!پنجاب کے ترقیاتی فنڈز میں تاریخی کٹوتی کیوں؟ | وسائل کی تقسیم کا جھگڑا اور اصل کہانی
این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کو کیسے بائی پاس کیا گیا؟
پنجاب کے ترقیاتی فنڈز میں تاریخی کٹوتی کی بحث زور پکڑتی جا رہی ہے ۔ اگرچہ ہر بجٹ اپنے ساتھ نئی یبحثیں اور نئے تنازعات لے کر آتا ہے۔ لیکن یہ بجٹ اپنے ساتھ ایک ایسا تنازعہ لے آیا ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
اس بجٹ نے کسی باقاعدہ آئینی اور قانونی بندوبست کے بغیر صوبوں کو ملنے والے فنڈز میں بڑی کٹوتی کر دی۔ سب سے بڑی زد پنجاب پر پڑی جس کا آدھا ترقیاتی فنڈ کاٹ لیا گیا اور یوں اسے اپنے عوام کی صحت، تعلیم اور فلاح پر خرچ ہونے والے تقریباً 710 ارب روپے سے محروم کر دیا گیا۔
اس ملک میں ہونے والی انہونیوں میں یہ نیا اضافہ کیسے ہوا اور کیوں ہوا؟ یہ جاننے کے لیے وفاق اور صوبوں میں وسائل کے جھگڑے کے پورے پس منظر کا جائزہ لینا ضروری ہے اور اس مسئلے کو طے کرنے والے اہم نظام، این ایف سی ایوارڈ، کے پورے طریقۂ کار کو بھی آسان لفظوں میں جاننا ضروری ہے۔
لیکن پہلے ایک نظر موجودہ بجٹ کی عمومی سمت پر بھی ڈال لیتے ہیں کیونکہ اس سے پوری بات کو سمجھنے میں مزید آسانی ہو جائے گی۔
بجٹ کی مجموعی سمت
اگر بجٹ کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ایکh بات واضح نظر آتی ہے۔ یہ بجٹ ترقیاتی اخراجات بڑھانے کے بجائے مالیاتی استحکام کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے۔ حکومت کا زور قرضوں کے بوجھ کو سنبھالنے، آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف پورے کرنے اور دفاعی ضروریات کے لیے وسائل مہیا کرنے پر ہے۔
دفاعی بجٹ میں تقریباً 18 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور اسے تین کھرب روپے کے قریب پہنچا دیا گیا ہے۔ دوسری طرف وفاقی ترقیاتی پروگرام کو محدود رکھا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی صرف سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
یعنی مالی مجبوریوں اور خطے کے حالات نے عوامی فلاح اور ترقی سے توجہ ہٹا کر ترجیحات کا رخ مالی استحکام اور ملکی دفاع کی طرف کر دیا ہے۔
لیکن کٹوتیوں کی اصل تلوار صوبائی فنڈز پر چلائی گئی ہے۔
صوبائی ترقیاتی پروگراموں میں مجموعی طور پر تقریباً 920 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ بوجھ پنجاب نے برداشت کیا ہے۔ پنجاب کے ترقیاتی پروگرام کو تقریباً ڈیڑھ کھرب روپے کی سطح سے کم کر کے سات سو انچاس ارب روپے تک لایا گیا ہے۔
دوسرے الفاظ میں پنجاب کے ترقیاتی اخراجات میں تقریباً پچاس فیصد کمی کی گئی ہے۔
پنجاب ہی نے سب سے بڑا بوجھ کیوں اٹھایا؟
لیکن اس زورآوری کی کٹائی کے لیے ایک بار پھر پنجاب نے ہی اپنا دامن کیوں پیش کر دیا؟
اس سوال کا ٹھیک جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کر لیا جائے۔
عام پاکستانی یہ سمجھتا ہے کہ وفاق ٹیکس اکٹھا کرتا ہے، اس لیے یہ رقم وفاق کی ملکیت ہے۔ پھر آخر وہ اپنے اکٹھے کیے ہوئے پیسے کا اتنا بڑا حصہ صوبوں کو کیوں دیتا ہے؟
حقیقت اس سے مختلف ہے۔
ٹیکس اسلام آباد پیدا نہیں کرتا۔ ٹیکس کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان اور حیدرآباد کے کاروبار پیدا کرتے ہیں۔ ٹیکس وہ صنعتیں پیدا کرتی ہیں جو صوبوں میں قائم ہیں۔ ٹیکس وہ شہری پیدا کرتے ہیں جو اپنی آمدنی پر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
وفاق دراصل وصول کنندہ ہے، وسائل پیدا کرنے والا نہیں۔
