محسن نقوی کی تقریر: اصلاحات کا بیانیہ یا طویل اقتدار کا نیا فارمولا؟

لفظی توپوں کا رخ پنے لشکر کی طرف کیوں مڑ گیا

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تقریر اگر اس وقت شدید بحث کی زد میں ہے تو یہ غیر متوقع نہیں۔ پاکستان میں شاید پہلی مرتبہ ایک موجودہ وفاقی وزیر نے کھلے عام اپنی ہی حکومت کے نظام پر اتنا سخت تبصرہ کیا ہے۔ اُن کا کہنا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے، یہی ایک جملہ ان کی پوری تقریر کو معمول کی سرکاری تقریر سے نکال کر قومی سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے لیے کافی ہے۔

آج ٹی وی ٹاک شوز، سوشل میڈیا، یوٹیوب چینلز اور سیاسی حلقوں میں سوال یہ نہیں کہ محسن نقوی نے کیا کہا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ یہ سب اس وقت کیوں کہہ رہے ہیں، اور اس کا سیاسی مطلب کیا لیا جا رہا ہے؟

تقریر کے بنیادی نکات

محسن نقوی نے اپنی تقریر میں چار بنیادی نکات پیش کیے۔ انہوں نے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیا، نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی ضرورت پر زور دیا، تمام سیاسی قوتوں سے نئے قومی اتفاق رائے کی اپیل کی اور کہا کہ نوجوان اب صرف میرٹ، انصاف اور روزگار چاہتے ہیں۔

بظاہر یہ نکات قابلِ اعتراض نہیں۔ بہتر حکمرانی، انصاف، روزگار اور انتظامی اصلاحات کی مخالفت کون کرے گا؟ لیکن سیاست میں اکثر اصل سوال الفاظ کا نہیں بلکہ ان کے پس منظر اور نتائج کا ہوتا ہے۔ اسی لیے اس تقریر کی مختلف سیاسی تشریحات سامنے آ رہی ہیں۔

کیا یہ کسی بڑے آئینی منصوبے کا اشارہ ہے؟

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ “موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے”، “جمہوریت کے اندر بھی مختلف نظام موجود ہیں”، “وہ ریڈ لائن کراس نہیں کرنا چاہتے” اور “نئے صوبوں” کی باتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ محض انتظامی اصلاحات کی بحث نہیں رہتی بلکہ ایک وسیع آئینی تبدیلی کی طرف اشارہ محسوس ہوتی ہے۔

بعض حلقے اسے صدارتی نظام کی بحث سے بھی جوڑ رہے ہیں، کیونکہ پاکستان میں نئے صوبوں کی حمایت کرنے والے بعض گروہ ماضی میں صدارتی نظام کی وکالت بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ وضاحت ضروری ہے کہ خود محسن نقوی نے اپنی تقریر میں صدارتی نظام کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، لیکن اس پوری بحث سے ہٹ کر بھی تقریر کے کئی ایسے پہلو ہیں جن پر سنجیدہ سوال اٹھتے ہیں۔

اگر میرٹ کی بات ہے تو آغاز کہاں سے ہوگا؟

سب سے پہلے میرٹ کی بات کی جائے۔ اگر نوجوانوں کو میرٹ دینا ہی اصل مقصد ہے تو پھر اس کا آغاز کہاں سے ہونا چاہیے؟ کیا صرف سرکاری ملازمتوں سے، یا پھر پورے سیاسی نظام سے؟

کسی بھی جمہوریت میں سب سے بڑا میرٹ شفاف، آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابات ہوتے ہیں۔ جب انتخابات ہی مسلسل تنازع کا شکار ہوں، سیاسی جماعتیں ان پر سوال اٹھا رہی ہوں اور انتخابی عمل پر قومی اتفاق موجود نہ ہو تو پھر صرف نوجوانوں کو میرٹ کا درس دینا کافی نہیں ہوتا۔ میرٹ کا پہلا امتحان اقتدار تک پہنچنے کے راستے میں ہوتا ہے۔

کیا محسن نقوی خود صاحبِ میرٹ کا یہ امتحان پاس کر کے آئے ہیں؟

اگر میرٹ ہی بنیادی اصول ہے تو کیا ملک کے اہم ترین مناصب پر آنے والوں کی اپنی سیاسی حیثیت بھی حقیقی عوامی مینڈیٹ سے طے ہونی چاہیے؟ یہ محض ایک شخصیت کا نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کی شفافیت کا سوال ہے۔

نوجوانوں کو آئینی تبدیلی چاہیے یا روزگار؟

نوجوانوں کے حوالے سے بھی سوال یہی ہے کہ آخر ان کے مسائل کیا ہیں؟ کیا انہیں نئے صوبے چاہیے یا نوکریاں؟ کیا انہیں نئے آئینی تجربات چاہیے یا بہتر معیشت؟ کیا انہیں نئی صوبائی سرحدیں چاہئیں یا تعلیم، کاروبار اور اظہارِ رائے کی آزادی؟

حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کے بیشتر مسائل موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر روزگار پیدا نہیں ہو رہا، معیشت سست روی کا شکار ہے، میرٹ پر سوال اٹھ رہے ہیں اور آزادیٔ اظہار محدود محسوس کی جا رہی ہے تو اس کی ذمہ داری موجودہ برسرِ اقتدار طبقے پر عائد ہوتی ہے یا آئینی ڈھانچے پر؟

پارلیمانی نظام نے معاشی ترقی کے راستے میں آخر کون سی رکاوٹ کھڑی کر رکھی ہے، جبکہ اسی خطے میں ایک اور پارلیمانی جمہوریت تیزی سے معاشی ترقی کر رہی ہے؟ اگر وہاں یہی نظام ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں تو پاکستان میں اصل مسئلہ کیا ہے؟

