی دیتی ہیں۔
انصاری رپورٹ ک پس منظر
جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان کے لیے ایک ایسے نظامِ حکومت کی تلاش جاری تھی جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔ اسی سلسلے میں مولانا محمد ظفر احمد انصاری کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا گیا۔ کمیشن نے 1983ء میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس کا عنوان Ansari Commission’s Report on Form of Government تھا اور جو حکومتِ پاکستان نے شائع کی۔ رپورٹ 116 صفحات پر مشتمل تھی۔
اس کمیشن کے ذمے یہ کام تھا کہ نئی حکومت اور نئے طرزِ حکومت کے بارے میں سفارشات پیش کرے، ایسا طرزِ حکومت جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔
کمیشن نے یہ تصور پیش کیا کہ نہ موجودہ معنوں میں پارلیمانی نظام اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے اور نہ مغربی طرز کا صدارتی نظام۔ اس کے بجائے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو اسلامی شورائی تصور کے قریب ہو اور جس میں صدر کے بجائے ریاست کے سربراہ کو امیرِ مملکت کہا جائے۔
یہ امیرِ مملکت محض ایک آئینی یا علامتی سربراہ نہیں ہوگا بلکہ ریاست کے انتظامی اختیارات بھی اسی کے پاس ہوں گے۔ مجلسِ شوریٰ قانون سازی اور ریاستی نگرانی میں کردار ادا کرے گی، جبکہ اصل انتظامی اختیار امیرِ مملکت کے پاس ہوگا۔
امیرِ مملکت کے انتخاب کے لیے بھی ایک انتخابی کالج کا تصور دیا گیا تھا، جس میں مرکزی اور صوبائی مجالسِ شوریٰ شامل ہوتیں۔ یوں سربراہِ مملکت کا انتخاب براہِ راست عوام کے ووٹ سے نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کے ذریعے ہوتا۔
غیر جماعتی انتخابات اور نئی صوبائی اکائیاں

اس رپورٹ کی ایک اہم تجویز یہ تھی کہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں۔ کمیشن کے نزدیک سیاسی جماعتوں کا موجودہ نظام اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے نمائندوں کا انتخاب جماعتی نشان اور جماعتی وابستگی کے بجائے افراد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
لیکن کمیشن کی رپورٹ کا سب سے دلچسپ حصہ وہ تھا جس میں پاکستان کے انتظامی نقشے کو بدلنے کی تجویز دی گئی۔
کمیشن نے تجویز کیا کہ ملک میں موجود ڈویژنز کو صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ یعنی جو ڈویژن اس وقت ایک انتظامی یونٹ تھا، اسے باقاعدہ صوبائی اکائی کا درجہ دے دیا جائے۔
یہ تجویز آج کی بحث سے براہِ راست جڑتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت ڈویژنز کی تعداد آج کے مقابلے میں کم تھی، جبکہ آج اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی بات کی جائے تو صوبوں کی تعداد بھی اس زمانے سے مختلف ہوگی۔
صوبوں کے سربراہ: والی
ان نئی صوبائی اکائیوں کے لیے رپورٹ میں والی کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔
والی کا انتخاب عوام یا متعلقہ صوبائی اسمبلی کے ذریعے نہیں ہونا تھا بلکہ اسے امیرِ مملکت مقرر کرتا۔ یوں صوبے کا سربراہ براہِ راست مرکزی سربراہِ مملکت کے ماتحت ہوتا۔
صوبائی اسمبلیاں موجود رہتیں اور متعلقہ صوبائی معاملات میں قانون سازی کرتیں، لیکن صوبائی انتظام کا اصل سربراہ والی ہوتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انصاری رپورٹ کا انتظامی تصور موجودہ وفاقی پارلیمانی نظام سے بہت مختلف ہو جاتا ہے۔ بڑے صوبوں کی جگہ چھوٹی صوبائی اکائیاں، ان کے اوپر مرکزی سربراہ کی طرف سے مقرر کردہ والی، اور مرکز میں ایک طاقتور امیرِ مملکت۔
اگر یہ نظام نافذ ہو جاتا تو ممکن ہے آج ہم پاکستان کے نقشے پر پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کے بجائے ملتان، لاہور، حیدرآباد اور دوسرے ڈویژنز کو صوبائی اکائیوں کے طور پر دیکھ رہے ہوتے۔
کیا ضیاالحق نے ان تجاویز پر عمل کیا؟