اسی لیے دنیا کے تقریباً تمام وفاقی ممالک میں ایک اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ جہاں سے وسائل پیدا ہوتے ہیں وہاں عوام کو تعلیم، صحت، سڑکوں، امن و امان اور دیگر بنیادی سہولتیں بھی ملنی چاہئیں۔
چونکہ ان میں سے زیادہ تر خدمات صوبائی حکومتیں مہیا کرتی ہیں، اس لیے قومی وسائل کا ایک بڑا حصہ صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔
وفاق دراصل وصول کنندہ ہے، وسائل پیدا کرنے والا نہیں۔ ٹیکس اسلام آباد پیدا نہیں کرتا بلکہ کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ اور ملک بھر کے کاروبار، صنعتیں اور شہری پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے قومی وسائل کا ایک بڑا حصہ صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اسی مقصد کے لیے این ایف سی ایوارڈ کا نظام بنایا گیا۔
این ایف سی ایوارڈ کیا ہے؟
این ایف سی ایوارڈ دراصل ایک ایسا مالیاتی معاہدہ ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ وفاق اور صوبے قومی وسائل میں سے کتنا حصہ حاصل کریں گے اور پھر صوبوں کے حصے کو چاروں صوبوں میں کس بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔
2010 سے پہلے صوبوں کو قابلِ تقسیم محاصل کا تقریباً 47.5 فیصد حصہ ملتا تھا جبکہ وفاق 52.5 فیصد اپنے پاس رکھتا تھا۔
لیکن 2010 میں ایک تاریخی تبدیلی ہوئی۔
پیپلز پارٹی کی حکومت، مسلم لیگ (ن)، اے این پی، بلوچستان کی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے سے ساتواں این ایف سی ایوارڈ منظور ہوا۔
صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا جبکہ وفاق کا حصہ کم ہو کر 42.5 فیصد رہ گیا۔
یہ صرف مالیاتی فیصلہ نہیں تھا۔
اس کے پیچھے ایک سیاسی فلسفہ تھا۔
چھوٹے صوبوں کا موقف تھا کہ پاکستان میں طاقت اور وسائل حد سے زیادہ مرکز میں جمع ہو چکے ہیں۔ اگر صوبوں کو صحت، تعلیم، زراعت اور مقامی ترقی کی ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں تو وسائل بھی ان کے پاس ہونے چاہئیں۔
یعنی کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد اگر بہت سے مزید شعبے صوبوں کے پاس آ گئے ہیں تو پھر ان کو چلانے کے لیے مزید فنڈز بھی تو چاہئیں۔
اسی سوچ نے بعد میں 18ویں ترمیم کی شکل اختیار کی۔
آرٹیکل 160 اور صوبوں کا تحفظ
18ویں ترمیم کا شاید سب سے اہم مالیاتی پہلو آرٹیکل 160 میں شامل کیا گیا۔
اگرچہ این ایف سی ایوارڈ ہر پانچ سال بعد طے ہوتا ہے اور اس میں وسائل کی تقسیم کا کوئی بھی نیا تناسب طے کیا جا سکتا ہے، لیکن آرٹیکل 160 نے یہ تحفظ دیا کہ صوبوں کا مجموعی حصہ بڑھایا تو جا سکتا ہے، اسے آئندہ کسی این ایف سی ایوارڈ میں کم نہیں کیا جا سکتا۔
یعنی کوئی نئی آئینی ترمیم کیے بغیر صوبوں کا حصہ کم کرنے کا راستہ بند ہو گیا۔
یہ دراصل چھوٹے صوبوں کو ایک یقین دہانی تھی کہ ایک بار حاصل ہونے والے مالی حقوق دوبارہ واپس نہیں لیے جائیں گے۔
آرٹیکل 160 نے صوبوں کو یہ تحفظ دیا تھا کہ ایک بار بڑھایا گیا حصہ آئندہ کسی این ایف سی ایوارڈ میں کم نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ تنازع دراصل اسی سوال کے گرد گھومتا ہے کہ اگر حصہ کم نہیں کیا جا سکتا تو پھر صوبوں کے ترقیاتی فنڈز میں اتنی بڑی کمی کیسے آ گئی؟
پھر مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔
وفاق کے اخراجات بڑھتے گئے۔
قرضوں کی ادائیگیاں بڑھتی گئیں۔
دفاعی ضروریات میں اضافہ ہوتا گیا۔
آئی ایم ایف پروگراموں کی شرائط مزید سخت ہوتی گئیں۔
اور وفاق کے پاس موجود وسائل نسبتاً محدود ہوتے گئے۔
اب یہ بحث شروع ہو گئی کہ ایک نئی آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کا حصہ کم نہ کرنے کی پابندی ختم کی جائے، یوں نئے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا نیا تناسب ترتیب دیا جائے۔
لیکن اس کام کے لیے سیاسی جماعتیں تیار نہیں تھیں۔
خاص طور پر پیپلز پارٹی اپنی ٹوپی میں لگے 18ویں ترمیم کے سنہری پر کو اتار کر پھینکنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔
لہٰذا حکومتی مالیاتی ماہرین کے زرخیز ذہنوں میں ایک نئی
صوبائی سرپلس: کان کو ذرا ٹیڑھا پکڑنے کی ترکیب
بظاہر حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کو چھیڑا نہیں۔
آئین میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔
آرٹیکل 160 اپنی جگہ موجود ہے۔
صوبوں کا 57.5 فیصد حصہ بھی کاغذ پر برقرار ہے۔
اور صوبوں کے حصے میں ایک نمایاں کمی بھی ہو گئی ہے۔
اس سوال کا جواب ایک نسبتاً تکنیکی اصطلاح میں پوشیدہ ہے جسے “صوبائی سرپلس” کہا جا رہا ہے۔
یعنی وفاقی پول سے فنڈز صوبوں کو چلے تو جائیں لیکن وہ انہیں خرچ نہ کریں، یعنی اپنے ترقیاتی یا دوسرے اخراجات کا حصہ نہ بنائیں۔
یوں وفاق جب اپنے حصے کی آمدنی سے زیادہ خرچ کرے تو آمدنی سے زیادہ یہ خرچ مجموعی مالیاتی میزان میں خسارے کے طور پر نظر نہ آئے اور عالمی مالیاتی ادارے انگلی اٹھا کر یہ نہ کہیں کہ بھیا خسارے کی یہ رقم کہاں سے آئے گی۔
یعنی وفاق خرچ کرے، خسارہ بنائے اور صوبوں کی بچت اس خسارے کا پیٹ بھر دے۔
یوں کان کو تھوڑا سا ٹیڑھا کر کے پکڑ لیا جائے اور 18ویں ترمیم بھی اپنی جگہ آرام سے موجود رہے اور سیاسی پارٹیوں کی عزت بھی قائم و دائم رہے۔
البتہ اس بجٹ کے بارے میں یہ بھی رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ اس سال وفاق پچھلے سال سے زائد جو محصولات اکٹھے کرے گا، اس کا حصہ سرے سے صوبوں کو تقسیم ہی نہیں کیا جائے گا۔
لگتا ہے اس کام کے لیے بھی آخرکار سرپلس کی یہی ترکیب استعمال کی جائے گی کیونکہ اور کوئی قانونی راستہ بظاہر موجود نہیں ہے۔
سرپلس آسمان سے نہیں آتا
اب یہ سرپلس آسمان سے تو نہیں آتا۔
سرپلس پیدا کرنے کے لیے یا تو آمدنی بڑھانی پڑتی ہے یا اخراجات کم کرنے پڑتے ہیں۔
اور موجودہ صورتحال میں اخراجات کم کرنے کا سب سے آسان راستہ ترقیاتی منصوبوں میں کمی تھا۔
یہی وجہ ہے کہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ کاٹ دیا گیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب نے اس سلسلے میں سب سے زیادہ بوجھ کیوں اٹھایا؟
سرکاری جواب اور سیاسی جواب
اس سوال کا ایک سرکاری جواب ہے اور ایک سیاسی جواب۔
سرکاری جواب یہ ہے کہ پنجاب کے پاس ترقیاتی پروگرام سب سے بڑا تھا، اس لیے ایڈجسٹمنٹ بھی زیادہ کی گئی۔
یہ دلیل پہلی نظر میں منطقی محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ پوری کہانی نہیں سناتی۔
کیونکہ پنجاب صرف سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا صوبہ نہیں، سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا صوبہ بھی ہے۔
پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی پنجاب میں رہتی ہے۔
سب سے زیادہ سکول، کالج، ہسپتال، دیہی سڑکیں، شہری انفراسٹرکچر اور زرعی ضروریات بھی بڑی حد تک پنجاب میں موجود ہیں۔
اس لیے یہ کہنا کہ پنجاب کے پاس زیادہ وسائل تھے، اپنے آپ میں مکمل جواب نہیں بنتا۔
ایک دوسرا سوال فوراً پیدا ہوتا ہے:
کیا پنجاب کی ضروریات بھی زیادہ نہیں ہیں؟
کیا پنجاب کے نوجوانوں کو روزگار نہیں چاہیے؟
کیا پنجاب کے سکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کو فنڈز درکار نہیں؟
کیا ترقیاتی بجٹ میں پچاس فیصد کمی کا اثر عام شہری پر نہیں پڑے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف یہ کہہ کر نہیں دیا جا سکتا کہ پنجاب کے پاس وسائل زیادہ تھے۔