کیا نئے صوبے ہی واحد حل ہیں؟

نئے صوبوں کی تجویز بھی اسی زاویے سے دیکھی جانی چاہیے۔ پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے، مگر کیا نئے صوبے ہی اس کا واحد راستہ ہیں؟

اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا مرکز میں منتخب عوامی نمائندوں کے پاس مکمل اختیارات موجود ہیں، یا اس میں غیر منتخب اور غیر عوامی ادارے بھی بڑے حصہ دار ہیں؟ کیا صوبوں کو آئینی اختیارات پوری طرح حاصل ہیں یا احکامات کا دھارا کہیں اور سے بہہ کر آتا ہے؟ کیا بلدیاتی نظام مضبوط ہے؟

اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو صرف نقشہ بدلنے سے نظام کیسے بدل جائے گا؟

نئے صوبوں کی مالی اور انتظامی قیمت

پھر اس تجویز کی مالی قیمت بھی ہے۔ اگر مزید صوبے بنتے ہیں تو مزید اسمبلیاں، مزید کابینہ، مزید وزیراعلیٰ، مزید سیکرٹریٹ اور مزید بیوروکریسی بھی وجود میں آئے گی۔

کیا پاکستان کی کمزور معیشت اس اضافی بوجھ کی متحمل ہے؟ یا پھر عوام کے وسائل ایک اور بڑے انتظامی ڈھانچے پر خرچ ہوں گے؟

کیا یہ مناسب وقت ہے؟

اس بحث کا ایک اور پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ میں نئے صوبوں کی تجویز پر پہلے ہی حساس ردعمل موجود ہے۔ بلوچستان بدستور سکیورٹی مسائل سے دوچار ہے۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی وقفے وقفے سے سیاسی کشیدگی سامنے آتی رہی ہے۔

ایسے ماحول میں کیا ریاست کے بنیادی آئینی ڈھانچے پر نئی بحث قومی استحکام میں اضافہ کرے گی یا مزید تقسیم پیدا کرے گی؟

کیا موجودہ حکومت کے پاس اتنا بڑا مینڈیٹ موجود ہے؟

اسی طرح یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا موجودہ سیاسی ماحول اتنی بڑی آئینی بحث کے لیے موزوں ہے؟

جب ایک بڑی سیاسی جماعت خود کو سیاسی عمل سے باہر محسوس کرتی ہو، انتخابات پر اختلاف موجود ہو اور قومی اتفاق رائے کمزور ہو تو ایسی صورت میں بنیادی آئینی تبدیلیوں کی کامیابی کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے وفاقی ملک میں آئین صرف اکثریت سے نہیں بلکہ اعتماد سے چلتا ہے۔

کیا صدارتی نظام ہی حل ہے؟

جہاں تک صدارتی نظام کی بحث کا تعلق ہے، اس کے حامیوں کو بھی تاریخ کا سامنا کرنا ہوگا۔ پاکستان تقریباً تین دہائیوں تک مختلف شکلوں میں طاقتور صدارتی یا فوجی طرزِ حکمرانی کا تجربہ کر چکا ہے۔

اگر صرف نظام کی شکل بدل دینا ہی تمام مسائل کا حل ہوتا تو آج ملک کو دوبارہ اسی سوال پر واپس نہ آنا پڑتا۔ شاید مسئلہ پارلیمانی یا صدارتی نظام کا نہیں بلکہ اس حقیقت کا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی جمہوری نظام طویل عرصے تک مکمل آئینی روح کے مطابق چل ہی نہیں سکا۔

اصل سوال نظام نہیں، طرزِ حکمرانی ہے

پاکستان کو یقیناً اصلاحات کی ضرورت ہے، مگر اصلاحات کا مقصد کسی شخصیت، کسی حکومت یا کسی وقتی سیاسی ضرورت کو سہارا دینا نہیں ہونا چاہیے۔ آئینی ڈھانچے قوموں کے لیے بنتے ہیں، حکومتوں کے لیے نہیں۔

اگر آج بھی اصل توجہ شفاف انتخابات، آزاد اداروں، آئین کی بالادستی، مضبوط بلدیاتی نظام، معاشی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے بجائے ایک نئی آئینی اکھاڑ پچھاڑ پر مرکوز ہو گئی تو خدشہ یہی ہے کہ ہم ایک بار پھر مسئلے کی جڑ کے بجائے اس کے سائے سے لڑتے رہیں گے۔

پاکستان کو شاید نئے نظام سے زیادہ نئے سیاسی رویوں کی ضرورت ہے۔ اگر عوام کا ووٹ فیصلہ کن نہ ہو، ادارے اپنی آئینی حدود میں کام نہ کریں، احتساب سب کے لیے یکساں نہ ہو اور ریاستی فیصلے وسیع قومی اتفاق رائے کے بجائے محدود سیاسی بندوبست کے تحت کیے جائیں تو نہ پارلیمانی نظام کامیاب ہوگا اور نہ صدارتی۔

اصل سوال نظام کا نہیں، نظام چلانے کے طریقے کا ہے۔ اور جب تک اس سوال کا دیانت دارانہ جواب تلاش نہیں کیا جاتا، تب تک ہر چند سال بعد ایک نیا نظام، ایک نئی بحث اور ایک نئی امید سامنے آتی رہے گی، مگر عوام کے بنیادی مسائل اپنی جگہ قائم رہیں گے۔

Read Previous

AJK Elections: Can We Afford a 1987 of Our Own

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular