ہندوستان کے نوجوانوں کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوئے، وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ بھی مل گیا اور امتحانی اصلاحات سے متعلق مطالبات بھی مان لیے گئے۔ لیکن آج ہم حالیہ کاکروچ تحریک کے واقعات پہ بات نہیں کریں گے بلکہ اس تحریک کے معاشرتی اور سیاسی عوامل کا جائزہ لیں گے اور اس کا پاکستان کے حالات سے بھرپور موازنہ کریں گے۔
نوجوان کب میدان میں آتے ہیں؟
اگرچہ نوجوانوں کا ایک گروہ سیاسی پارٹیوں سے وابستہ ہوتا ہے لیکن ایک بڑی تعداد کسی خاص سیاسی پارٹی سے جڑی ہوئی نہیں ہوتی۔ نوجوان دراصل سیاسی پارٹیوں سے عمومی طور پر بدظن ہوتے ہیں لیکن وجہ یہ نہیں کہ وہ کسی خاص پارٹی کے مخالف ہیں بلکہ وہ رائج الوقت نظام سے ہی نالاں ہوتے ہیں۔
نوجوان یا طالب علموں کی بڑی تعداد اُس وقت میدان میں آتی ہے جب ان کا اپنا وجود اور مستقبل زد میں آتا ہے۔
انڈیا میں مقابلے اور اعلیٰ داخلوں کے امتحانوں کے پرچے لیک ہونا اور اُن کا مارکیٹ میں بکنا انڈیا میں ایک ایسی فوری وجہ بنا جس نے ایک زبردست تحریک کو جنم دیا۔ دوسری بنیادی وجہ وہاں حد سے بڑھی ہوئی بے روزگاری تھی۔
ایک بات جس پہ عام لوگوں کا دھیان کم جاتا ہے وہ ان مظاہروں میں اقلیتی طبقوں اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت تھی۔ یہ طبقات کافی لمبے عرصے سے ہندوستان میں زیرِ عتاب ہیں۔
ہندوستان نے معاشی ترقی ضرور کی ہے لیکن اسی بڑے تناسب سے امیر اور غریب کا معاشی فرق بھی بڑھا ہے۔ پھر انڈیا میں جہاں نوجوانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے وہاں سوشل میڈیا کے ذریعے اُن میں آگاہی بھی بہت عام ہے۔
یہ سارے عوامل مل کے ایک راتوں رات اُبھرنے والی تحریک بن گئے۔
اس سے پہلے کہ ہم یہ دیکھیں ہندوستان کا یہ جوان جتھہ اب کدھر جائے گا، اس کا سفر آگے بڑھے گا یا یہ رُک جائے گا اور کیا یہ مودی سرکار کو کوئی دیرپا نقصان پہنچا سکے گا؟
پاکستان میں کیا صورت حال ہے؟
ہم اپنے اصل موضوع پر آتے ہیں اور انڈیا میں انتشار کا سبب بننے والے اسباب کا پاکستان کے حالات سے موازنہ کرتے ہیں۔
پہلے وہ وجہ جو سب سے فوری بھڑکاؤ کا سبب بنی، اور وہ ہے اہم امتحانوں کے پیپرز کا لیک ہونا۔ پاکستان کے جن لوگوں کو کچھ بھی حالات کی خبر ہے وہ جانتے ہیں کہ اس مُلک میں مختلف امتحانوں کے پیپر لیک ہونے اور بکنے کے بے در پے واقعات ہوئے ہیں۔ 2024ء میں ایم کیٹ کے امتحانات کا معاملہ اس کی ایک مثال ہے۔
جو بات لوگ کم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ امتحانی بے ضابطوں کا دائرہ اب پاکستان کے کئی قابلِ اعتبار امتحانات تک بھی پھیل گیا ہے۔ جو لوگ سی ایس ایس کے امتحانی سنٹروں کے مناظر دیکھ چکے ہیں وہ ان کی بدنظمی اور افراتفری کے گواہ ہیں۔
ایک بات یہ کہ جوں جوں پنجاب کے مرکزی شہروں سے دور ہوتے جاتے ہیں امتحانی سنٹروں کے حالات پر قابو کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں اب بہت ساری چہ مگوئیاں بھی گردش میں ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ ان معاملات کو منظرِ عام پر آنے میں دیر نہیں لگے گی۔
بے روزگاری میں بھی پاکستان کے حالات ابتر ہیں۔ تیز اقتصادی ترقی کی رفتار کے ساتھ انڈیا پھر بھی کچھ نہ کچھ نوجوانوں کو اپنے نظام میں کھپا لیتا ہے۔ جبکہ پاکستان کی شرحِ نمو کئی سالوں سے بہت کم ہے اور شرحِ پیداوار میں ایک پوائنٹ کی کمی کا مطلب بھی لاکھوں نوجوانوں کی بے روزگاری ہونا ہوتا ہے۔
پاکستان میں نوجوان آن لائن جابز کے ذریعے تھوڑا بہت گزارا چلا رہے ہیں لیکن اب غیر ملکی کمپنیوں میں اے آئی کے استعمال نے یہ میدان بھی تنگ کر دیا ہے۔ دوسری طرف سرکاری محکموں میں “رائٹ سائزنگ” کا دور چل رہا ہے۔ ایسے میں نوجوانوں کے اندر فرسٹریشن کا جو لاوا پک رہا ہے اس کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں۔
پھر انڈیا کے نوجوانوں کو جو کچھ خاص آسانیاں حاصل ہیں، یہاں پاکستان میں وہ بھی نہیں۔ مثلاً وہاں اظہارِ رائے کی کافی آزادی ہے۔ عدالتی نظام سے بھی کچھ انصاف مل جاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ عدالتی نظام کی طرف سے ذرا سی بے اعتنائی نے بھی وہاں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
پھر انڈیا میں نوجوانوں کو مل بیٹھنے، ہنسنے بولنے، اکٹھے رہنے کی آزادی ہے۔ تفریح اور کھیل کے بے شمار مواقع ہیں۔ یہاں تفریح بڑے لوگوں کے فارم ہاؤسوں میں سمٹی ہوئی ہے اور عام نوجوان ہر طرح کی شدید گھٹن کا شکار ہیں۔ ایک منظر جو آپ بھی روز دیکھتے ہیں کہ نوجوان موٹر سائیکل سواروں کو سڑکوں پر قطار اندر قطار روک کر روز بے توقیر کیا جا رہا ہوتا ہے۔
پاکستانی نوجوانوں کی چُپ اطمینان یا خاموش طوفان؟
اب اگر یہاں اس قدر گھٹن، بے چینی اور ناانصافی ہے تو یہ احتجاج بن کر باہر کیوں نہیں آتی؟
یہ سوال اہم ہے۔
لیکن ایک خاموش آتش فشاں کو دیکھ کر کبھی اندازہ نہیں ہو سکتا کہ یہ کب پھٹ پڑے گا۔
ابھی تو انتظامی مشینری نے اپنا پنجہ سخت کیا ہوا ہے۔ یہ سختی ہندوستان میں نہیں۔ یہاں ہمارے مُلک میں خوف اور سراسیمگی جن کتابی، سکّہ بند طریقوں سے پھیلائی گئی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
پھر یہ بھی کہ ایک دہائی پہلے نوجوانوں کے غصے کو ایک خاص سیاسی سمت دی گئی۔ اُن کی امیدیں واقعی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھیں اور جوش بھی بے مثال تھا، لیکن پھر پہلے تو وہ اُمیدیں پوری نہ ہو سکیں، پھر شاید اُس سیاسی قیادت سے، جس سے نوجوان جُڑے ہوئے تھے، کچھ غلطیاں ہو گئیں جن کی وجہ سے ایک آدھ پکے طوفان کو سختی سے خاموش کروا دیا گیا۔
لیکن یہ سوال ہر سوچنے سمجھنے والے پاکستانی کے لیے ہے کہ کیا نوجوانوں کا غصہ اب واقعی ختم ہو گیا ہے؟ کیا اُنہوں نے اپنی رائے یا ہمدردیاں بدل لی ہیں؟
شاید ایسا نہیں ہوا، کوئی چنگاری کسی وقت بھی نہ روکنے والے شعلے کو ہوا دے سکتی ہے۔
لہٰذا آوازوں کو روکے رکھنا کسی انتشار سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ اصل چیز نوجوانوں کے مسائل کا حل ہے۔
بروقت کرنے کے کام
ابھی وقت ہے کہ سب سے پہلے تو امتحانی نظاموں کو بے حد مضبوط اور شفاف بنا دیں۔ سی ایس ایس کے جس سسٹم پر لوگوں کا اعتبار ابھی قائم ہے، اس میں شروع ہونے والی ہر خرابی کو ابتدا ہی سے ختم کر دیں۔
اپنی توجہ مصنوعی مقبولیت یعنی نغماتی مہموں، منظم ہیش ٹیگوں اور توصیفی اشتہاروں سے ہٹا کر اصل اقتصادی ترقی پر مرکوز کریں تاکہ نوجوانوں کو روزگار ملے۔
رجعت پسند سوچ کو بدلیں اور نوجوانوں کو رونق میلہ کرنے دیں۔ موسیقی، آرٹ اور فلم جیسی مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ یہ بیدار نسل ہے، اس کی سانس بند نہ کریں۔ تفریح کو محل نما گھروں سے نکال کر پارکوں، سینما ہالوں، تھیٹروں اور عوامی فیسٹیولز اور مناسب قیمت والے ریستورانوں تک لے جائیں۔ اس نسل کو ہنسنے، کھیلنے دیں۔
اور پھر یہ کہ اپنی انتظامی مشینری کو جوابدہ بنائیں اور اسے نوجوانوں کی بے توقیری سے روکیں۔ یاد رکھیں، ہندوستان میں پھڑکنے والی چنگاری کسی عظیم قومی مسئلے سے نہیں بلکہ ایک چھوٹے سے توہین آمیز جملے سے پھوٹی تھی۔