جنرل ضیاالحق نے انصاری کمیشن کی رپورٹ پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا۔ البتہ رپورٹ کی بعض تجاویز ایسی تھیں جن سے ان کے عملی نظام میں واضح مماثلت دکھائی دیتی ہے۔
مثلاً 1985ء کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بالترتیب 25 اور 28 فروری 1985ء کو ہوئے۔ قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 20 مارچ کو ہوا۔
لیکن ضیاالحق نے ملک کے موجودہ چار صوبوں کو ختم نہیں کیا، انہیں ڈویژنز میں تقسیم کرکے نئے صوبے نہیں بنائے اور نہ ہی والیوں کا نظام نافذ کیا۔
یہاں انصاری رپورٹ اور ضیاالحق کے عملی نظام کے درمیان ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔
ضیاالحق نے صوبے کیوں نہیں توڑے؟
یہ سوال اس پوری کہانی کا شاید سب سے اہم حصہ ہے۔
جنرل ضیاالحق کے پاس وہ اختیارات تھے جو کسی منتخب حکومت کے پاس نہیں ہوتے۔ ملک میں مارشل لا تھا، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندیاں تھیں اور ریاستی طاقت بڑی حد تک ان کے ہاتھ میں تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے انصاری کمیشن کی صوبوں سے متعلق تجویز پر عمل نہیں کیا۔
اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی حالات تھے۔
سندھ میں ایم آر ڈی کی تحریک چل رہی تھی، جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ موجود تھا اور فوجی حکومت کے خلاف سیاسی بے چینی پہلے ہی پیدا ہو چکی تھی۔ ایسے ماحول میں موجودہ صوبائی ڈھانچے کو ختم کرنا اور ملک کے انتظامی نقشے کو ازسرنو ترتیب دینا کسی معمولی انتظامی فیصلے سے کہیں بڑھ کر سیاسی مسئلہ بن سکتا تھا۔
ضیاالحق نے شاید یہ سمجھ لیا تھا کہ اقتدار پر مضبوط گرفت رکھنے کے باوجود پورے ملک کے صوبائی ڈھانچے کو چھیڑنا ایسا قدم ہوگا جس سے سیاسی انتشار مزید بڑھ سکتا ہے۔
چنانچہ انہوں نے انصاری رپورٹ کے بعض حصوں کو اختیار کیا، مگر پورے نظام کو نافذ کرنے سے گریز کیا۔
1985ء کے بعد پارلیمانی سیاست کی واپسی
1985ء کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے، لیکن سیاسی جماعتوں کو نظام سے نکال دینے کا تجربہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
منتخب اسمبلی وجود میں آئی تو محمد خان جونیجو کو صدر جنرل ضیاالحق نے وزیراعظم نامزد کیا اور انہوں نے 24 مارچ 1985ء کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ اس کے بعد اسمبلی کے اندر مسلم لیگ پارلیمانی گروپ تشکیل پایا اور رفتہ رفتہ غیر جماعتی اسمبلی میں بھی جماعتی سیاست واپس آ گئی۔
یعنی کاغذ پر غیر جماعتی نظام تھا، لیکن پاکستانی سیاست نے اپنے لیے جماعتی راستہ دوبارہ نکال لیا۔
1973ء کے آئین کو بھی مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ اسے 10 مارچ 1985ء سے بحال کیا گیا، اگرچہ اس میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی گئیں۔ نومبر 1985ء میں آٹھویں آئینی ترمیم منظور ہوئی اور صدر کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوا۔
بالآخر جب محمد خان جونیجو کی حکومت اور جنرل ضیاالحق کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تو 29 مئی 1988ء کو صدر نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(b) کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کر دی اور جونیجو حکومت ختم ہوگئی۔
یعنی جنرل ضیاالحق نے پارلیمانی نظام کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ انہوں نے اسے اپنے لیے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی، صدر کے اختیارات بڑھائے اور پارلیمان کو ایک محدود دائرے میں رکھا، مگر پورا انصاری ماڈل نافذ نہیں کیا۔
انصاری رپورٹ کا بھوت دوبارہ کیوں دکھائی دے رہا ہے؟
اب ہم موجودہ بحث کی طرف آتے ہیں۔
آج جو نئی تجویز سامنے آئی ہے، اس میں صدارتی نظام کے ساتھ ڈویژنز کو صوبے بنانے اور ان صوبوں میں مرکزی سربراہ کی طرف سے گورنر یا والی مقرر کرنے کا تصور موجود ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انصاری کمیشن رپورٹ کو دوبارہ یاد دلاتی ہے۔
انصاری رپورٹ میں بھی ڈویژنز کو صوبوں میں تبدیل کرنے، صوبائی سربراہ کے لیے والی کی اصطلاح استعمال کرنے اور اسے امیرِ مملکت کی طرف سے مقرر کرنے کا تصور موجود تھا۔
یعنی آج کی تجویز میں نئے صوبوں کا تصور کوئی بالکل نیا خیال نہیں۔ اس کی ایک واضح تاریخی نظیر موجود ہے۔
لیکن میرے خیال میں اس پوری بحث میں اصل بات یہ نہیں کہ انصاری کمیشن نے کیا تجویز کیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اس تجویز پر جنرل ضیاالحق نے بھی عمل نہیں کیا۔
آج کے حالات میں یہ تجربہ اور بھی خطرناک ہو سکتا ہے
جنرل ضیاالحق ایک فوجی آمر تھے۔ ان کے پاس سیاسی حکومت سے کہیں زیادہ اختیارات تھے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے باہر رکھا، غیر جماعتی انتخابات کرائے، آئین میں بڑی ترامیم کروائیں اور صدر کے اختیارات میں غیر معمولی اضافہ کیا۔
اس کے باوجود وہ موجودہ صوبوں کو توڑ کر ڈویژنز کو صوبے بنانے کے مرحلے تک نہیں گئے۔
اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ وہ ایسا نظام بنانا نہیں چاہتے تھے۔ انصاری کمیشن کی رپورٹ خود اس تصور کو ان کے سامنے رکھ چکی تھی۔ لیکن انہوں نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ملک پہلے ہی سیاسی بے چینی، خصوصاً سندھ میں مزاحمت اور ایم آر ڈی کی تحریک، کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں صوبائی نقشے کو بدلنا ایک اور بڑا سیاسی محاذ کھول سکتا تھا۔
آج کے حالات میں یہ خطرہ کم نہیں، بلکہ شاید زیادہ ہے۔
موجودہ حکومت کو اپنی سیاسی مقبولیت کے سوالات کا سامنا ہے۔ 2024ء کے انتخابات کے نتائج اور انتخابی عمل پر بھی ملک میں شدید سیاسی اختلاف موجود ہے۔ حکومت کو معاشی اور سیاسی دونوں سطحوں پر چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے ماحول میں پورے ملک کے صوبائی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ محض انتظامی اصلاح نہیں رہے گا بلکہ ایک بہت بڑا سیاسی اقدام بن جائے گا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں انصاری کمیشن رپورٹ کا بھوت واقعی ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔
جب جنرل ضیاالحق جیسا حکمران، جس کے پاس غیر معمولی سیاسی اور ریاستی طاقت تھی، ڈویژنز کو صوبے بنانے اور موجودہ صوبوں کے نقشے کو تبدیل کرنے کی تجویز پر عمل نہیں کر سکا، تو آج کی ایک ایسی حکومت جسے خود اپنی سیاسی حیثیت، مقبولیت اور انتخابات کے بارے میں سوالات کا سامنا ہے، وہ اس تجربے کے لیے خود کو کس بنیاد پر تیار سمجھتی ہے؟
نئے صوبے بنانا کوئی معمولی انتظامی فیصلہ نہیں۔ اس سے وسائل کی تقسیم بدلے گی، سیاسی طاقت کا توازن بدلے گا، وفاق اور صوبوں کے تعلقات متاثر ہوں گے اور ہر نئی صوبائی اکائی کے ساتھ نئے سیاسی مفادات جنم لیں گے۔
یہ سب کچھ اس وقت کرنا جب ملک پہلے ہی سیاسی تقسیم، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کشمکش سے گزر رہا ہو، انتشار کے امکانات کو کم نہیں بلکہ بڑھا سکتا ہے۔
اس لیے نئے صوبوں کی بحث ضرور ہونی چاہیے۔ انتظامی اصلاحات پر بھی بات ہونی چاہیے۔ بڑے صوبوں کو بہتر انتظام کے لیے چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی دلیل بھی اپنی جگہ موجود ہو سکتی ہے۔
لیکن تاریخ کا سبق بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
جو کام ضیاالحق اپنی پوری طاقت کے باوجود نہیں کر سکا، اسے آج کی کمزور سیاسی بنیادوں پر کھڑی حکومت کے لیے محض ایک انتظامی اصلاح سمجھ لینا شاید بہت بڑی خوش فہمی ہوگی۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ انصاری کمیشن رپورٹ کا وہ پرانا بھوت آج بھی ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ پاکستان کے نقشے کو بدلنا صرف نقشہ بدلنا نہیں ہوتا۔
