ہم کتنے آزاد ہیں؟ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کا  عالمی پیمانوں پر جائزہ

پاکستان کے یومِ آزادی ، 14 اگست کے حوالے سے ایک خصوصی تحریر

پاکستان کی آزادی

ہم ایک آزاد ملک ہیں، لیکن پاکستان کی آزادی کے بارے میں اگر کوئی یہ سوال پوچھ لیے ہم کتنے آزاد ہیں تو ہمیں رُک کر سوچنا پڑتا ہے۔ اکثر اس سوال کا جواب حوصلہ افزا نہیں ہوتا، اور ذہن میں فیض احمد فیض کا مصرع بے اختیار گونجتا ہے: ’’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔‘‘

مگر ہم اس مضمون کا جواب جذبات یا وجدانی کیفیات سے نہیں بلکہ ان پیمانوں سے تلاش کریں گے جو دنیا نے ریاستوں کی حقیقی خودمختاری اور مؤثر آزادی کو پرکھنے کے لیے بنائے ہیں۔

دنیا کی پیمانوں کی روشنی میں

علاوہ ازیں، کوئی واحد عالمی آزادی انڈیکس موجود نہیں۔ مختلف ادارے مختلف شعبوں میں پیمانے بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر UNDP انسانی ترقی کو ماپتا ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ قانون کی حکمرانی کی سطح دیکھتا ہے۔ ورلڈ بینک طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی معیار کا اندازہ لگاتا ہے۔ WIPO جدت و اختراع کو تولتی ہے۔ برانڈ فنانس نرم طاقت کو تولتا ہے۔ یونیسکو ثقافتی ورثہ کو جانچتا ہے۔ IMF اور دیگر مالی ادارے اقتصادی خودمختاری کی اشاریے دیکھتے ہیں۔

ان پیمانوں کی بنیاد پر ہم پاکستان کی آزادی سمیت شعبوں کی طاقتیں اور کمزوریاں دیکھتے ہیں۔ پھر بہتری کی گنجائش پر غور کرتے ہیں۔

تمام اشاریوں کو یکجا کیا جائے تو کسی بھی ملک کی حقیقی خودمختاری اور مؤثر آزادی کا جائزہ تقریباً بارہ بنیادی پیمانوں کی روشنی میں لیا جا سکتا ہے، جن میں سیاسی خودمختاری، معاشی خودمختاری، دفاعی و اسٹریٹجک آزادی، انسانی ترقی، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی مضبوطی، ٹیکنالوجی اور جدت، غذائی و توانائی سلامتی، خارجہ پالیسی اور سفارتی اثر و رسوخ، ثقافتی اثر و رسوخ (Soft Power)، سماجی ہم آہنگی، اور ماحولیاتی پائیداری شامل ہیں۔

پاکستان ایک نظر میں

مجموعی منظرنامہ اور مقاصد

ابتداً، اس سے پہلے کہ ہم ان تمام پیمانوں پر تفصیل سے گفتگو کریں، آئیے ایک نظر میں دیکھ لیں کہ پاکستان مجموعی طور پر کہاں کھڑا ہے۔ یہ جدول کسی ایک عالمی ادارے کی سرکاری درجہ بندی نہیں بلکہ مختلف بین الاقوامی انڈیکسز اور شواہد کو یکجا کر کے اسی مضمون کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔

مزید برآں، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ قاری کو ابتدا میں ہی مجموعی تصویر دکھا دی جائے۔ یہ پس منظر منتخب شواہد کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو پاکستان کی آزادی کے موضوع پر ایک جامع فریم ورک مل سکے۔

پاکستان کی آزادی۔ عالمی پیمانے

دفاع اور قومی سلامتی

ہمیں اس بات پہ فخر کرنا چاہیے کہ پاکستان اس وقت دفاعی لحاظ سے دنیا کے مضبوط ترین ممالک میں شامل ہوتا ہے اور ہم اسے عملی طور پہ ثابت کر چکے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کی مضبوط اور تربیت یافتہ افواج موجود ہیں۔

مزید برآں، افرادی قوت اور فضائی طاقت کے لحاظ سے پاکستان بڑی دفاعی طاقتوں میں شامل ہے۔ بعض اہم اشاریوں میں ہماری پوزیشن دنیا کی ساتویں ہے اور fighter aircraft کے لحاظ سے چھٹی ہے۔

ہم ایک ایٹمی قوت ہیں۔ اس طرح ہمارے پاس ایک مضبوط دفاعی حصار اور ایک طاقتور ڈی ٹیرنس موجود ہے۔

اب حالیہ دنوں میں پاکستان نے سعودی عربیہ اور ترکی کے ساتھ ایک مضبوط دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ ہماری دفاعی پوزیشن کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ دفاع کے میدان میں ہمیں چین آذربائیجان جیسے دوسرے ممالک کا تعاون بھی حاصل ہے۔

خارجہ پالیسی

اگر آپ داخلی طور پہ اپنے وجدانی کیفیت سے دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ ہم خارجہ پالیسی میں کہاں آزاد ہیں، ہمارے اکثر فیصلے تو عالمی طاقتوں کے زیر اثر ہوتے ہیں لیکن اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو ہماری خارجہ پالیسی کا جو مضبوط ترین پہلو نظر آئے گا وہ یہ ہے کہ ہم نے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ ایک توازن قائم کرنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے اور یہی ہماری ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ امریکہ اور چین کی باہمی کشمکش اور چپقلش کے باوجود ہم نے دونوں ملکوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہمارے قریبی خطے میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے لے کر مشرقی ایشیا تک ہمارے سفارتی تعلقات مضبوط ہیں۔ باہمی اختلافات کے باوجود ایران اور ترکی کے ساتھ ہمارے اثر و رسوخ کی سطح قائم ہے۔ مشرقی وسطیٰ کے دیگر ملکوں اور وسطی ایشیا کے ہمسایوں کے ساتھ ہمارے شراکت داروں کی فہرست وسیع ہے، اور تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین اور دوسرے افریقی ملکوں کے ساتھ بھی ہمارے خارجہ تعلقات مستحکم ہیں۔

اب امریکہ ایران ثالثی میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مقام اور مرتبہ واضح طور پر بڑھا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہم عالمی سطح پر زیادہ موثر طریقے سے پالیسی سازی میں شریک رہتے ہیں، اور سلامتی و اقتصادی کارگزاری پر اثرات پر نظر رکھی جا رہی ہیں۔

ثقافت اور سافٹ پاور

لیکن اب ہم ایک ایسے پہلو کا ذکر کریں گے جس کے بارے میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ آپ کے تصور میں بھی نہیں ہوگا کہ پاکستان کس شعبے میں بہتر مقام رکھتا ہے۔ وہ شعبہ ہے پاکستان کی سافٹ پاور۔ خصوصی طور پر پاکستان کا ثقافتی ورثہ، آرٹ، کلچر اور موسیقی اہم ہیں。

مزید برآں، عالمی سطح پر پاکستان کی سافٹ پاور کی تصویر مضبوط ہوتی ہے۔ پاکستان کی آزادی کی قدر ہر حالت میں برقرار ہے۔

ہماری زبانیں پاکستان کی زبانیں ہیں، جیسے پنجابی، پشتو، سندھی اور بلوچی۔ مزید یہ کہ ان کا فوک کلچر اور کلچر، فوک میوزک اور ہیریٹیج دنیا بھر میں معروف ہیں۔ ان کی شاعری اور ادب کا اثر دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہماری صوفی فکر اور ہمارے علمی و ادبی علاقائی زبانوں کی پہچان دنیا میں ایک مخصوص مقام رکھتی ہے۔

اسی طرح بی بی سی اور دیگر معتبر ذرائع نے پاکستانی موسیقی کی بین الاقوامی پذیرائی پر روشنی ڈالی ہے، اور کوک اسٹوڈیو نے جدید ٹیکنالوجی اور تخلیقی پیشکش کے ذریعے اسے عالمی سطح تک پہنچایا ہے۔ یونیسکو نے پاکستان کے 6 ثقافتی مقامات کو ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں شامل کر رکھا ہے، جبکہ پاکستان کے 29 مزید مقامات یونیسکو کی ٹینٹیٹو لسٹ میں ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر 35 ایسے مقامات ہیں جو اس عالمی heritage framework میں پاکستان کے عظیم تاریخی اور ثقافتی اثاثے کو ظاہر کرتے ہیں۔

نوجوان ہمارا اثاثہ

ایک چیز جو، وہ ہمارے نوجوانوں کا تخلیقی جوہر ہے۔

آکسفورڈ کے Online Labour Index کے مطابق فری لانسنگ میں پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے، جبکہ اس کے اہم شعبوں، جیسے تحریر، تخلیق اور آرٹ و ڈیزائننگ، میں ہم دنیا کی سب سے اوپر کی دو پوزیشنز میں شامل ہیں!