ایک سیاسی پہلو جس پر بات ہونی چاہیے
یہاں ایک اور سیاسی پہلو بھی سامنے آتا ہے جس پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حقوق، وسائل کی تقسیم اور خودمختاری کے سوالات پر سیاسی ردعمل کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔
سندھ میں قوم پرست سیاست کی مختلف شکلیں دہائیوں سے موجود ہیں۔
بلوچستان میں وسائل اور صوبائی حقوق کا مسئلہ ہمیشہ حساس رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بھی مختلف ادوار میں صوبائی حقوق اور خودمختاری کی سیاست نمایاں رہی ہے۔
اس کے مقابلے میں پنجاب کی سیاست ہمیشہ زیادہ تر قومی سطح کے بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے۔
پنجاب میں صوبائی حقوق کے نام پر کوئی مضبوط عوامی تحریک کبھی وجود میں نہیں آ سکی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے حقوق کا سوال اکثر پنجاب کے اندر بھی زیرِ بحث نہیں آتا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سب سے بڑی مالیاتی قربانی اسی صوبے نے دی جہاں وفاق اور صوبے دونوں میں ایک ہی جماعت برسرِ اقتدار ہے؟
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سب سے بڑی کٹوتی اسی صوبے میں ہوئی جہاں صوبائی حقوق کے نام پر شدید سیاسی مزاحمت کا امکان سب سے کم تھا؟
یقیناً اس سوال کا قطعی جواب کسی کے پاس نہیں۔
لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔
کیونکہ جمہوری نظام میں وسائل کی تقسیم صرف حساب کتاب کا مسئلہ نہیں ہوتی، یہ سیاسی ترجیحات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
پنجاب کے عوام بھی فریق ہیں
پنجاب کے حصے کی کٹوتی کے حامی اس کے جواب میں ایک اور دلیل دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت مالی بحران کا شکار ہو جاتی، اگر آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں پڑ جاتا، اگر مالیاتی استحکام متاثر ہوتا تو اس کا نقصان صرف اسلام آباد کو نہیں بلکہ پنجاب سمیت پورے ملک کو اٹھانا پڑتا۔
یہ دلیل بھی مکمل طور پر غلط نہیں۔
وفاق کی مالی مشکلات حقیقی ہیں۔
قرضوں کا بوجھ بھی حقیقی ہے۔
دفاعی ضروریات بھی حقیقی ہیں۔
موجودہ علاقائی حالات میں ان ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن اس کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے:
کیا مالیاتی استحکام کا سب سے بڑا بوجھ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں پر ڈالنا ناگزیر تھا؟
یا اس بوجھ کو زیادہ متوازن انداز میں تقسیم کیا جا سکتا تھا؟
یہی وہ سوال ہے جو آنے والے مہینوں میں سیاسی اور معاشی حلقوں میں زیرِ بحث رہے گا۔
اور شاید اس بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پنجاب کی نمائندگی صرف پنجاب حکومت نہیں کرتی۔

پنجاب کی اصل نمائندگی اس کے کروڑوں عوام کرتے ہیں۔
وہ والدین جو بہتر سکول چاہتے ہیں۔
وہ مریض جو بہتر ہسپتال چاہتے ہیں۔
وہ نوجوان جو روزگار کے مواقع چاہتے ہیں۔
وہ کسان جو بہتر سڑکیں اور زرعی انفراسٹرکچر چاہتے ہیں۔
ترقیاتی بجٹ میں پچاس فیصد کمی کا اصل اثر سرکاری فائلوں پر نہیں بلکہ انہی لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔
اسی لیے پنجاب کے حقوق کی بات کرنا کسی صوبائی تعصب کا اظہار نہیں۔
یہ ان کروڑوں شہریوں کے حق کی بات ہے جن کے نام پر وسائل جمع کیے جاتے ہیں اور جن کی فلاح و بہبود کے لیے یہ وسائل خرچ ہونے چاہئیں۔
حل کیا ہے؟
لیکن اس بحث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ این ایف سی ایوارڈ کو ختم کر دیا جائے یا 18ویں ترمیم کو کمزور کر دیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ پہلے ہی مرکز اور صوبوں کے درمیان کشیدگی سے بھری پڑی ہے۔
بلوچستان کے زخم ابھی بھرے نہیں۔
سندھ کے خدشات ختم نہیں ہوئے۔
خیبر پختونخوا کے تحفظات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
ایسی صورتحال میں 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو براہِ راست چھیڑنا شاید مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کی ابتدا ہو سکتا ہے۔
اس تمام بحث کے بعد شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس مسئلے کو پنجاب بمقابلہ دوسرے صوبوں کی لڑائی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کسی ایک صوبے کے لیے نہیں بنائے گئے تھے بلکہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو متوازن بنانے کے لیے وجود میں آئے تھے۔
اگر آج وفاق مالی دباؤ کا شکار ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ ایک نئے تنازعے کو جنم دیا جائے اور صوبوں کے درمیان بداعتمادی بڑھائی جائے۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی درست نہیں کہ پنجاب کے حصے میں آنے والی غیر معمولی کٹوتی پر مکمل خاموشی اختیار کر لی جائے۔
جمہوریت میں وسائل کی تقسیم پر سوال اٹھانا جرم نہیں بلکہ حق ہے۔
اگر ایک صوبہ سب سے زیادہ مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے تو اس پر بحث بھی ہونی چاہیے اور اس کے حق میں دلائل بھی پیش ہونے چاہئیں۔
پنجاب کے عوام بھی اسی پاکستان کے شہری ہیں جس طرح سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام ہیں۔
ان کے بچوں کی تعلیم، ان کے ہسپتالوں کی حالت، ان کی سڑکیں، ان کے روزگار کے مواقع اور ان کے ترقیاتی منصوبے بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے ملک کے کسی دوسرے حصے کے۔
اس مضمون کا مقصد کسی صوبے کے خلاف نفرت پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے سوال کی نشاندہی کرنا ہے جس پر بظاہر مرکزی دھارے کی سیاست اور میڈیا میں بہت کم بات ہو رہی ہے۔
اگر واقعی پنجاب کے ترقیاتی اخراجات میں سب سے بڑی کمی کی گئی ہے تو پنجاب کے عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا، اس کے نتائج کیا ہوں گے اور اس بوجھ کی تقسیم کا اصول کیا تھا۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
لیکن آخرکار پاکستان کا مستقبل وسائل کی ازسرِ نو تقسیم میں نہیں بلکہ وسائل میں اضافے میں پوشیدہ ہے۔
اصل چیلنج این ایف سی ایوارڈ نہیں، کمزور معیشت ہے۔
اصل مسئلہ صوبوں کا حصہ نہیں، قومی دولت کا محدود حجم ہے۔
اصل ضرورت نئے تنازعات نہیں، زیادہ پیداوار، زیادہ سرمایہ کاری، بہتر ٹیکس نظام اور مضبوط معیشت ہے۔
اگر پاکستان اپنی معیشت کو وسعت دینے، ٹیکس نیٹ بڑھانے، سرکاری اخراجات میں اصلاحات لانے اور 18ویں ترمیم کے مطابق ذمہ داریوں اور وسائل کے درمیان بہتر توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو شاید مستقبل میں نہ وفاق کو صوبوں کے حصے کی طرف دیکھنا پڑے گا اور نہ صوبوں کو اپنے آئینی حقوق کے بارے میں فکرمند ہونا پڑے گا۔
اور شاید یہی اس پوری بحث کا سب سے اہم سبق ہے:
پاکستان کو کیک کی تقسیم پر مسلسل جھگڑنے کے بجائے کیک کو بڑا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
آخری سوال
تاہم اس پوری بحث کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ برقرار ہے۔
اگر قومی مالیاتی استحکام کے لیے قربانی ناگزیر تھی تو سب سے بڑی قربانی پنجاب ہی نے کیوں دی؟
جب تک اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملتا کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں سب سے بڑی کٹوتی کیوں کی گئی، یہ بحث ختم نہی
