بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ دیکھ کر الجھن میں ہیں؟ آئیے جانتے ہیں یہ کس کام آتا ہے، کن لوگوں کو تصدیق کرنی ہے اور کن کو نہیں؟
سرکار کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں پر چھاپا جانے والا کیو آر کوڈ صرف ان صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور رعایتی نرخوں پر بجلی حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی اس نظام کا مقصد ہے تو پھر 800، 1000 یا اس سے بھی زیادہ یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں پر بھی یہی کیو آر کوڈ کیوں موجود ہے؟ کیا یہ کوڈ صرف کم یونٹس استعمال کرنے والوں کی تصدیق کے لیے ہے یا اس کے دائرۂ کار میں کچھ اور بھی شامل ہے؟
حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
حکومت کے مطابق 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے مستحق صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کا نظام مزید شفاف بنایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بجلی کے بل پر موجود کیو آر کوڈ کو اسکین کرکے یا ریفرنس نمبر کے ذریعے سرکاری پورٹل پر اپنی شناخت اور موبائل نمبر کی تصدیق کریں تاکہ یہ یقین کیا جا سکے کہ رعایت واقعی اسی شخص کو مل رہی ہے جو اس کا حق دار ہے۔
حکومت کا دوسرا مؤقف یہ ہے کہ بعض مقامات پر ایک ہی گھر میں دو، تین یا چار بجلی کے میٹر نصب کروا کر ہر میٹر کی کھپت 200 یونٹ سے کم رکھی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان متعدد مرتبہ رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ سبسڈی کے نظام کا غلط استعمال ہے، جس کا مالی بوجھ بالآخر دوسرے صارفین پر بھی پڑتا ہے۔ اسی لیے حکومت چاہتی ہے کہ مستحق صارف کی شناخت کی تصدیق کی جائے تاکہ رعایت صرف حقیقی حق دار تک پہنچے۔
اس نظام پر کیا تنقید کی جا رہی ہے؟
پہلی تنقید یہ ہے کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی ایک بڑی تعداد معاشرے کے نسبتاً کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں مزدور، گھریلو ملازمین، دیہاڑی دار کارکن اور ایسے بہت سے افراد شامل ہیں جن کے لیے اسمارٹ فون، انٹرنیٹ یا آن لائن تصدیق کا عمل آسان نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طبقہ بروقت اپنی تصدیق نہ کرا سکا تو ممکن ہے وہ مستحق ہونے کے باوجود رعایتی نرخوں سے محروم ہو جائے اور اسے عام نرخوں پر بجلی خریدنا پڑے۔ یوں سب سے زیادہ نقصان اسی طبقے کو ہوگا جس کی مدد کے لیے یہ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں لوگ دو یا تین افراد پر مشتمل چھوٹے خاندانی یونٹوں میں نہیں رہتے بلکہ یہاں مشترکہ خاندانی نظام (جوائنٹ فیملی سسٹم) رائج ہے۔ بہت سے گھروں میں آٹھ، دس بلکہ گیارہ بارہ افراد بھی ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ توقع کرنا کہ ایک ہی گھر میں نصب ایک بجلی کا میٹر ہر مہینے 200 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرے، عملی طور پر بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس نوعیت کی تجاویز زیادہ تر ان ممالک کے تجربات کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہیں جہاں عام طور پر ایک گھر میں صرف میاں بیوی یا دو تین افراد پر مشتمل چھوٹا خاندانی یونٹ رہتا ہے۔ پاکستان کی سماجی اور خاندانی ساخت اس سے مختلف ہے، اس لیے یہاں پالیسی بناتے وقت مقامی حالات، مشترکہ خاندانی نظام اور اوسط گھریلو ضروریات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے

دوسرا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت جس غلط استعمال کو روکنا چاہتی ہے، صرف شناختی تصدیق سے اس کا مکمل سدباب ممکن نظر نہیں آتا۔ اگر واقعی کسی ایک گھر میں مختلف افراد کے نام پر متعدد میٹر موجود ہیں اور وہ تمام افراد اپنی اپنی شناخت کی تصدیق کر سکتے ہیں تو پھر ایسے معاملات میں بھی رعایت حاصل کی جا سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر مقصد غلط استعمال روکنا ہے تو اس کے لیے صرف تصدیقی مرحلہ کافی نہیں بلکہ زیادہ جامع اور مؤثر طریقۂ کار درکار ہوگا۔
عوام کے خدشات کیا ہیں؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگرچہ اس وقت یہ نظام صرف رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، لیکن ممکن ہے مستقبل میں تمام بجلی صارفین سے بھی کہا جائے کہ وہ اپنے بجلی کے میٹر کو اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک کر کے اس کی تصدیق کریں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت بہت سے ایسے بجلی کنیکشن موجود ہیں جن کے اصل مالکان تبدیل ہو چکے ہیں، کئی گھروں میں کرایہ دار رہ رہے ہیں، جبکہ بعض افراد نے ایک ہی نام یا شناختی کارڈ پر ایک سے زیادہ میٹر بھی حاصل کر رکھے ہیں۔
اگر ایسا ہوا تو حکومت کے پاس یہ صلاحیت پیدا ہو جائے گی کہ وہ زیادہ درست انداز میں جان سکے کہ کون شخص کس جگہ رہ رہا ہے اور کس حد تک بجلی استعمال کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں بعض افراد یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگر مستقبل میں مختلف سرکاری اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو بجلی کے اخراجات اور کسی شخص کی ظاہر کردہ آمدنی کا تقابل بھی ممکن ہو سکے گا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنی سالانہ آمدنی نسبتاً کم ظاہر کرتا ہے لیکن اس کے گھر کے بجلی کے اخراجات غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں تو متعلقہ ادارے اس بارے میں سوال اٹھا سکتے ہیں۔
تاہم اس بات کا نہ تو کوئی واضح ثبوت موجود ہے کہ حکومت نے کیو آر نظام کسی خفیہ مقصد کے لیے متعارف کرایا ہے، اور نہ ہی ان خدشات کی کوئی ٹھوس بنیاد سامنے آئی ہے۔ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت فی الحال ان افراد کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے جنہوں نے ایک ہی گھر میں متعدد میٹر لگا کر بجلی کے استعمال کو مختلف میٹروں میں تقسیم کیا ہوا ہے تاکہ ہر میٹر پر رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ حکومت کے مطابق یہی اس نظام کے غلط استعمال کی بنیادی وجہ ہے۔

تمام کیو آر کوڈ ایک جیسے نہیں ہوتے
اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر تصدیق صرف رعایتی بجلی کے صارفین کے لیے ضروری ہے تو پھر تقریباً تمام بجلی کے بلوں پر کیو آر کوڈ کیوں موجود ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام کیو آر کوڈ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ رعایتی بجلی کے اہل صارفین کے بلوں پر موجود کراس سبسڈی ویریفکیشن کوڈ انہیں سرکاری PITC پورٹل پر لے جاتا ہے، جہاں وہ اپنی اہلیت جانچ کر تصدیق کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، زیادہ یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں پر موجود Scan & Pay کوڈ دراصل ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے ہوتا ہے۔ اس کی مدد سے صارف کسی بھی بینک کی موبائل ایپ، ایزی پیسہ، جاز کیش یا دیگر آن لائن ادائیگی کے ذریعے اپنا بل فوری طور پر ادا کر سکتا ہے۔ اس کوڈ کا رعایتی بجلی کی تصدیق کے نظام سے کوئی تعلق نہیں۔
حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر حکومت واقعی بجلی کے رعایتی نظام کو شفاف اور مؤثر بنانا چاہتی ہے تو یہ خوش آئند بات ہے کہ اب تک اس نے رعایتی نرخوں کو اچانک ختم نہیں کیا اور صارفین کو تصدیق کے لیے وقت فراہم کیا ہے۔
تاہم حکومت کو چاہیے کہ تصدیق کے عمل کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کرے، رجسٹریشن کا طریقۂ کار عام فہم بنایا جائے، اور کم پڑھے لکھے یا وسائل سے محروم افراد کی رہنمائی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں تاکہ کوئی مستحق صارف صرف تکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنے حق سے محروم نہ رہ جائے۔
ویسے اگر غور کیا جائے تو صرف ان چند افراد کی وجہ سے، جنہوں نے ایک ہی گھر میں متعدد میٹر لگا کر بجلی کے استعمال کو مختلف میٹروں میں تقسیم کیا ہوا ہے، پورا ایک نیا ڈیجیٹل تصدیقی نظام قائم کرنا ہر ایک کے لیے آسانی سے قابلِ فہم نہیں لگتا۔ بہت سے ماہرین کی رائے ہے کہ موجودہ خودکار نظام کو برقرار رکھتے ہوئے صرف مشکوک یا غیر معمولی معاملات کی الگ سے جانچ کی جا سکتی تھی۔ اس طرح نہ تو عام صارفین کو اضافی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑتا اور نہ ہی سبسڈی کے اخراجات میں کوئی نمایاں فرق آتا۔ البتہ یہ فیصلہ حکومت اور متعلقہ ماہرین نے ہی کرنا ہے کہ عوامی مفاد اور انتظامی سہولت کے درمیان بہتر توازن کس طریقے سے قائم کیا جا سکتا ہے۔
صرف کیو آر کوڈ نہیں، پورا بجلی کا نظام اصلاحات کا متقاضی ہے
اسی طرح بجلی کے موجودہ سلیب سسٹم پر بھی سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت جیسے جیسے بجلی کی کھپت بڑھتی ہے، فی یونٹ قیمت بھی بڑھتی جاتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔
دوسری طرف صاحبِ استطاعت طبقے کی بڑی تعداد اپنے گھروں میں سولر سسٹم نصب کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں وہ قومی گرڈ پر پہلے سے کہیں کم انحصار کرتی ہے۔ یہ ایک مثبت رجحان ہے اور اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، لیکن اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ قومی گرڈ کے اخراجات کا نسبتاً بڑا بوجھ اب اسی سفید پوش متوسط طبقے پر آ گیا ہے جو نہ تو سبسڈی کا مستحق ہے اور نہ ہی سولر سسٹم لگانے کی مالی استطاعت رکھتا ہے۔
اگر بجلی کے شعبے میں حقیقی اصلاحات مقصود ہیں تو صرف کیو آر کوڈ متعارف کرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حکومت کو بجلی کے ٹیرف، سلیب سسٹم اور سبسڈی کے پورے ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا تاکہ مستحق افراد کو حقیقی ریلیف بھی ملے، نظام کا غلط استعمال بھی رکے اور متوسط طبقہ بھی غیر متناسب مالی بوجھ کا شکار نہ ہو۔
شفافیت اور عوامی اعتماد اسی وقت قائم ہوگا جب اصلاحات کا بوجھ کمزور اور سفید پوش طبقے پر منتقل کرنے کے بجائے پورے نظام کو زیادہ منصفانہ، سادہ اور قابلِ فہم بنایا جائے۔
j