قومی آزادی اور خود مختاری کے کمزور شعبے

اب ان شعبوں کی طرف آتے ہیں جہاں پاکستان کو ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ سب سے اہم ہیومن ڈیولپمنٹ ہے۔ یو این ڈی پی کی تازہ ترین ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان 193 میں 168ویں نمبر پر ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم، صحت اور آمدنی جیسے بنیادی اشاریوں میں ہمیں ابھی طویل سفر درپیش ہے۔

علاوہ ازیں، کسی بھی ملک کی طاقت اس کے شہریوں کی تعلیم اور صحت سے جڑی ہوتی ہے۔

دوسرا بڑا چیلنج قانون کی حکمرانی ہے۔ پاکستان رول آف لا انڈیکس 2025 میں 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہے۔

علاوہ ازیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون سب پر یکساں نافذ نہیں ہوتا۔ اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ بدعنوانی پر قابو پانا اور شہریوں کو انصاف کی فراہمی جیسے مسائل ابھی بھی سنگین ہیں۔

معاشی خودمختاری، ٹیکنالوجی اور جدت

معاشی خودمختاری تیسرا اہم شعبہ ہے۔ اسی طرح، بیرونی مالی اداروں کی مدد سے پالیسی سازی کی آزادی محدود ہوتی ہے۔ مضبوط معیشت صرف خوشحالی نہیں لاتی بلکہ قومی خودمختاری کی بنیاد ہے۔

ٹیکنالوجی اور جدت بھی آج کی دنیا میں قومی طاقت کا بڑا ستون سمجھی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں گلوبل انوویشن انڈیکس 2025 میں پاکستان 139 ملکوں میں 99ویں نمبر پر ہے۔ یہ درجہ بندی بتاتی ہے کہ ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ تاہم تحقیق، سائنسی ترقی، جدید انفراسٹرکچر اور اختراع میں سرمایہ کاری ابھی کم ہے۔ پھر بھی محدود وسائل کے باوجود کچھ تخلیقی شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی بہتر ہے۔ یہ مستقبل کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

سیاسی آزادی اور اظہارِ رائے

جس چیز پہ ہمیں فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ ہے سیاسی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی۔ ہمیں دنیا کے ان ممالک کی صف میں شامل ہونا ہے جہاں حکمتیں بنانے اور توڑنے کا فیصلہ عوام کرتے ہیں اور جہاں کوئی غیر سیاسی اور غیر منتخب ادارے ان میں مداخلت نہیں کرتے۔ اس طرح اس وقت ہماری رینکنگ جو ہائبرڈ ریجیم ہے اس سے نکل کے جو ہے وہ ایک ڈیموکریسی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

سافٹ پاور: ایک ایسا شعبہ جہاں ہم پہلے ہی مضبوط ہیں

اگر کسی ایک شعبے میں پاکستان نسبتاً کم وقت میں بڑی پیش رفت کر سکتا ہے تو وہ سافٹ پاور ہے۔ خوش قسمتی سے ہم زیرو سے شروع نہیں کر رہے بلکہ ہمارے پاس پہلے سے قیمتی اثاثے موجود ہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب، گندھارا ورثہ، مغلیہ دور کے آثار، ہماری صوفی روایات، پاکستانی زبانوں کا ادب، لوک اور کلاسیکی موسیقی، قوالی، دستکاریاں اور فنکاروں کی محنت ہمیں پہلے ہی ایک باوقار مقام دے چکی ہیں۔ اب ضروری یہ ہے کہ ہم اس شعور کو عام کریں، اپنے پالیسی سازوں کو قائل کریں کہ آرٹ، کلچر، زبانیں اور تخلیقی صنعتیں محض تفریح نہیں بلکہ نیشنل ایسٹ ہیں۔ اور ہمارے فنکار، موسیقار، لکھاری اور تخلیق کار تفریح فراہم کرنے والے افراد نہیں بلکہ پاکستان کے غیر رسمی سفیر ہیں۔

ثقافتی اداروں کا کردار

پاکستان کی ثقافت ترقی میں اُن اداروں کا بہت ہاتھ ہے جو اس مقصد کے لیے بنائے گئے، مثلاً نیشنل کونسل آف آرٹس، لوک ورثہ، لاہور آرٹس کونسل، ضرورت یہ کہ اب اقتصادی مشکلات کے دور میں ان اہم اداروں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ انھیں تفریح سے زیادہ قومی شناخت میں اضافہ کرنے والے اداروں کے طور پر دیکھا جائے۔

حوالہ جات

Brand Finance — Global Soft Power Index 2026
https://brandirectory.com/softpower

Global Firepower — Pakistan Military Strength

Read Previous

محسن نقوی کی تقریر: اصلاحات کا بیانیہ یا طویل اقتدار کا نیا فارمولا؟

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular